میرپورخاص میں وکیل کی پراسرار موت کا معاملہ، وکیل کے لواحقین کی جانب سے لیڈی پولیس اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،

میرپورخاص تحسین احمدخان رپورٹ~
میرپورخاص میں وکیل کی پراسرار موت کا معاملہ، وکیل کے لواحقین کی جانب سے لیڈی پولیس اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،ملزمہ گرفتار کرلی گئی، مقدمے میں لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں، میری والدہ کی شادی اعجاز شاہ سے ہوئی تھی قتل کے مقدمہ میں نامزد لیڈی پولیس اے ایس آئی کی بیٹی کی پریس کلب میں پریس کانفرنس
میرپورخاص کی ریونیو کالونی میں پراسرار طور پر جاں بحق ہونے والے وکیل سید اعجاز شاہ کے لواحقین نے واقعے کو قتل قرار دیا ہے جس کے پیش نظر متوفی نوجوان وکیل کے والد سید غلام نبی شاہ نے سیٹلائیٹ ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں خاتون موبینہ سموں جو کہ محکمہ پولیس میں اے ایس آئی بھی ہیں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروا دیا خاتون پولیس اے ایس أئی کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیاگیا مدعی کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ کے اس کے بیٹے اعجاز شاہ سے عرصہ دراز سے ناجائز تعلقات تھے اور وہ میرے بیٹے کو بلیک میل کر رہی تھی جس کا ذکر اس نے اپنے دوستوں ذوالفقار غوری اور ذیشان اقبال غوری سے بھی کیا ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اعجاز شاہ ملزمہ کے سحر میں گرفتار تھا ایف آئی میں بتایا گیا ہے کہ موبینہ سموں نے ہمارے نوکر کو فون کیا اور کہا کہ اعجاز شاہ دروازہ نہیں کھول رہے جس کے بعد ہم نے پولیس کو اطلاع دی ایف آئی آر کے مطابق گھر کا ایک دروازہ اندر سے اور دوسرا دروازہ باہر سے بند تھا ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اعجاز شاہ نے بلیک میلر خاتون سے تعلقات ختم کرنے کی کوشش کی جس پر خاتون نے طیش میں آکر اعجاز شاہ کو قتل کردیا دوسری جانب ملزمہ خاتون کی بیٹی لاریب سموں نے اپنی دیگر خواتین رشتہ داروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کہ ملزمہ موبینہ سموں نے اعجاز شاہ کو ناجائز تعلقات پر مجبور کر دیا تھا یہ جھوٹ ہیں جبکہ اس کے والدہ اس کی شادی 28 دسمبر 2014 کو اعجاز شاہ سے ہوئی تھی جس کی دستاویزات موجود ہیں انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اعجاز شاہ کے والدین میری والدہ اور اعجاز شاہ کی شادی سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے اعجاز شاہ کو زمین کی آمدن سے آنے والی رقم دینا بند کر دی انہوں نے کہا کہ اعجاز شاہ اپنے والدین کے بجائے میرے والدہ کے ساتھ رہتا تھا وہ اسے پیسے خرچہ وغیرہ بھی دیتی تھی انہوں نے کہا کہ اعجاز شاہ کچھ عرصے سے بیمار تھے لیکن ان کے والدین نے انہیں علاج کے لئے پیسے نہیں دیئے انہوں نے کہا کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت ان کے والدہ عدالت میں اور بعد میں ایس ایس پی آفس میں موجود تھی اس نے بتایا کہ اس کے والدہ اور اعجاز شاہ میں چھوٹی موٹی لڑائی ہوتی تھی لیکن وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے انہوں نے کہا کہ تھانے میں ان کے والدہ کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے***