پنجاب اسمبلی اجلاس کے دوران صحافیوں کو کوریج میں درپیش مسائل کے پیش نظر پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے ایک بڑا میڈیاہال تعمیر کیاجارہاہے جو بجٹ سیشن سے قبل تیار ہوجائے گاج

لاہور(جنرل رپورٹر)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہاہے کہ پنجاب اسمبلی اجلاس کے دوران صحافیوں کو کوریج میں درپیش مسائل کے پیش نظر پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے ایک بڑا میڈیاہال تعمیر کیاجارہاہے جو بجٹ سیشن سے قبل تیار ہوجائے گاجس میں دو سو صحافیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی ،جہاں وائی فائی سمیت تمام سہولیات میسر ہوں گی ۔ گذشتہ روز صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری اور سابق صدر معین اظہر نے پنجاب اسمبلی سپیکرچیمبر میں ملک محمد احمد خان سے ملاقات کی اور انھیں پنجاب اسمبلی سیشن کے دوران صحافیوںکودرپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہاکہ جب تک یہ ہال تعمیر نہیں ہوتا صحافیوں کے بیٹھنے کے لئے اسمبلی کی نئی عمارت میں فوری طورپرکمرہ دیاجائے گااور اس سلسلے میں انھوں نے اسمبلی اسٹاف کو موقع پرہدایات بھی جاری کردیں جبکہ اسمبلی عمارت میں ہم ایک ممبرزلاﺅنج بنارہے ہیں جہاںصرف اسمبلی ممبران اورصحافیوں کے علاوہ کسی کوداخلے کی اجازت نہ ہوگی۔ انھوں نے کہاکہ اسمبلی ہال کی پوری بلڈنگ کو وائی فائی کیاجارہاہے جبکہ پریس گیلری کی ہرسیٹ کے ساتھ ٹیبلٹ پی سی لگایاجارہاہے جہاں سے صحافی اپناپیشہ وارانہ کام احسن انداز میں کرسکیں گے۔ انھوں نے کہاکہ اس سے قبل بھی پنجاب اسمبلی کی پرانی عمارت میں ایک بڑا روم صحافیوں کو الاٹ کیاجاچکاہے جس میں تمام تر سہولیات میسر ہیں ۔ اس موقع پرانھوں نے پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے صدر اخلاق باجوہ اور سیکرٹری خواجہ حسان احمد کی کاوشوں کی تعریف کی۔ اس موقع پر صدر ارشد انصاری اور سابق صدر معین اظہر نے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اور وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کاشکریہ ادا کیا۔
=====================

لاہور(جنرل رپورٹر)پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پیف کے تعلیمی منصوبوں فاؤنڈیشن اسسٹڈ سکول (FAS) پروگرام، ایجوکیشن واؤچر سکیم(EVS) اور نیو سکول پروگرام(NSP) سے منسلک7ہزار سے زائد پارٹنر سکولوں کو 26لاکھ سے زائد طلبا و طالبات کی فیس کی مد میں فروری 2024کی پیمنٹس ادا کر دی گئی ہیں۔پارٹنر سکولوں کو فروری 2024کی تقریبا1ارب 81کروڑ روپے کی ادائیگیاں بذریعہ بنک اکاؤنٹس کی گئی ہیں۔
====================

لاہور(جنرل رپورٹر)وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ سابق حکومت نے ایجوکیشن سیکٹر کی جس قدر خدمت کی وہ مضبوط بوٹی مافیا نیٹ ورک کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ مراد راس اور ان کی حکومت کی نام نہاد مہارات نے ہمارے طالبعلموں کو ایسا تعلیمی سسٹم دیا جو انہیں شارٹ کٹ راستے بتا رہا ہے۔ دوسری جانب طلبہ کا مستقبل خریدنے والے عناصر کو بھی دائرہ وسیع کرنے سے نہیں روکا گیا۔ پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے اپوزیشن کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ن لیگ کی حکومت نے تعلیمی بجٹ بزدار دور سے کم رکھا ہے وہ میرے ساتھ بیٹھ جائیں اعداد و شمار کے ساتھ ان کی تسلی کرواؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ارادے اور ویژن اپوزیشن والوں سے بڑے اور نیت صاف ہے۔ تعلیمی بجٹ پر کٹ موشن لانے اور تعلیمی منصوبوں کو حذف کرنے کے مطالبے اپوزیشن کے نزدیک تعلیم کی اہمیت کو بخوبی آشکار کر رہے ہیں۔ میڈیا نمائندگان کے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ اپوزیشن نے 2018 کے بعد حکومت میں آتے ہی ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ اور فنڈز کو کٹ لگا کر آدھا کیا اور اسے 120 ارب سے کم کر کے 60 ارب پر لے گئے۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ اپوزیشن دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے اپنے دور میں تعلیم کیلئے زیادہ بجٹ رکھا۔ انہیں واضح کرتا ہوں کہ جس بجٹ کو وہ 350 ارب پر چھوڑ کر گئے تھے ہم نے ابتداء میں ہی اسے 422 بلین مختص کیا یے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ تعلیمی ترقی کے دعویداروں نے 6 سال میں ایک ٹیچر بھی بھرتی نہیں کیا۔ سٹوڈنٹ ٹیچر ریشو خراب کی۔ پنجاب میں 600 ادارے ایسے ہیں جہاں ٹیچر ہی دستیاب نہیں۔ کیا اپوزیشن کے وزیر تعلیم اور بزدار صاحب تب سوتے رہے تھے؟۔ انہوں نے کہا کہ مراد راس کی سربراہی میں سنگل نیشنل کریکولم کے دعوے بہت کئے گئے مگر عملاً وقت ضائع کیا گیا۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ تعلیمی سسٹم اور طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کسی کو کھلواڑ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ ہم نے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنے سے آغاز کیا ہے۔ ابھی ایسے دیگر مچھلیوں کے بھی نام سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مافیا کو بالکل رعایت نہیں دی جائے گی۔
====================

لاہور(مدثر قدیر)یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی اکیڈمک اینڈ ایڈمنسٹریٹو ایڈوائزری کمیٹی کا 25واں اجلاس منگل کے روز وائس چانسلر پروفیسر احسن وحید راٹھور کی زیرِ صدارت ہوا جس میں یونیورسٹی کے طلبہ کیلئے نئے اتالیقی (Mentoring) پروگرام کی منظوری دی گئی۔ اتالیقی پروگرام کو “فہم”کا نام دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد اساتذہ کو اپنے اپنے شعبے میں طلبہ کے سامنے رول ماڈلز کی صورت میں پیش کرنا ہے۔ پروگرام کے تحت اتالیق اپنے شاگردوں کو کلاس روم سے باہر تعلیمی اور ذاتی مسائل پر رہنمائی فراہم کریں گے۔ یہ اتالیقی پروگرام یو ایچ ایس میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے تیار کیا ہے۔ اس حوالے سے وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر احسن وحید راٹھور کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے گریجویٹ کو منفرد نظر آنا چاہیے۔ اتالیقی پروگرام کے ذریعے طلبہ کی شخصیت کو نکھارا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر اتالیق کو پانچ سے سات شاگرد ملیں گے جن کی مہینے میں دو مرتبہ ملاقات ہوا کرے گی جہاں طلبہ کو کھل کر اظہار رائے کا موقع ملے گا۔ سٹڈی سیشن، کیئریر پلاننگ، لیڈرشپ ٹریننگ، کمیونیکیشن سکلز ڈویلپمنٹ اور کمیونٹی سروس کو پروگرام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اجلاس میں ہیلتھ ریسرچ پراجیکٹس کو ملکی اور غیر ملکی ایجنسیوں کی ترجیحات کے مطابق بنانے پر بھی اتفاق ہوا۔ وی سی یو ایچ ایس نے فیکلٹی کو ہدایت کی کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ماحولیات ا ور پائیدار ترقی کے اہداف پر ریسرچ پراجیکٹس تیار کیے جائیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ پوسٹ گریجویٹ پروگرامز میں داخلے ریسرچ پراجیکٹس کی تیاری اور فنڈنگ سے مشروط ہوں گے۔ اجلاس میں سٹوڈنٹ افیئرز، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آڈیو ویژول کے شعبوں کی تنظیم نو کا بھی فیصلہ کیا گیا۔