چیئر مین PCB بلاتے توٹیسٹ میچ دیکھنے کے بارے میں سوچتا، یونس خان

پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ وسیم خان کی جگہ چیئر مین پی سی بی بلاتے تو نیشنل اسٹیڈیم میں دوسرا ٹیسٹ میچ دیکھنے کے بارے میں سوچتا۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں مارچ 2009ء کے بعد ٹیسٹ میچ منعقد ہونے جا رہا ہے، پاکستان بمقابلہ سری لنکا کے درمیان آئی سی سی ٹیسٹ چیمئین شپ کا دوسرا ٹیسٹ 19دسمبر سے شروع ہونے جا رہا ہے، اس ٹیسٹ میچ کے لیے چیئر مین پی سی بی احسان مانی نے قومی ٹیم کے سابق کپتان لیجنڈری یونس خان کو 6 دسمبر کو فون کر کے خواہش کا اظہار کیا کہ ٹیسٹ کے پہلے دن تشریف لائیے۔

چیئر مین کے فون کا سابق کپتان نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی چھٹیوں میں ان کے ساتھ وقت گزارنے کی کچھ منصوبہ بندی کر رہا ہوں، آپ تفصیلات بھیج دیں میں دیکھ لیتا ہوں۔

42 سال کے یونس خان نے نیشنل اسٹیڈیم میں نہ جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے وجہ بتائی ہے کہ پی سی بی کی تاریخ کے مہنگے ترین ڈائریکٹر میڈیا سمیع الحسن برنی کی ای میل جو بقول یونس خان، انہیں تاخیر سے موصول ہوئی جبکہ وہ بچوں کے ساتھ اپنی چھٹی منانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

پاکستان کے لیے118 ٹیسٹ میں 34 سینچریوں کے سا تھ ریکارڈ 10099رنز بنانے والے یونس خان کہتے ہیں کہ اس بارے میں وہ لچک دکھا سکتے تھے تاہم افسوس کے سا تھ انہیں کہنا پڑتا ہے کہ دعوت انہیں چیف ایگزیکٹو وسیم خان کی جانب سے موصول ہوئی ہے۔

2009ء میں آئی سی سی ورلڈ ٹی 20کے کامیاب کپتان یونس خان کہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کے لیے ان کی خدمات سب کے سامنے ہے، انہیں خوشی ہوتی کہ چیئر مین پی سی بی احسان مانی ان کے مرتبے اور خدمات کے پیش نظر انہیں مدعو کرتے تو ضرور وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے۔

وسیم خان کی دعوت پر وہ نہیں سمجھتے کہ وہ کچھ فیصلہ کر سکتے ہیں ، اس لیےانہوں نے دُکھی دل کے سا تھ معذرت کر لی ہے، یاد رہے مارچ 2009ء میں سری لنکا کے خلاف نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں بطور کپتان یونس خان نے 313رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

یونس خان کہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سابق کرکٹرز کو صرف لفظی طور پر تقریبات کی حد تک سراہتے ہوئے جس انداز میں کام کر رہا ہے، اس سے بہتر ہے سابق کرکٹرز اپنے راستے پر ہی چلیں ا ور بورڈ جب ان سے استفادہ نہیں کرنا چاہتا تو دور ہی رہیں ۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا سمیع الحسن برنی نے سابق کپتان کی خواہش پر جواب دیا ہے کہ چیف ایگزیکٹو وسیم خان کی میزبانی اگر آپ نہیں پسند کرتے تو چیئر مین پی سی بی احسان مانی آپ کو ٹیسٹ کے تیسرے دن نیشنل اسٹیڈیم میں خوش آمدید کہہ سکتے ہیں ۔

جس کے جواب میں سابق کپتان کہتے ہیں کہ وہ اس طرح اپنے بچوں کے سا تھ بار بار بنایا گیا پروگرام تبدیل نہیں کرسکتے، ان کی خوش قسمتی ہے کہ پاکستان کرکٹ میں انہوں نے اپنے کھیل سے جو نام بنایا، وہ ان کی زندگی کا سرمایہ ہے اور عوام کی محبت ان کی اصل قوت ہے۔

پی سی بی کی ان تقریبات سے نہ ان کی کوئی قدر و منزلت اچھے انداز میں نہ بلانے پر بڑھے گی اور نہ اس سے بورڈ کو کوئی فائدہ پہنچنے والا ہے۔