غیرت کے نام پر قتل: شواہد نہ ہوئے تو معاونت کرنے والوں کو بھی جیل میں ڈال دیا جائے: سپریم کورٹ

خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والی سعیدہ بی بی کے غیرت کے نام پر مبینہ قتل کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی۔

درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ سعیدہ بی بی کے والد نے 2018 میں بیٹی کے قتل کا مقدمہ درج کروایا، والد پیر رحمٰن ہی اس کیس کے مدعی ہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ درست ہے مقدمہ ساڑھے 5 ماہ بعد درج ہوا؟ کیا اس قتل کا کوئی گواہ نہیں؟

مدعی کے وکیل نے کہا کہ کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی. چیف جسٹس نے کہا کہ پیش رفت اس لیے نہیں ہوئی کہ کوئی گواہ نہیں۔

وکیل مدعی نے کہا کہ یہ قتل غیرت کے نام پر کیا گیا ہے، ہائیکورٹ نے اپریل 2019 میں شریک ملزمان کی ضمانت منظور کی۔ سعیدہ بی بی کے شوہر کے بھائی ( دیور) نے اپنی بھابھی (مقتولہ) پر الزام عائد کیا تھا۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا خاتون (مقتولہ) وفات پاچکی ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ کچھ علم نہیں خاتون تاحال منظر سے غائب ہے۔ خاتون کے بھائی نے جرگہ کے سامنے تسلیم کیا کہ خاتون کو قتل کیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کوئی برآمدگی ہوئی ہے جس پر وکیل نے کہا کہ کوئی برآمدگی نہیں ہوسکی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا غیرت کے نام پر قتل کے الزام پر بغیر شواہد سزا دینا شروع کردیں؟ اگر اتنا کافی ہے تو معاونت کے الزام والے لوگوں کو بھی جیل میں ڈال دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے ملزمان کی ضمانت کی منسوخی کی درخواست خارج کردی۔