پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام شہریوں کے لیے خوش آئند ہے مرتضیٰ وہاب۔

۔ترجمان سندھ حکومت اور وزیراعلی سندھ کے مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پبلک سیفٹی کمیشن کے قیام سے پولیس کو ذمہ داری کے ساتھ ساتھ احتساب کے لیے بھی سامنے آنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی بلڈنگ کے میڈیا کارنر پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی سے پولیس اصلاحات کا نیا قانون پاس کیا ہے جس کے زیر نظر پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے اب تک پانچ اجلاس ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ ان کے خلاف دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمات دائر کیے گئے ہیں جس کو حل کرنے کے لئے آئی جی سندھ کو مفصل رپورٹ پیش کرنے کا کہا ہے۔اس کے علاوہ پولیس کا ایک سالانہ پلان بھی مرتب کیا جا رہا ہے جس کی سفارشات محکمہ پولیس تیار کرے گی اس کے علاوہ شہر کے ٹریفک پلان کو حتمی شکل دینے کے لیے ٹریفک خلاف ورزی کے جرمانوں میں اضافہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئیں ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ کمیشن کو بہتر بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں پولیس حکومت اپوزیشن اور سول سوسائٹی کے اراکین کی شمولیت کو پبلک سیفٹی کمیشن میں فوقیت دی گئی ہے۔مشیر قانون کے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت ہمارا بنیادی حق ہے کہ سندھ کو سب سے پہلے گیس ملے آجکل صنعتی و رہائشی صارفین کو گیس کی کمی کا سامنا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ کو اس کے واجب حصے کی گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے گیس کے نرخوں میں 200 فیصد سے زائد اضافے کی تجویز دی ہے جس کی پاکستان پیپلز پارٹی مذمت کرتی ہے کیونکہ غریب آدمی کے لئے پہلے ہی بنیادی ضروریات کا حصول مشکل بنادیا گیا ہے اب گیس کے نرخوں میں اضافے سے غریب آدمی کے گھر کا چولہا جلنا مشکل ہوجائے گا اس کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان آجائے گا۔ ہینڈ آ ﺅ ٹ نمبر 1154۔۔۔۔ ایم آئی زیڈ

اپنا تبصرہ بھیجیں