صوبہ میں بچوں کی غذائیت میں کمی کو پورا کرنے اور انکی صحت مند زندگی کا خیال رکھنے کے لئے بینظیر نشوونما پروگرام کا آغاز ہوگیا

لاہور(جنرل رپورٹر)صوبہ میں بچوں کی غذائیت میں کمی کو پورا کرنے اور انکی صحت مند زندگی کا خیال رکھنے کے لئے بینظیر نشوونما پروگرام کا آغاز ہوگیا۔ یہ بات آج صوبائی وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر خواجہ عمران نذیر نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ بینظیر نشوونما پروگرام کی لانچنگ تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے بینظیر نشوونما سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔پروگرام کی تقریب میں ڈی جی ہیلتھ سروسز ڈاکٹر الیاس گوندل، پروگرام ڈائریکٹر IRMNCH ڈاکٹر خلیل، ورلڈ فوڈ پروگرام کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر عمارہ خان، یونیسف پنجاب سے میڈم صباحت، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے ڈاکٹر یحیی گلزار سمیت سوشل میڈیا موبلائزرز کی بھاری تعداد موجود تھی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے 26 اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں میں نشوونما سنٹرز قائم کئے جارہے ہیں جہاں بچوں کو مائیکرونیوٹریشن سپلیمنٹس مفت فراہم کئے جائیں گے۔صوبائی وبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بچوں کی غزائیت، نشوونما کے لئے ابتدائی 1000 دن نہایت اہمیت کے حامل ہیں، ہم اپنے سماجی رویوں کے ذریعے بچوں کی صحت و زندگی پر بہتر اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی صحت، اور غذائیت ے حوالہ سے والدین کو بھرپور آگہی کی ضرورت ہے۔ان سنٹرز کے قیام سے انہیں مکمل آگہی حاصل ہوسکے گی۔صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ پنجاب میں بچوں کی بھرپور غذائیت اور تربیت فراہم کرکے ایک صحتمند قوم کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی صحت، زندگی کے تحفظ کے لئے پریوینٹو پروگرام
(preventive program)
کو فعال کرنا میری اولین ترجیح ہے۔خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے ذریعے ہیلتھ سسٹم کو ریوہمپ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کام شروع کیا جائے تو وہ رک جاتا ہے، پالیسی میں تسلسل کا نہ ہونا اصل رکاوٹ ہے، خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے کرپشن کے ذریعے ہیلتھ سسٹم تباہ کردیا، پوسٹنگ کے لئے بھاری رقوم لی جاتی رہیں، صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ نیشنل نیوٹریشن ٹاسک فورس، سٹیک ہولڈرز اور میڈیا سے ملکر بچوں کی صحتد زندگی پر سفارشات تیار کریں گے اور ان سفارشات کو کریکولم کا حصہ بنایا جائے گا، خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ہمارے ڈونرز، پارٹنرز کو ہمارے بچوں کا خیال ہے، ہمیں خود اپنے بچوں کی زندگیوں کا سوچنا ہوگا۔ نشوونما پروگرام کی تقریب سے پارٹنرز کے نمائندوں، ڈی جی ہیلتھ سروسز اور پی ڈی آئی آر ایم این سی ایچ نے خطاب کیا۔بعدازاں صوبائی وزیر صحت نے ان میں شیلڈز تقسیم کیں۔

========================
لاہور(مدثر قدیر)ایڈشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ گورنمنٹ لیڈی ایچی سن ہسپتال ڈاکٹر رانا سہیل کا اوپی ڈی میں جاری ری ویمپنگ کا دورہ, انھوں نے اوپی ڈی میں جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیا اور موقع پر موجود عملہ کو ہدایات جاری کیں ان کا کہنا تھا کہ اوپی ڈی میں فیملی پلاننگ کا پورا یونٹ تعمیر کیا جارہا ہےجس میں جدید آپریشن تھیٹر بھی شامل ہےجبکہ اسی بلڈنگ میں مریضوں کی سہولت کے لیے دووارڈز کی تعمیر بھی جاری ہے جو یونٹ 4اور5ہیں اورری ویمپنگ کا کام اختتامی مراحل کی جانب بڑھ رہا ہے.لیڈی ایچی ہسپتال شہر کے وسط میں واقع ہے جو زچہ بچہ کے حوالے سےنہ صرف اردگرد کے مریضوں کو سہولیات فراہم کررہا بلکہ یہاں پر دیگر شہروں سے بھی مریض ریفر ہوکر آتے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ تمام مریضوں کو حکومتی احکامات کی روشنی میں تمام طبی سہولیات فراہم کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں.
=========================
لاہور(جنرل رپورٹر)پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر چوہدری سرفراز، رانا لیاقت، سعید نامدار، رانا انوار، نادیہ جمشید، ملک مستنصر باللہ اعوان، مصطفیٰ سندھو ،آغا سلامت، اسلم گھمن ، چوہدری محمد علی، میاں ارشد، رانا الیاس، چوہدری عباس، طارق زیدی، مرزا طارق، رانا خالد، طاہر اسلام، غفار اعوان، نذیر گجر، اختر بیگ، مصطفیٰ وٹو ودیگر نے کہا ہے کہ دیگر محکموں میں ملازمین کو پرموشن ملنے پر چند روز میں اگلی پوسٹ پر ایڈجسٹمنٹ مل جاتی ہے لیکن اساتذہ کو پرموشن نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد کئی کئی ماہ تک ایڈجسٹمنٹ کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے پہلے ہی اساتذہ کو 10 سے 15 سال بعد پرموشن ملتی ہے تو بذریعہ SIS آن لائن ایڈجسٹمنٹ کے لئے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے گزشتہ 5 سالوں سے 14 ہزار ایس ایس ایز اپنی مستقلی کیلئے ذہنی اذیت سے دوچار ہیں لیٹ بی ایڈ اساتذہ کنٹریکٹ میں توسیع نہ ہونے کی وجہ سے 2 سال سے تنخواہیں بند ہونے پر فاقہ کشی کا شکار ہیں پروفیشنل ڈگری ہولڈر اساتذہ کو ڈگریز کی QEDC سے ایکولنس نہ ملنے پر ان سروس پرموشن سے محروم چلے آ رہے ہیں سوا لاکھ اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں مزید اساتذہ کو ریٹائرمنٹ سے قبل LPR دینے سے مزید اساتذہ کی کمی واقع ہو جائے گی جس کا براہ راست اثر جاری داخلہ مہم پر ہوگا لیو انکیشمنٹ کا مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ ذہنی اضطراب میں مبتلا ہیں SIS کی وجہ سے اساتذہ کے مسائل کم نہیں ہوئے بلکہ ان میں اضافہ ہوا ہے اساتذہ کو حسب سابق مینوئل طریقہ کار بھی اپنانا پڑتا ہے لہذا وزیر اعلیٰ پنجاب ، وزیر تعلیم اور سیکرٹری سکول پنجاب سے مطالبہ ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے پرموٹ ہونے والے اساتذہ کی ایڈجسٹمنٹ کے لئے SIS کو فی الفور اوپن کیا جائے تاکہ اساتذہ اگلی پوسٹوں پر ایڈجسٹ ہو سکیں یا پھر انہیں مینوئل طریقہ سے ایڈجسٹ کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں ، لیٹ بی ایڈ اساتذہ کے کنٹریکٹ میں توسیع دے کر انہیں فاقہ کشی سے بچایا جائے 14 ہزار ایس ایس ایز کو مستقل کرکے انہیں ذہنی اذیت سے چھٹکارا دلایا جائے ، پروفیشنل ڈگری کی ایکولنس جلد از جلد جاری کیں جائیں ، اساتذہ کو LPR دینے پر پابندی عائد کی جائے اور حسب وعدہ لیو انکیشمنٹ کے نوٹیفکیشن کو ڈی نوٹیفائڈ کیا جائے تاکہ اساتذہ میں پائی جانے والی بے چینی و احساس محرومی کا خاتمہ ہو سکے۔
====================

لاہور(جنرل رپورٹر)وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی ہدایت پر مانیٹرنگ ٹیموں نے خفیہ اطلاعات پر ڈی جی خان کے امتحانی مراکز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے تین سنٹرز میں عملہ کی ملی بھگت سے نقل کرتے امیدوار رنگے ہاتھوں پکڑ لئے۔ ٹیموں نے گورنمٹ ہائی سکول خان پور بگا شیر، گورنمنٹ ہائی سکول رنگ پور اور گورنمنٹ ایسوسی ایٹ ڈگری کالج رنگ پور میں طلبہ کو سر عام پکڑا۔ امیدواروں سے جامہ تلاشی کے دوران پرچیاں اور موبائل فون بھی برآمد ہوئے۔ تینوں سنٹرز میں متعین امتحانی عملہ میں سے اکثر غیر حاضر بھی پائے گئے جبکہ عملہ کے بعض اراکین کی جگہ دیگر افراد بھی ڈیوٹی کرتے پائے گئے۔ بگا شیر سنٹر میں اسی سکول کے اساتذہ کو نگران کے طور پر ڈیوٹی کرتے پکڑا گیا۔ مانیٹرنگ ٹیموں نے رنگ پور سنٹر میں مائیکرو فوٹو کاپیوں کے ذریعے امیدواروں کو کھلے عام نقل کرتے بھی پایا۔ سنٹرز میں امتحانی گتوں پر معاون پوائنٹس بھی لکھے پکڑے گئے۔ مانیٹرنگ ٹیم نے نگران عملہ کا ایک شخص گرفتار کروا دیا۔ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملوث امیدواروں کے خلاف یو ایم سی کیس، ایف آئی آر کے اندراج اور نگران عملہ کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ رانا سکندر حیات نے اگلے سال تک بوٹی مافیا کے مکمل خاتمے اور نقل کا چانس زیرو کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مافیا نے جن امیدواروں سے زبردستی پیسے لئے، ان سے ریکوریاں بھی کروائی جائیں گی جبکہ گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف 16 ایم پی او کے تحت مقدمہ درج کروانے کا فیصلہ بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹر کے شروع ہونے والے امتحانات میں نقل کے حوالے سے زیرو ٹالیرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
====================

کمشنر/چیئرمین لاہور بورڈ محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر کنٹرولر امتحانات محمدزاہد میاں کے چھاپے
امتحانی مرکز 12 مریدکے کے سپرنٹنڈنٹ شہزاد احمدکو امتحانی ڈیوٹی سے برخاست اور پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کا آغاز
پرچہ اُردو 855 امتحانی مراکز پر 292712 اُمیدواران نے پُرسکون ماحول میں دیا
آج سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ (جماعت نہم) پہلا سالانہ 2024 کے سلسلہ میں پرچہ اُردو لازمی لاہور بورڈ کی حدود میں واقع تمام امتحانی مراکز پر کڑی نگرانی میں منعقد ہوا کمشنر چیئرمین لاہور بورڈ کی ہدایت پر کنٹرولر امتحانات محمد زاہد میاں نے جلو موڑ اور جی ٹی روڈ مناواں کے مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیا دوران انسپکشن جلو موڑ ہائیرسیکنڈری سکول کے امتحانی مرکز میں نگران نواب نبی اپنے فرائض میں غفلت برتتے ہوئے پکڑا گیا جس کو فوری طور پر امتحانی ڈیوٹی سے برخاست کر دیا گیا اور اس کے خلاف کاروائی کے لیے لکھا گیا۔
کنٹرولر امتحانات لاہور بورڈ کی ہدایت پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مریدکے نے پنجاب کالج آف کامرس مریدکے میں قائم امتحانی مرکز پر چھاپہ مارا جہاں پر سینٹر سپرنٹنڈنٹ شہزاد احمد ایس ایس ٹی گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول ساہوکی ملیاں نے ایک پرائیویٹ نگران محمد یوسف کو ڈیوٹی پر معمور کیا ہوا تھا۔دونوں کو امتحانی ڈیوٹی سے برخاست کر کے سپرنٹنڈنٹ کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
کنٹرولر امتحانات نے تمام موبائل انسپکٹر ،اکامتی انسپکٹر،ڈسٹری بیوٹرز انسپکٹرز اور سپیشل سکواڈ کوہدایت کی ہے کہ امتحانی مراکز کی صبح اور شام کے سیشن میں بھرپور نگرانی کو جاری رکھیں اور اپنی رپورٹ شام کے سیشن کے فورا بعد کنٹرولر آفس کو جمع کروائیں۔ پرچہ اُردو تمام امتحانی مراکز پر پُرسکون ماحول میں ہوا۔
=====================

لاہور(جنرل رپورٹر)روڈ سیفٹی کیلئے وزن کو چیک کرنے کیلئے پنجاب آئی ٹی بورڈ کے پنجاب ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ کیلئے وضع کردہ ایکسل لوڈ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے اب تک 18 سو سے زائد اوور لوڈڈ گاڑیاں کانٹے کے ذریعے رجسٹر کی جا چکی ہیں جبکہ 47 ہزار سے زائد ٹرپس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ سسٹم کے ذریعے اب تک اوور لوڈڈ گاڑیوں کے 33 ہزار سے زائد چالان کیے جا چکے ہیں۔ سسٹم کا مقصد سڑکوں پر اوور لوڈڈ گاڑیوں پر پابندی لگا کر مسافروں کی سڑک پر حفاظت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ سرکاری محکموں کیلئے مال برداری میں شفافیت لانا ہے۔ اس حوالے سے پی آئی ٹی بی چیئرمین فیصل یوسف نے کہا کہ ایکسل لوڈ مینجمنٹ سسٹم حکومت کیلئے ریونیو پیدا کرنے، سڑکوں کی پائیداری اور بحالی کی لاگت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔