صوبے میں کل 796 بنیادی صحت کے مراکز ہیں جو زیادہ تر کام کررہے ہیں، 22 مراکز بند ہیں لیکن وہاں بھی ڈاکٹرز کی کمی نہیں : وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو

کراچی   : سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ صوبے میں کل 796 بنیادی صحت کے مراکز ہیں جو زیادہ تر کام کررہے ہیں، 22مراکز بند ہیں لیکن وہاں بھی ڈاکٹرز کی کمی نہیں ،اگر اس کے علاوہ کہیں اور بنیادی مراکز صحت کی بندش کی نشاندہی کی جائے جو اسے فوری طورپر کھلوادیا جائے گا۔انہوں نے یہ بات جمعرات کو سندھ اسمبلی میں محکمہ صحت ست متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی ۔وزیر صحت سندھ کا کہنا تھا کہ کچھ مراکز کی عمارتیں کمزرو ہیں اور کچھ میں اسٹاف کی کمی ہے ۔جی ڈی اے کے کے رکن اسمبلی عارف جتوئی کا کہنا تھا کہ میں جب علاقے میں جاتا ہوں تو وہاں بنیادی صحت کے مراکز بہت دور ہیں اور ایسی جگہ پر قائم کئے گئے ہیں جہاں لوگوں کا جانا مشکل ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ کئی مراکز جنگل میں بھی قائم ہیں وہاں کوئی نہیں جاتا۔وزیر صحت عذرا پیچوہو نے کہا کہ  جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں بنائے جاتے ہیں ۔اور جہاں بڑے اسپتال بنانا ممکن نہیں ہوتے وہاں صحت کے مراکز بنائے جاتے ہیں۔ایم کیو ایم کے محمد حسین نے کہا کہ  کراچی کے مختلف علاقوں میں بی ایچ تو بند پڑے ہیں ،کورنگی کہ تین بی ایچ یوز بند ہیں اورعوام کو صحت کی بنیادی سہولت میسر نہیں ہے۔وزیر صحت عذرا پیچوہو شہر میں بیشتر بی ایچ یوز کھلے ہیں ،ضلع شرقی میں تین بنیادی صحت کے مراکز چل رہے ہیں جبکہ کورنگی میں چار کام کر رہے ہیں ۔عارف جتوئی نے استفسار کیا کہ صوبے میں ہیپاٹائٹس بی کے 2 لاکھ 30 ہزار اور سی کے 36 ہزار مریض ہیں ، اتنی زیادہ تعداد کا سبب کیا ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ یپاٹائٹس بی قابل علاج اور پورے اقدامات کررہے ہیں امید ہے اس پر جلد کمی ظاہر ہوگی۔ ہیپاٹائٹس سی پر بھی اسی طرح کا اقدام جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی اور بی میں اضافے کا بنیادی سبب سرنج، بلیڈ اور جنسی اختلاط کے اسباب ہیں۔

وزیر صحت نے کہا کہ ان مسائل پر بھی کام کررہے ہیں امید ہے اس پروگرام میں بہتری ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ سندھ میںہیپاٹائٹس سی کے 4425 مریض مریض علاج کے منتظر ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن حلیم عادل شیخ کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ آٹو لاک سرنج لارہے ہیں جلد ہی اس کا استعمال شروع ہوجائے گا جس کے بعد استعمال شدہ سرنج کے دوبارہ استعمال سے جان چھوٹ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ میں ایچ آئی وی انفیکٹڈ کیس سرکاری اسپتال کے نہیں تھے ،اس عمل میں جو نجی لوگ ملوث تھے انکے خلاف ہم نہیں ہیلتھ کیئر کمیشن کرے گا جو ایک خود مختار ادارہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں متعلقہ شخص گرفتار ہوا تھا جسے عدالت نے ضمانت دی ہوئی ہے ۔

رکن اسمبلی ادیبہ حسن نے دریافت کیا کہ تھرپارکر میں سرکاری اسپتالوں میں ائکارائیزڈ کے کاٹنے کے علاج کی کیا سہولت موجود ہے۔وزیر صحت نے بتایا کہ تھرپارکر میں کل 432 سانپ کاٹنے کے مریض لائے گئے جن کا علاج کیا گیا ،اینٹی سنیک وینم کے 563 وائلز موجود ہیں۔تحریک لبیک پاکستان کی خاتون رکن ثروت فاطمہ کے ایک سوال کے جواب میں وزیر صحت نے بتایا کہ سول اسپتال دادو میںڈاکٹرز کی 151 پوسٹ اور موجود 86 ہیں، پیرامیڈک 86 پوسٹ 74 موجود اور نان ٹیکنیکل اسٹاف 371 سینکشن پوسٹ اور 277 موجود ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی کمی کے لیے پبلک سروس کمیشن کو لکھا ہے نرسنگ اسٹاف کے لیے این ٹی ایس کو لکھا گیاہے۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے تو وہ ترجیح کراچی اور حیدرآباد کو دیتے ہیں ۔ وزیر صحت نے ایوان کو بتایا کہ اسپتالوں میں میل نرسز کے مقابلے خواتین نرسز کی تعداد کم ہوگئی ہے۔