سندھ حکومت کا افسران کا  سروسز ریکارڈ ڈیجیٹائز کرنے کا فیصلہ

چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی صدارت میں سیکریٹریز کمیٹی کا اہم اجلاس
اینٹی کرپشن مقدمات، ترقیاتی منصوبے، ملازمین کی پنشن اور پروموشن، ایڈہاک ملازمین، سندھ پرفارمینس مینجمنٹ سسٹم، سرکاری گاڑیوں کی واپسی ، شجر کاری مہم سمیت 24 ایجنڈا زیر غور
   کراچی :  چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیرِ صدارت سیکریٹریز کمیٹی کا اہم اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اینٹی کرپشن مقدمات، ترقیاتی منصوبے، ملازمین کی پنشن اور پروموشن، ایڈہاک ملازمین، سندھ پرفارمینس مینجمنٹ سسٹم، سرکاری گاڑیوں کی واپسی ، شجر کاری مہم سمیت 24 ایجنڈا زیر غور آئے۔اجلاس میں چیئرپرسن پلاننگ بورڈ ناہید شاہ درانی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پروہز، سیکریٹری لیبر و اطلاعات عبد الرشید سولنگی، سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریٹر خالد حیدر شاہ، سیکریٹری ایکسائیز حلیم شیخ سمیت، سیکریٹری سروسز نوید احمد شیخ، سیکریٹری امپلیمینٹیشن ریاض احمد صدیقی سمیت  تمام صوبائی محکموں کے سیکریٹری، ڈویڑن کمشنر، گورنر ہاس اور سی ایم سیکریٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرپرسن پلاننگ بورڈ، سیکریٹری امپلیمینٹیشن، سیکریٹری سروسز اور انچارج سندھ پرفارمینس مینجمنٹ سسٹم نے بریفنگ دی۔


   بریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے محکموں کو ملازمین کے خلاف مقدمات بھیجے ہیں جو متعلقہ محکموں میں زیر التوا ہیں۔  اجلاس میں بتایا گیا کے مختلف محکموں نے ملازمین کی ترقیوں کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں اور ڈپارٹمنٹ پروموشن کمیٹی کے اجلاس کئے ہیں جن میں محکمہ زراعت نے 22 اجلاس کر کے 241 افسران اور 665 ملازمین کو ترقیاں دی ہیں، اس طرح بورڈ آف ریونیو نے 6 افسران اور 40 ملازمین کو ترقیاں دی اور کالیج ایجوکیشن محکمے نے اب تک  110 چھوٹے ملازمین کو ترقیاں دی ہیں۔ اجلاس میں صوبائی محکموں کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے جاری فنڈز کے متعلق بھی بتایا گیا۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ صوبائی محکموں کے ملازمین کے پنشن کے مقدمات کو جلد حل کیا جائے اور کسی بھی ملازم کے پینشن میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہونے کہا کے سندھ حکومت ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی رہے ہے اور جون 2020 تک 700 سے زائد ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا۔ ممتاز علی شاہ نے مزید کہا کے تمام سیکریٹری پبلک اکاو نٹس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کر کے پیراز کو حل کروائیں، انہونے کہا کے پبلک اکاو نٹس کمیٹی کے اعترازات کئے عرصے سے محکموں میں ہین جن کے صحیح جواب دے کر اعترازات ختم کروائیں۔ انہونے کہا کے سپریم کورٹ ہائے کورٹ اور لوور جوڈیشری میں وقت پر جواب داخل کریں۔ تمام محکمے کورٹ مقدمات کے لئے الگ سیکشن بنائیں اور 3 روز میں فوکل پرسن مقرر کریں۔

 


انہوں نے کہا کے سندھ حکومت تمام افسران کا ریکارڈ ڈیجیٹائز کر رہی ہے اس لئے 15 روز میں افسران کو رکارڈ محکمہ سروسز کو بھیجا جائے۔  اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ نے سرکاری گاڑیوں واپسی پر افسران پر برہمی کا اظہار کیا انہوں نے کہا غیر متعلقہ افراد سے سرکاری گاڑیاں واپس لے جائے جو گاڑی واپس نہیں کرے اسکا رکارڈ فراہم کیا جائے صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں سخت کاروائی کی جائے گی اور ایف آئی آر بھی درج کروائی جائے گی۔
اجلاس میں مختلف صوبائی سیکریٹریز نے سیکریٹریٹ میں دفاتر کی کمی کا بتایا جس پر چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن اور سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز سے سیکریٹریٹ کامپلیکس کی رپورٹ 15 روز میں جمع کروانی کا حکم دیا۔ اجلاس میں سیکریٹری جنگلات نے بتایا کے محکمہ جنگلات نے صوبے میں حکومت کی طرف سے دئے گئے ٹاسک کے مطابق شجر کاری کی ہے اور اس کے محکمہ آبپاشی نے 81757 اور محکمہ کالج ایجوکیشن نے 44854 پودے لگائیں ہیں۔