سندھ حکومت لائیو اسٹاک کے شعبہ میں ترقی کے لیے آئندہ سال فروری میں لائیو اسٹاک ایکسپو منعقد کرے گی : صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز عبدالباری پتافی

کراچی :  صوبائی وزیر لائیواسٹاک اینڈ فشریز عبدالباری پتافی نے کہا ہے کہ لائیواسٹاک/ ماہیگیری کا شعبہ ہماری غذائی ضروریات کا اہم جز ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی حوالے سے بھی اہم ہے اس ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے سندھ حکومت کی جانب سے آئیندہ سال فروری کے مہینے میں لائیواسٹاک ایکسپو 2020 کا انعقاد کیا جائے گا تا کہ اس شعبہ میں کام کرنے والے افراد کو روایتی طریقہ کار کو جدید طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنے میں مدد مل سکے۔ یہ بات انہوں نے آج لائیواسٹاک ایکسپو 2020 کے سلسلے میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید سردار شاھ، صوبائی وزیر زراعت محمد اسماعیل راہو، سیکریٹری لائیواسٹاک اینڈ فشریز اعجاز مہیسر، سیکریٹری ثقافت و سیاحت اکبر لغاری، سیکریٹری زراعت آغا ظہیرالدین سیکریٹری اسپورٹس سید امتیاز شاہ، ڈی جی لائیو اسٹاک عبدالقادر جونیجو، ڈی جی فشریز میر الہداد تالپور کے علاوہ پولیس، فنانس و دیگر محکموں کے نمائیندے بھی موجود تھے۔


اس موقع پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر لائیواسٹاک اینڈ فشریز عبدالباری پتافی نے کہا کے ہماری خوراک کا اہم جز لائیواسٹاک اور اس کے وابستہ صنعت ہے، ہمارے ماہیگیر اور دیگر فارمر یا اس شعبہ میں کام کرنے والے افراد روایتی ہنر سے آگے نہیں بڑھ پائے ہیں، اسی ضرورت کو نظر میں رکھتے ہوئے سندھ حکومت لائیواسٹاک ایکسپو منقعد کرے گی تا کہ ماہیگیر، فارمر، بریڈرس، ونیٹری ڈاکٹرز، ریسرچرس، دواساز کمپنیاں، ویکسینیٹرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ایک مقام پر جمع کر کے ایک ایسا موقع فراہم کیا جائے جس سے اس شعبہ میں کام کرنے والوں کو ایک دوسرے سے نہ صرف سیکھنے میں مدد ملے بلکہ ضروریات سے بھی آگاہی مل سکے۔ صوبائی وزیر عبدالباری پتافی نے کہا کے لائیواسٹاک کی ترقی میں روایتی فارمر کا اہم کردار ہے جسے مارکیٹ سے آشنائی کی ضرورت ہے دنیا جس تیزی سے جدت کی طرف جا رہی ہے اس حساب سے ہماری چیزیں ایکسپورٹ کے قابل نہیں رہیں گی،

اس لیے ہمیں فارمر اور مارکیٹ کی ضرورت کو سمجھنا ہوگا۔ صوبائی وزیر لائیواسٹاک اینڈ فشریز عبدالباری پتافی نے مزید کہا ہے کہ دنیا بھر میں فوڈ سیکیورٹی کے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جن ممالک کو آئیندہ چند سالوں میں اس طرح کے مسائل درپیش آ سکتے ہیں، صوبائی وزیر نے کہا کے اس ایکسپو میں پنجاب، بلوچستان، کے پی کے اور دیگر علائقوں کی شمولیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ زراعت اور لائیواسٹاک کا چولی دامن کا ساتھ ہے، سندھ کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ان شعبوں میں جدت کی ضرورت پر زور دیا جائے۔ جبکہ صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید سردار شاھ نے کہا کہ محکمہ ثقافت کی جانب سے ایکسپو کے موقع پر روایتی موسیقی و دیگر پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ ہمارے فارمر کو تفریح کے مواقع نہ ملنے کے برابر ہیں، اس ایکسپو میں ثقافت سے جڑے ہر پہلو کو یکجا کیا جائے گا۔ اجلاس میں ایکسپو 2020 کے حوالے سے سیکیورٹی و دیگر معاملات کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کئے گئے ۔