گوگل کو دھوکا دینے اور انٹرنیٹ پر ساکھ بہتر بنانے کیلئے کمپنیاں قائم

انٹرنیٹ کی دنیا پر ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے اب نئی طرح کی ٹیکنالوجیکل کمپنیاں سامنے آگئیں جو انٹرنیٹ پر آپ کی ساکھ کو بہتر بنانے کا کام کریں گی۔

ان کمپنیوں کو ریپیوٹیشن منیجمنٹ کمپنیز کا نام دیا گیا ہے۔

کمپنیاں ماضی میں کسی اسکینڈل کا شکار رہنے والی شخصیات یا ان سے متعلق پیش کی جانے والی منفی تصویر کو وہ گوگل سرچ میں آنے سے روکیں گی جبکہ اس کی جگہ پر متعلقہ شخص کی بہتری تصویر سامنے آئے گی۔

غیر ملکی ٹیبلائیڈ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکا میں اسٹیٹس لیبس کے نام سے ایک کمپنی کام کر رہی ہے جسے ان کارپوریشن کمپنیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جو سال 2019 کے دوران امریکا کی ابھرتی ہوئی کمپنیوں میں سے ایک ہے
اس کمپنی کی خصوصیات پر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے روشنی ڈالی جبکہ اس کے کام کرنے کے طریقہ کار کو بھی واضح کیا۔

شائع رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر موجود منفی اور جھوٹی خبروں کے اس سیلاب میں یہ کمپنیاں مثبت کہانیاں پیش کرنے کی کوشش کریں گی۔

یہ کمپنی مخلتف کلائنٹ کے ساتھ کام کر رہی ہے جس میں ڈیٹنگ ویب سائٹ کی سابقہ ممبر اور یونیورسٹی آف میسوری کے پروفیسر بھی شامل ہیں جنہیں ایک وائرل ویڈیو کے بعد قدامت پسند میڈیا میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایک قانونی معاونت فراہم کرنے والی کمپنی سے تعلق رکھنے والے وکیل ریان اسٹون راک کا کہنا تھا کہ ایک جھوٹے الزام کی وجہ سے کسی شخص یا کمپنی کی مشکل سے بنائی گئی عزت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
انہوں نے سرچ انجن اوپٹمائزیشن (ایس ای او) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کے توازن کی وجہ گوگل کا پہلا صفحہ اکثر کچھ لوگوں کے لیے آخری تاثر ثابت ہوتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کمپنی نے ایسی کہانیوں اور خبروں کی ایک وسیع تعداد تیار کی ہوئی ہے جو گوگل سرچ انجن کو ان کی حمایت میں کام کرنے کی اطلاع دیتی ہیں۔

اپنی ساکھ کو انٹرنیٹ پر بہتر بنانے کے لیے کمپنی کے کلائنٹ نے اسے 4 سے 5 ہزار امریکی ڈالر ماہانہ کی ادائیگی کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کی وجہ سے ان کے کاروبار میں کوئی فائدہ نہ ہوسکا لیکن اس کی وجہ سے ان کی معاشرتی زندگی پر ضرور اثر پڑا ہے۔
دوسری جانب گوگل نے ایسی ویب سائٹس کو بند کردیا جنہوں نے اس شخص سے متعلق مثبت کہانیاں شائع کیں۔

اپنے ایک بیان میں گوگل نے واضح کیا کہ کسی کی ساکھ کو اپنے طور پر بہتر کرنے کی کسی بھی کوشش میں دھوکا دینے والی حکمت عملی کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری جانب ایسے امیر شخصیات جو ماضی میں کسی اسکینڈل کا شکار رہیں اور اس کی وجہ سے گوگل پر ان کی ساکھ بھی منفی دکھائی دیتی ہے، وہ لوگ اس کمپنی سے رابطے کر رہے ہیں