اولیور کروم ویل کون تھا?اس کی قبر کھود کرا سکی لاش کو زنجیروں میں لٹکا دیا گیا۔اس کا سر قلم کردیا گیا-

اولیور کروم ویل کون تھا (1599-1658)؟تھامس کارلی کی 1887 کی کتاب “اولیور کروم ویل کے خطوط اور تقریریں” ونسٹن چرچل کی برطانیہ ، اس کی سابقہ ​​نوآبادیات اور اس کی دنیا میں دولت سے متعلق چار جلدوں کی تاریخ ، جس کا عنوان “انگریزی بولنے والے لوگوں کی تاریخ ،” ہے،جان مورل کی 2004 کی کتاب “کروم ویل ، اولیور (1599-1658) اور مائیکل سیوچرو کی کتاب” خدا کا جلاد ، ” کے مطابق اولیور ایک انگریزفوجی اور سیاسی رہنما تھا جو 1653 سے لے کر اپنی موت تک بیک وقت برطانوی جمہوریہ کا سربراہ اور ریاست کا سربراہ تھا۔
وہ شاہ ہینری ہشتم کے کنبے سے تھا۔ کروم ویل کے پڑدادا سر ہنری ولیمز 2دولت مند زمینداروں میں سے ایک تھے۔وہ ایک شدت پسند مذہبی آدمی تھا ، جس کا خیال تھا کہ خدا اس کی فتوحات میں رہنمائی کررہا ہے۔
ولیور کروم ویل نےجنگیں لڑیں اور کمانڈر کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔کروم ویل 1649 میں کنگ چارلس اول کے ڈیتھ وارنٹ کے دستخط کرنے والوں میں شامل تھے۔ برطانوی بادشاہ کو غداری کے الزام میں پھانسی دی گئی تھی۔
اپریل 1653 میں اس نے زبردستی ملکی پارلیمنٹ کو برخاست کردیا تھا۔1658میں وہ فطری وجوہات کی بناء پر فوت ہوا ، جنوری 1661 میں اس کی قبر کھود کرا سکی لاش کو زنجیروں میں لٹکا دیا گیا۔اس کا سر قلم کردیا گیا اور اسے 1685 تک کھمبے پر سرعام دکھایا گیا تھا۔ کروم ویل ملیریا اور گردے کی پتھری میں مبتلا تھااور یہی اسکے انتقال کی وجہ بنی۔
کروم ویل کو لندن کے مشہور ویسٹ منسٹر ایبی (لندن کے وسط میں واقع شاہی چرچ جو ایک ہزار سال سے زیادہ تاریخ کے ساتھ ایک عالمی ثقافتی ورثہ سائٹ ہے) میں ایک بڑے جنازہ کےبعد دفن کیا گیا۔اگرچہ سابق برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے ذریعہ کروم ویل کو ایک فوجی آمر کے نام سے موسوم کیا گیا تھا ،
لیکن تھامس کارلائل (سکاٹش کے ایک مشہور مورخ ، طنزیہ مصنف ، مضمون نگار ، مترجم ، فلسفی ، ریاضی دان اور استاد تھے)جیسے بہت سے لوگ اسےہیرو سمجھتے تھے۔کروم ویل کی موت کے فورا بعد ہی کئی سوانح حیات شائع کی گئیں۔
یہ کتابیں اس کا ایک متناسب جائزہ پیش کرتی ہیں،ضمیر کی آزادی کے لئے متحرک مہم چلانے والے کے طور پرجو فخر اور عزائم سے نیچے لایا گیا ہے-لاہور( صابر شاہ)- published-in-jang-

اپنا تبصرہ بھیجیں