پراسرار بیماری کی شکار دنیا کی واحد مریضہ

کوئی بھی پُراسرار بیماری انسان کو اکثر اپنی ہیبت کا شکار بنا لیتی ہے، تاہم یہ بیماریاں بعد میں دیگر مریضوں میں بھی دیکھنے میں آتی ہیں۔

برطانیہ میں ایک بچی پیدائشی طور پر ایسی پراسرار بیماری میں مبتلا ہے جس کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ وہ اس مرض کی شکار دنیا کی واحد بچی ہے۔

اس بیماری کی وجہ سے یہ معصوم بچی اپنی عمر سے زائد دکھائی دیتی ہے۔

اسلا کلپیٹرک سکریٹن نامی یہ 2 سالہ بچی مینڈیبلوارکل ڈسپلیسیا (ایم اے ڈی) نامی اپنی نوعیت کی واحد بیماری کا شکار ہیں
یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو بچے کی پیدائش سے قبل ہی اسے جکڑ لیتی ہے جسے بینجمن بٹن ڈیزیز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اس کی بیماری کے بارے میں جاننے کے بعد جب ڈاکٹروں نے اس کے مزید ٹیسٹ کروائے تو وہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ اس کی جین میں موجود تغیرات ایسے ہیں جنہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

اس بچی کے والدین یہ دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے جب بچی کے معالج نے خود بھی اس بیماری کے بارے میں جاننے کے لیے گوگل کا سہارا لیا۔

دو سال کی عمر میں اسلا کا وزن 6 اعشاریہ 8 کلوگرام ہے اور وہ ٹھیک سے بات بھی نہیں کر سکتی ہے، تاہم وہ اپنی بات سمجھانے کے لیے اشاروں کی مدد لیتی ہے
اس بیماری کی وجہ سے بچی کی ہڈیاں بھی مسخ دکھائی دیتی ہیں۔

اس حوالے سے بچی کے والد کا کہنا تھا کہ اس کی حالت دیکھ کر خاندان بہت پریشان ہے، تاہم وہ گھر کا ماحول ٹھیک رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں کرتے ہیں اور کبھی کبھی تفریحاً انہیں ’دادی ماں‘ بھی کہہ کر پکارتے ہیں۔

والدین بچی کے مستقبل اور اس کی صحت سے متعلق بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس کے دل کو مسائل کا سامنا ہے جبکہ اس کی سانس کی نالی چھوٹی ہونے کی وجہ سے اسے سانس لینے میں بھی شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

اس وقت اسلا نے رینگنا تو شروع کردیا ہے اور کچھ الفاظ بھی بولنے سیکھ لیے ہیں لیکن پھر بھی بات چیت کے لیے اس کی زبان ’اشاروں‘ کی زبان ہی ہے
ان کی والدہ کہتی ہیں کہ ڈاکٹروں نے انہیں یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ ان کی بیٹی کی طبعیت میں کیسے بہتری آئے گی؟ نہ ہی کسی نے اس دوا کے بارے میں بتایا جو اس میں پیدا ہونے والی کمی کو پورا کر سکے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹروں نے ایم ڈی کی میڈیکل لٹریچر سے 7 مثالیں تو دیں لیکن اسلا میں ہونے والی بیماری کا تعلق کسی سے نہیں تھا۔

اپنی بیٹی کے حوالے سے والدہ کہتی ہیں کہ وہ خود کو اچھے سے سمجھتی ہیں وہ بہت تیز ہیں، وہ اپنے جذبات کا اظہار بھی کرتی ہیں اور ہمارے اور اپنی بڑی بہن کے ساتھ (اشاروں میں) بات چیت بھی کرتی ہیں۔

مینڈیبلوارکل ڈسپلیسیا (ایم اے ڈی) یہ ایک نایاب بیماری ہے جس سے متعلق اب تک صرف 40 کیسز سامنے آئے ہیں۔

ایم اے ڈی جینیاتی تغیرات کی وجہ سے پیدائش سے قبل ہی بچوں میں پیدا ہوجاتی ہے جو بچوں کی ہڈیوں اور جلد کو متاثر کرتی ہیں اور یہ ٹھیک طرح سے نشونما نہیں کر پاتیں