سابق چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت کو انکی خدمات کے عوض ستار امتیاز دیا گیا۔

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 76 افراد میں سول ایوارڈز تقسیم کررہے ہیں۔

٭ نظامت کے فرائض چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے انجام دی۔

ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے 2022 کے سیلاب کے دوران ریلیف اور بحالی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے سیلاب میں تباہ ہونے والے 2 ملین سے زیادہ مکانات کی تعمیر نو کے لیے وقف کمپنی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

عوامی خدمت کے میدان میں ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت کو ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

٭ تقریب میں صوبائی سیکریٹریز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہوئے۔
===================


گورنر سندھ نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 76 افراد میں سول ایوارڈز تقسیم کئے
18افراد کو ستارہ امتیاز، 8کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ، 7 کو تمغہ شجاعت اور 43 افراد کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا

کراچی ( مارچ 23 ) گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 76 افراد میں سول ایوارڈز تقسیم کئے ۔ نظامت کے فرائض چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے انجام دئے۔ تقریب میں صوبائی سیکریٹریز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔
گورنر سندھ نے 18افراد کو ستارہ امتیاز، 8کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ، 7 کو تمغہ شجاعت اور 43 افراد کو تمغہ امتیاز دیا۔ گورنرسندھ نے پروفیسر ڈاکٹر امجد سراج میمن، پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق حسن، ملائیکہ جنید، ستیش چندرا آنند، سائرہ فرقان، عبدالواحد مسقاتیہ، سعید اللہ والا، امینہ علی گینی، ڈاکٹر امان اللہ قاسم مچھیارا، عبدالعزیز میمن، ڈاکٹر سید کلیم امام، مروین فرانسز لوبو، مرزا اختیار بیگ، محمد عارف حبیب، ڈاکٹر محمد سہیل خان راجپوت، درید قریشی، پروفیسر مفتی منیب الرحمان اور ڈاکٹر نعیم الظفر کوستارہ امتیاز کے اعزاز سے نوازا۔ گورنر سندھ نے دھائی بائی عرف مائی دھای، عبدالجبار گل، قادر بخش مٹھو، عدنان صدیقی، مشکور رضا خان، شیما کرمانی، نصیر بیگ مرزا اور افضل احمد سید کو صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی دیا۔ گورنر سندھ نے عبدالمالک بھٹو (شھید)، عبدالمالک کمانگر (شھید)، دین محمد لغاری (شھید)، جتوئی پتافی (شھید)، محمد سلیم چاچڑ (شھید)، محمد ارشد خان جدون (شھید) اور عبدالناصر کو تمغہ شجاعت کا اعزاز دیا، جبکہ ڈاکٹر خالد بن شاہین، سید نقی حیدر نقوی، زیبر امام ملک، مرلی دھر داوانی، ڈاکٹر محمد اجمل ساوند (شھید)، ڈاکٹر حسن عمران آفریدی، انور امجد، پروفیسر ڈاکٹر ندیم قمر، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال آفریدی، ڈاکٹر یاسر عرفات گبول، ڈاکٹر اویس احمد لکھیار، ارباب خان کھوسو، ڈاکٹر عاصمہ ابراہیم ، سید غالب باقر، غلام عباس خاصخیلی ، مشتاق علی لاشاری، بندہ علی ، محمد رحمت اللہ خان دریا زئی، خان شاہ نواز ملہی، اے ایس رند، فضاءعلی مرزا، ڈاکٹر سید عقیل عباس جعفری، علی دوست عاجز، انور سن رائے، ڈاکٹر مشتاق علی لغاری، زاہد سعید، سلیم رزاق تابانی، ڈاکٹر سید سیف الرحمان، فضل کریم دادا بھائی، سید ظفر عباس، محمد آصف جمیل، سید مرتضی علی شاہ، فاروق محبوب، آفاق احمد قریشی، حاجی مسعود پاریکھ، ضیاءاللہ خان،حسن قطب الدین سید، ڈاکٹر شفقت اللہ شیخ (مرحوم)، ولایت علی گوپانگ (مرحوم)، ڈاکٹر قربان علی سومرو (مرحوم)، عبدالخالق (مرحوم)، محمد عثمان (مرحوم) اور ڈاکٹر زبیدہ ستار (مرحومہ ) کو تمغہ امتیاز کا اعزاز دیا ۔
========================

آج یوم پاکستان پر منعقد ہونے والی ایک تقریب کے دوران ملک کے مختلف شعبے سے تعلق رکھنے والے کُل 397 افراد کو صدارتی سول ایوارڈز دیے گئے۔

صدارتی سول ایوارڈز مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو دیے جاتے ہیں جو اپنے اپنے شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے گزشتہ برس یوم آزادی کے موقع پر اعزازات کی فہرست جاری کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ یوم پاکستان (23 مارچ 2024) پر ان افراد کو اعزازات سے نوازا جائے گا۔

ان افراد میں شعبہ ادب، موسیقی، فن و ثقافت سے تعلق رکھنے والے مایاناز فنکار بھی شامل ہیں، جنہیں ان کی گراں قدر خدمات سر انجام دینے پر آج صدارتی اعزازات سے نوازا گیا۔

درج ذیل ان ممتاز فنکاروں کی فہرست ہے جنہوں نے آج صدارتی ایوارڈز حاصل کیے۔

نشانِ امتیاز:
افتخاز عارف (فن – ادب، شاعری و تحریر)

ہلالِ امتیاز:

راحت فتح علی خان (فن – قوالی و گائیکی)

محمد احمد شاہ (فن – ثقافت)

محمود احمد طاہر بھٹی (فن – فلم ڈائریکشن و فیشن ڈیزائننگ)

محمد انور مسعود (فن – ادب، شاعری)

ستارہ امتیاز:
قاری حافظ بزرک شاہ الازھری (فن – قرت)

بلال لاشاری (فن – ڈائریکشن، سینماٹوگرافی و اسکرپٹ رائٹنگ)

ستیش آنند (فن – فلم پروڈکشن / ڈسٹری بیوشن)

عبدالکریم بریالی (فن – ادب)

جاوید بشیر احمد (فن – گائیکی)

فاخر محمود (فن – گائیکی)

شبنم (فن – گائیکی)

پرائیڈ آف پرفارمنس:
استاد گلاب خیل (فن – رباب )

شازیہ منظور (فن – گائیکی)

ڈھائی بائی عرف مائی دھائی (فن – گائیکی)

ہمایوں خان (فن – گائیکی)

مرحوم عنایت حسین بھٹی (فن – اداکاری، پروڈکشن ، ڈائریکشن ، اسکرپٹ رائٹنگ)

ذوالفقار علی عطر (فن – میوزک کمپوزنگ)

عجب گل (فن – اداکاری و ڈائریکشن)

عشرت عباس (فن – ڈرامہ، تھیٹر، ریڈیو اداکار)

شاکر زیب (فن – میوزک ڈائریکشن)

قادر بخش مٹھو (فن – کامیڈی)

مسرت کلانچوی (فن – اردو و سرائیکی افسانہ اور ڈرامہ نگاری)

عدنان صدیقی (فن – اداکاری، میزبان، پروڈکشن)

زبیدہ عرف نغمہ (فن – فلم آرٹسٹ)

حسن عسکری (فن – فلم کی ڈائریکشن و تحریر)

شیما کرمانی (فن – کلاسیکی رقص اور کوریوگرافی)

نصیر بیگ مرزا (فن – موازنہ، تحریر اور پروڈیوسر)

باقر عباس (فن – بانسری)

غلام حسین انجم (فن – ادب، شاعری و تحریر)

نذیر قیصر (فن – ادب، شاعری و تحریر)

افضل احمد سید (فن – ادب، شاعری و تحریر)

ہشام الدین اسیر مینگل (فن – ادب، شاعری و تحریر)

حمید رضی (فن – ادب، تحریر)

احمد حسین مجاہد (فن – ادب، شاعری و تحریر)

غلام عباس الیاس عباس تابش (فن – ادب، شاعری)

خالد مصود خان (فن – ادب، شاعری، تحریر و کالم نگار)

محروم فرخندہ بخاری (فن – ادب، شاعری و تحریر)

محمد الیاس (فن – ادب، تحریر)

نصر اللہ خان نصیر (فن – ادب، شاعری و تحقیق)

شکیل جاذیب عرف رانا شکیل اضغر (فن – ادب، شاعری)

تمغہ امتیاز:
قاری وسیم اللہ امین (فن – قرت)

محمد شہباز قمر (فن – نعت خوانی)

سجل علی (اداکاری)

مہر بانوں کاظم عرف جگن کاظم (فن – میزبانی و اداکاری)

عبدالبتین فاروقی (فن – اداکاری)

الماس خان خلیل (فن – لوک پشتو گائیکی)

فضل وہاب درد (فن – گائیکی)

استاد رستم فتح علی خان (فن – کلاسیکی گائیکی)

عمران عزیز میاں (فن – قوالی)

ارباب خان خسرو (فن – الگوزا)

گلریز غوری ( فوٹوگرافی)

بندہ علی (فن – لوک فنکار)

رحمت اللہ خان (فوٹوگرافی)

خالد بن شاہین (فن – اداکاری، پروڈکشن)

شہزاد رفیق (فن – فلم ڈائریکشن)

فضا علی میرزا (فن – پروڈکشن اور اسکرین رائٹنگ)

امجد شیخ (فن – فلم پروڈکشن و ڈسٹریبیوشن)

عبدالواسع چوہدری (فن – فلم و ڈرامہ اداکاری)

فاروق حسن (فن – میزبانی)

مسبح الدین قاری (فن – وژئل آرٹسٹ)

عقیل عباس جعفری (فن – ادب، شاعری و لسانی)

علی دوست اعجاز (فن – ادب، شاعری و تحریر)

انور سین رائے (فن – ادب، شاعری و تحریر)

مشتاق علی لغاری (فن – ادب، شاعری و تحریر)

مرحوم شمس القمر (فن – ادب، شاعری و تحریر)

محمد اسمعیل (فن – ادب، تحریر)

پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ (فن – ادب، تحریر)

احمد عطااللہ (فن – ادب، شاعری)

عزیز اعجاز (فن – ادب، شاعری)

مرحوم غلام قادر بزدار (فن – ادب، شاعری)

محمد سلیم شہزاد (فن – ادب)

اس کے علاوہ گزشتہ برس 14 اگست 2023 کو ہدایت کار سرمد کھوسٹ کا نام بھی صدارتی ایوارڈ کے لیے تجویز کیا گیا تھا۔

تاہم کابینہ کمیٹی نے سرمد کھوسٹ کے نام کی باقاعدہ منظوری نہیں دی تھی