سندھ کی بیٹی کو بکتر بند میں بٹھا کر دہشت گردوں کی طرح اڈیالہ کے بازاروں میں گھمایا جاتا تھا، آج خوشی کا دن ہے کہ اب میں آزادی سے چل پھر سکتی ہوں، فریال تالپور

کراچی :  سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ اور رکن سندھ اسمبلی میں فریال تالپور نے کہا ہے کہ جیل جاکر جیل کا خوف ختم ہوگیا ہے، راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سندھ کی میں واحد خاتون قیدی تھی، سندھ کی بیٹی کو بکتر بند میں بٹھا کر دہشت گردوں کی طرح اڈیالہ کے بازاروں میں گھمایا جاتا تھا۔آج خوشی کا دن ہے کہ اب میں آزادی سے چل پھر سکتی ہوں، عدلیہ کی شکرگزار ہوں کہ اتنااچھافیصلہ دیا، ان کا کہنا تھا کہ مجھے میرٹ پر ضمانت ملی ہے۔ محترمہ فریال تالپور ضمانت پر رہائی کے بعد پہلی مرتبہ جمعرات کو جب سندھ اسمبلی کے ایوان میں داخل ہوئیں تو حکومتی ارکان نے کھڑے ہوکر بڑے پرتپاک انداز میں ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر اظہار مسرت کے لئے ڈسیک بجائے گئے کچھ ارکان نے جئے بھٹو کے نعرے بھی بلند کئے ۔ فریال تالپور کا کہنا تھا کہ وہ اپنی رہائی کے لئے آواز بلند کرنے پر بلاول بھٹو آصف زرداری ارکان اسمبلی اور عوام کی مشکور ہیں۔انہوں نے اپنے لئے دعائیں کرنے والوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

فریال تالپور نے کہا کہ جیالوں اور جیالیوں کاشکریہ کہ انہوں نے آزمائش کے وقت میرا حوصلہ بلند رکھا۔انہوں نے کہا کہ  میں پیپلزپارٹی کی چھوٹی سی ورکرہوں۔جیل بھی دیکھ لی اب جیل کا خوف ختم ہوگیاہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے اب کوئی خوف نہیں رہا ہے ۔جیل میںایسے ایسے مناظر دیکھے ہیں جو ساری زندگی یاد رکھوں گی ۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی بیٹی کو بکتربند میں بٹھایاگیاجیسے میں دہشت گرد ہوں۔ مجھے اڈیالہ کی بازاروں میں گھمایاجاتاہے ،اسپتال سے گھسیٹ کرنکالاگیا اور اڈیالہ جیل لےجایاگیا ۔ فریال تالپور نے کہا کہ جیل میں قید کے دوران میںنے فیصلہ کرلیا تھا کہ کوئی سہولت نہیں مانگنی ،ہر سماعت پر۔عدالت میں حاضر ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر تو الزام تین کروڑ کا ہے جبکہ میںایک کروڑ روپے تو ہرسال زرعی ٹیکس دیتی ہوں۔ مجھے صرف آصف زرداری کی بہن ہونے کی بنیاد پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا، حکومت نے عورت کے تقدس کا بھی خیال نہیں کیااللہ میری مددکرےگا،میں نے سندھ کی لاج ہر صورت رکھنی تھی۔

اس موقع پر اسپیکر آغا سراج درانی نے بھی رہائی پر انہیں مبارکباد پیش کی ۔ وزیرثقافت سردار شاہ نے فریال تالپور کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ جیلیں اور صعوبتیں صرف پیپلزپارٹی کے لئے ہیں جو نئی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے نام پر جن قوتوں نے جنگ لڑی انکو سنگسارکیاگیا۔تماشے ابھی بھی دیکھ رہے ہیں۔ سردارشاہ کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل چھ پہلی مرتبہ ذوالفقار بھٹو نے شامل کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم پر الزامات نئے نہیں ہیں ہمیشہ لگتے رہے ہیں۔جو جذباتی نقصان ہوا اسکا حساب کون دےگا ؟کیاعدلیہ جواب دے گی۔انہوں نے کہا کہ مہاتیرمحمد نے ذوالفقار بھٹو کی روایت کواپنایامسلم امہ کو اکٹھاکیا لین اس وقت تماش بین تماش بین حکمران بنادئیے گئے ہیںجو ہمارا احتساب کرتے ہیں انکا ویژن مودی کو حکمران بناناتھا ۔ پیپلز پارٹی کے رکن غلام قادر چانڈیو نے کہا کہ نوابشاہ کے لوگوں کا اعزاز ہے ان کو ادی کے نام کا اعزاز دیا ہے ،وقت آنا جانا ہے جو حق اور سچ پر قائم رہے وہ کبھی مٹ نہیں سکتے۔

صوبائی وزیر امتیاز شیخ نے کہا کہ ادی کو گرفتار کیا گیا تو ہم سب پریشان ہوئے ،ادی فریال نے ایک کارکن اور جیالی کا کردار ادا کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ احتساب کا معاملہ نہیں انتقام کا معاملہ ہے یقین ہے سب لوگ بات اور احترام سے مکمل آزاد ہونگے۔شہید بھٹو اور قربانیاں دینے والے کارکن آج بھی تاریخ ہیں۔ فریال تالپور کو مبارکباد دینے والوں میں ماروی راشدی، سہراب سرکی، ذوالفقار شاہ  بھی شامل تھے۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی محمد حسین نے کہا کہ جس وقت فریال ناظمہ تھیں اس وقت میں وزیر تھا۔میں سمجھتا ہوں جب تک کسی پر مقدمہ ثابت نہ ہو وہ شخص بے گناہ ہوتا ہے۔ جیلوں کا سفر ہم سیاستدانوں نے کیا ہے تاہم اگر طلبہ طالبات اور خاص کر خواتین کہیں احتجاج کریں ان پر لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال نہ کیا جائے ،ہماری مائیں بہنیں ہم سب کی مائیں بہنیں ہیں۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ جو خواتین جیل میاں قید ہیں ان کو جیل سے نکال کر ہاوس اریسٹ کیا جائے ۔ وزیر پارلیمانی امورمکیش کمارچاﺅلہ نے کہا کہ  ہم محمد حسین کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔اس بات پر کمیٹی بننی چاہیئے کہ جیل میں قید خواتین کو ہاوس ایسٹ کیا جانا چاہیے ،اس فیصلے سے خواتین کی عذت تکریم کا تحفظ ہوگا۔مکیش کمار نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ خواتین کا مظاہرہ و تو اس پر لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ میںادی کو بھی ضمانت ملنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔