سندھ کے سیکرٹری بلدیات روشن علی شیخ وزیراعلی سیکرٹری کی اجازت سے بین الصوبائی کانفرنس میں شرکت کے لیے کوئٹہ میں ہیں

سندھ کے سیکرٹری بلدیات روشن علی شیخ وزیراعلی سیکرٹری کی اجازت سے بین الصوبائی کانفرنس میں شرکت کے لیے کوئٹہ میں ہیں یہاں سندھ کے وزیر بلدیات بھی شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں ۔بین الصوبائی کانفرنس میں صوبے کی نمائندگی اور ضروری شرکت  کی وجہ سے سندھ کے وزیر بلدیات روشن علی شیخ 18 دسمبر کو کراچی میں بلائی گئی چیف سیکرٹری کی زیر صدارت سیکریٹریز میٹنگ میں شرکت نہیں کرسکتے تھے اس لیے پیشگی اجازت لے کر کوئٹہ گئے ۔چیف سیکرٹری سندھ ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ اہم سیکرٹریز میٹنگ میں سیکرٹری بلدیات سندھ روشن علی شیخ کی عدم موجودگی محسوس کی گئی اور بعض حلقوں میں یہ تاثر دیا گیا کہ وہ بہانہ بنا کر اسلام آباد گئے ہیں حالانکہ اسلام آباد میں نہ تو کوئی عدالتی کیس تھا نا ہی کوئی سرکاری مصروفیت ۔بعض اخبارات میں یہ خبر بھی آئی کہ  سندھ کے سیکرٹری بلدیات روشن علی شیخ نے چیف سیکرٹری سندھ کو نو لفٹ بناتے ہوئے اجلاس میں شرکت نہیں کی ۔یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ سندھ کے سیکرٹری بلدیات خود کو بہت طاقتور محسوس کرتے ہیں اور چیف سیکٹری کے احکامات کو لفٹ نہیں کراتے ۔اس سلسلے میں جب چیف سیکرٹری  آفس اور سیکرٹری بلدیات سندھ روشن علی شیخ سے رابطہ کیا گیا تو دونوں جانب سے یہ بتایا گیا کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں حقیقت یہ ہے کہ روشن علی شیخ وزیراعلی اور چیف سیکرٹری کی منظوری سے ہی بین الصوبائی کانفرنس میں شرکت کے لئے کوئٹہ گئے ہیں یہاں صوبے کی نمائندگی کر رہے ہیں اور صوبائی وزیر بلدیات بھی آج کوئٹہ پہنچ رہے ہیں ۔————-
سندھ حکومت کا افسران کا  سروسزرکارڈ ڈیجیٹائز کرنے کا فیصلہ۔
چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی صدارت میں سیکریٹریزکمیٹی کا اہم اجلاس۔
اینٹی کرپشن مقدمات، ترقیاتی منصوبے، ملازمین کی پنشن اورپروموشن، ایڈہاک ملازمین، سندھ پرفارمینس مینجمنٹ سسٹم، سرکاری گاڑیوں کی واپسی ، شجرکاری مہم سمیت 24 ایجنڈا زیر غور
   کراچی (18 دسمبر2019) چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیرِ صدارت سیکریٹریز کمیٹی کا اہم اجلاسسندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اینٹی کرپشن مقدمات، ترقیاتی منصوبے، ملازمینکی پنشن اور پروموشن، ایڈہاک ملازمین، سندھ پرفارمینس مینجمنٹ سسٹم، سرکاری گاڑیوںکی واپسی ، شجر کاری مہم سمیت 24 ایجنڈا زیر غور آئے۔اجلاس میں چیئرپرسن پلاننگ بورڈناہید شاہ درانی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پروہز، سیکریٹری لیبر و اطلاعاتعبد الرشید سولنگی، سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریٹر خالد حیدر شاہ، سیکریٹری ایکسائیز حلیمشیخ سمیت، سیکریٹری سروسز نوید احمد شیخ، سیکریٹری امپلیمینٹیشن ریاض احمد صدیقی سمیت  تمام صوبائی محکموں کے سیکریٹری، ڈویڑن کمشنر، گورنرہاس اور سی ایم سیکریٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرپرسن پلاننگبورڈ، سیکریٹری امپلیمینٹیشن، سیکریٹری سروسز اور انچارج سندھ پرفارمینس مینجمنٹ سسٹمنے بریفنگ دی۔
   بریفنگمیں بتایا گیا کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے محکموں کو ملازمین کے خلاف مقدمات بھیجے ہیںجو متعلقہ محکموں میں زیر التوا ہیں۔  اجلاسمیں بتایا گیا کے مختلف محکموں نے ملازمین کی ترقیوں کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں اورڈپارٹمنٹ پروموشن کمیٹی کے اجلاس کئے ہیں جن میں محکمہ زراعت نے 22 اجلاس کر کے241 افسران اور 665 ملازمین کو ترقیاں دی ہیں، اس طرح بورڈ آف ریونیو نے 6 افسران اور40 ملازمین کو ترقیاں دی اور کالیج ایجوکیشن محکمے نے اب تک  110 چھوٹے ملازمین کو ترقیاں دی ہیں۔ اجلاس میںصوبائی محکموں کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے جاری فنڈز کے متعلق بھی بتایا گیا۔ اجلاسمیں چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ صوبائی محکموں کے ملازمین کے پنشنکے مقدمات کو جلد حل کیا جائے اور کسی بھی ملازم کے پینشن میں تاخیر برداشت نہیں کیجائے گی۔ انہونے کہا کے سندھ حکومت ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی رہے ہے اور جون2020 تک 700 سے زائد ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا۔ ممتاز علی شاہ نے مزید کہاکے تمام سیکریٹری پبلک اکاو نٹس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کر کے پیراز کو حل کروائیں،انہونے کہا کے پبلک اکاو نٹس کمیٹی کے اعترازات کئے عرصے سے محکموں میں ہین جن کے صحیحجواب دے کر اعترازات ختم کروائیں۔ انہونے کہا کے سپریم کورٹ ہائے کورٹ اور لوور جوڈیشریمیں وقت پر جواب داخل کریں۔ تمام محکمے کورٹ مقدمات کے لئے الگ سیکشن بنائیں اور 3روز میں فوکل پرسن مقرر کریں۔
انہونے کہا کے سندھ حکومت تمام کاڈر افسران کا رکارڈ ڈیجیٹائزکر رہی ہے اس لئے 15 روز میں افسران کو رکارڈ محکمہ سروسز کو بھیجا جائے۔  اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھنے سرکاری گاڑیوں واپسی پر افسران پر برہمی کا اظہار کیا انہوں نے کہا غیر متعلقہ افرادسے سرکاری گاڑیاں واپس لے جائے جو گاڑی واپس نہیں کرے اسکا رکارڈ فراہم کیا جائے صوبائیکابینہ کے فیصلے کی روشنی میں سخت کاروائی کی جائے گی اور ایف آئی آر بھی درج کروائیجائے گی۔
اجلاس میں مختلف صوبائی سیکریٹریز نے سیکریٹریٹ میں دفاترکی کمی کا بتایا جس پر چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشناور سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز سے سیکریٹریٹ کامپلیکس کی رپورٹ 15 روز میں جمع کروانیکا حکم دیا۔ اجلاس میں سیکریٹری جنگلات نے بتایا کےمحکمہ جنگلات نے صوبے میں حکومت کی طرف سے دئے گئے ٹاسک کے مطابق شجر کاری کی ہے اوراس کے محکمہ آبپاشی نے 81757 اور محکمہ کالج ایجوکیشن نے 44854 پودے لگائیں ہیں۔





اپنا تبصرہ بھیجیں