پاکستان بار کونسل نے مشرف کے فیصلے پر فوج کی تنقید پر اعتراض اٹھادیا

راچی: پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو خصوصی عدالت کی جانب سے دیے گئے فیصلے پر توہین آمیز تنقید پر اعتراض اٹھادیا۔
ایک اعلامیہ میں کونسل نے کہا کہ اگر کوئی خامی ہے تو اس کے خاتمے کے لیے قانون میں ایک مناسب کورس اور طریقہ کار مہیا کیا گیا ہے لیکن جس طریقے سے فیصلے پر تنقید کی گئی اس سے یہ تاثر گیا کہ عدلیہ سمیت کسی بھی دیگر فورم کے لیے کوئی عزت نہیں تھی۔

پی بی سی کے نائب چیئرمین سید امجد شاہ اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین شیر محمد خان کی جانب سے جاری اس مشترکہ اعلامیے میں کہا یگ اکہ ‘ ڈی جی آئی ایس پی آر کی رائے میں اگر پرویز مشرف کے کیس کے فیصلے میں کچھ خامیاں تھیں تو اس طرح کی خامیاں، اگر کوئی ہے تو ان کو دور کرنے کے لیے اعلیٰ عدالتی فورمز کے سامنے اپیل، نظرثانی یا آئینی درخواست کے ذریعے قانون نے طریقہ کار اور مکمل کورس فراہم کیا ہے لیکن جس طریقے سے فوج کے ایک عہدیدار کی جانب سے خصوصی عدالت کے فیصلے پر تنقید کی گئی، اس سے یہ واضح تاثر ملتا ہے کہ پاکستان میں تمام ادارے مسلح افواج کے ماتحت اور ہیں، ان کی بات ماننا لازم ہے اور عدلیہ سمیت کسی دیگر فورم کے لیے کوئی احترام نہیں ہے’۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ‘ وکلا برادری کی یہ بھی رائے ہے کہ وفاقی حکومت، اس کے وزرا، قانونی افسران اور خصوصی طور پر اٹارنی جنرل فار پاکستان کی جانب سے جو رویہ اپانا گیا وہ بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اقتدار میں موجود پارٹی فوج کی جانب سے لگائی گئی ہے اور اس کا ادارہ ڈرائیونگ سیٹ پر موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ بھی اسی لہجے میں فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں- ساتھ ہی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ‘لہٰذا ہم فوجی عہدیدار سمیت حکومتی عہدیداروں کی جانب سے عدلیہ اور انصاف کی فراہمی کے آئینی طریقے کے بارے میں توہین آمیز رویے کی شدید مذمت کرتےہیں اور اسے مسترد کرتے ہیں’۔
پاکستان بار کونسل نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کو آئینی شقوں کی خلاف ورزی قرار دیا جو توہین عدالت ہے۔
پی بی سی نے ان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزا سنائی گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں