وفاق اور سندھ میں اختلاف سے نقصان سندھ کے لوگوں کو ہوتا ہے

یاسمین طہٰ سابق صدر آصف علی زرداری کی کراچی منتقلی کے ساتھ ہی سابق  ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ستمبر میں قومی احتساب بیورومیں شمولیت اختیار کرنے والے نجف قلی مر زا کو ڈی جی نیب کراچی تعینات کردیا گیا۔نجف قلی مرزا اس سے قبل نیب ہیڈ کوارٹر میں تعینات تھے۔اور پی پی پی  ان کے حوالے سے سخت تحفظات رکھتی ہے۔اس لئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ نجف مرزا کی ڈ ی جی نیب تعیناتی کا مقصد پی پی کے دیگر  رہنماؤں اور  آصف زرداری کے خلاف تحقیقات کو منطقی  انجام تک پہونچانا ہے۔سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی مستقل یہ دعوے کررہے ہیں کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے پی پی پی کے ارکان سندھ اسمبلی کا فارورڈ بلاک بننے جارہا ہے لیکن اس کے برعکس  تحریک انصاف کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کا ناراض گروپ بن چکا ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ سے تحریک انصاف کے 7 رکن قومی اسمبلی  اور 12 ارکان سندھ اسمبلی پر مشتل ناراض گروپ  نے مشترکہ لائحہ عمل بھی تشکیل دے دیا ہے۔جو  پہلے اسمبلیوں کے اجلاس سے بائیکاٹ کریں گے، اس کے بعد  استعفوں کا آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق ناراض ارکان قومی اسمبلی میں فہیم خان، آفتاب جہانگیر، عطاء اللہ، اسلم خان، شکور شاد، جمیل خان اور اکرم چیمہ بھی  شامل ہیں۔ ناراض گروپ نے کابینہ میں شامل کراچی سے دونوں وزراء علی زیدی اور فیصل واوڈا کو اپنا نمائندہ ماننے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ناراض ارکان کو شکایت ہے کہ وفاقی وزیر علی زیدی نے ایم این اے جمیل احمد کو پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے سے ہٹوایا اور ان کی جگہ آفتاب صدیقی کو پارلیمانی سیکرٹری میری ٹائم افیئرز لگا دیا گیا۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جمیل احمد خان، وفاقی وزیر علی زیدی کی بے ضابطگیوں کی تفصیلات وزیراعظم کو دینا چاہتے ہیں۔ناراض گروپ کے ذرائع کے مطابق علی زیدی محمود مولوی کو پاکستان شپنگ کارپوریشن کا چیئرمین بنانا چاہتے ہیں اور ان کی وزیراعظم سے ملاقات بھی کرا دی،لیکن  سندھ سے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی  سے بار بار کہنے کے باوجود  وزیر اعظم سے ملاقات  نہیں کرائی جارہی ہے  سکتے۔گزشتہ دنوں نجی ٹی وی کے پروگرام  میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے کراچی سے منتخب رکن قومی اسمبلی عطاء اللہ خان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتا کہ ہمارے وزراء کابینہ میں  کراچی کی نمائندگی نہیں کرتے۔ سندھ حکومت کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس  عمرکوٹ کی خدمات وفاق کو  واپس نہ کرنے کے فیصلے کے بعد  وفاق اور صوبائی حکومت میں ایک اور تنازع کھڑا ہوگیا۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی اعجازشیخ سندھ میں کام کرتے رہیں گے۔جب کہ  وفاق نے ایس ایس پی عمرکوٹ اعجاز شیخ کی خدمات واپس لیتے ہوئے انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے احکامات پرمتعلقہ حکام نے اعجاز شیخ کو چارج نہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے جب کہ سندھ حکومت نے وفاق کو ایس ایس پی اعجاز شیخ کا تبادلہ روکنے سے تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے۔اس سے قبل  وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ایس ایس پی ایسٹ اظفر مہیسر اور ایس ایس پی شکار پور ڈاکٹر رضوان کا تبادلہ کیاجاچکا ہے، جس کے بعد سینیئر پولیس افسران کے تبادلے پر اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے چیف سیکرٹری سندھ کو خط لکھا ہے کہ بغیر انکوائری کے سینیئر افسران کے تبادلے مشکوک ہیں، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ایس ایس پی ایسٹ اظفر مہیسر کا تبادلہ کیاگیا، جس نے یوسف ٹھیلے والے کا بیان قلمبند کیا تھا،۔خط میں کہا گیاکہ ایس ایس پی شکار پور ڈاکٹر رضوان کا تبادلہ بھی ایسے ہی کیا گیا، فردوس شمیم نقوی کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پولیس افسر کا تبادلہ کیا۔انہوں نے خط میں الزام عائد کیا کہ  پیپلز پارٹی جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہے۔فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ حالیہ ایکٹ کے مطابق پولیس افسران کا بغیر انکوائری تبادلہ نہیں کیاجاسکتا۔سندھ میں گورنر راج  اور سندھ حکومت کی تبدیلی کی خبریں تواتر سے  سننے کو مل رہی ہیں۔غالباً اسی تناظر میں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اپنی پوزیشن واضع   کرتے ہوئے  کہا ہے کہ وہ سندھ حکومت کی تبدیلی کا نہ حصہ ہیں نا بننا چاہتے ہیں۔-انہوں نے کہا کہ میں سندھ حکومت کو ایک بار پھر دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ ملکر عوام کی فلاح و بہبود اور سندھ کے مسائل کے حل کے لیے کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور سندھ میں اختلاف سے نقصان سندھ کے لوگوں کو ہوتا ہے،سندھ حکومت کی وجہ سے کراچی کی عوام متاثرہو رہی ہے۔گویا انھوں نے یہ بات تسلیم کرہی لی کہ سندھ حکومت اور وفاق میں اختیارات کی جنگ جاری ہے۔گزشتہ دنوں کراچی میں نئی   انڈر پاس کی تعمیر کے بعد اس حوالے سے باقا ئیدہ افتتاحی تقریب منعقد کی گئی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول  زرداری وزیر اعلی ٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزرا ء اور مشیروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔اس موقع پر بلاول زرداری  نے کہا ہے کہ  معیشت کی تباہ حال صورتحال میں ہم میگا پراجیکٹس کا افتتاح کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈرپاس کی تعمیر سے کراچی کے عوام کو ریلیف ملے گا، ٹریفک کے مسائل کم ہوں گے،انھوں نے ان پروجیکٹس کو سندھ حکومت کی طرف سے عوام کے لئے تحفہ قرار دیا۔ یہ بات بلاول کو کون بتائے گا کہ سڑکون کی تعمیر سندھ حکومت کا فرض ہے اور عوام کے ٹیکس سے عوام کے لئے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔اپنے فرائض کی ادائیگی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔عوام کے پیسوں سے ہی عوام کو تحفہ،یہ ایک لطیفہ ہے۔ چند منصوبوں کی  مکمل تکمیل سے پہلے ہی   ان کا افتتاح کردیا گیا ہے۔ اس جلدی کی وجہ کہیں مراد علی شاہ کے سر پے لٹکنے والی گرفتاری کی تلوار تو نہیں۔کراچی میں سڑکوں کی تعمیر کے بعد عام طور پر مختلف ادارے اچانک بیدار ہوتے ہیں اور سڑکوں کی کھدائی کرکے  زیر مین کام شروع کردیا جاتا ہے۔یہ سلسلہ طویل عرصہ سے جاری ہے لیکن اب اس حوالے سے محکمہ بلدیات  بھی بیدار ہوگیا ہے۔گزشتہ چند ماہ سے مختلف انٹر نیٹ کمپنیوں نے  شہر کے 4 اضلاع میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ ملکر  سڑکوں کی کھدائی کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی جس کی نشاندہی پر صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے نوٹس لیتے ہوئے تمام ریکارڈ طلب کرلیا۔ صوبائی وزیر کو مطلع کیاگیا تھا کہ چند کمپنیاں کراچی کے 4 اضلاع میں زیر زمین کیبل بچھانے کی منصوبہ بندی کرچکی ہے۔اور لاکھوں مربع گز کھدائی کرکے سرکاری دستاویزات میں چند مربع گز ظاہر کرکے حکومت کو اربوں روپے نقصان پہنچایا جائے گا جبکہ اس منصوبہ بندی پر ضلع وسطی میں کام شروع کیا جاچکا ہے۔  ان عناصر نے چند روز قبل کمشنر کراچی سے ملاقات کے دوران اثرورسوخ کے استعمال کے بعد کھدائی کی اجازت حاصل کر لی  ہے۔اور ان کی کھدائی کیلئے یہ کمپنیاں بلدیاتی اداروں کو کوئی پیسہ دینے کی مجاز نہیں ہوگی۔  سندھ حکومت کی نوٹس لینے کے بعد اور  بلدیہ عظمیٰ نے بھی اپنی کاکردگی دکھانے کے لئے  شہر میں زیر زمین تنصیبات ڈالنے والے اداروں کومتنبہ کیاہے کہ میونسپل حدود میں کسی بھی جگہ سڑک یافٹ پاتھ کوبلدیہ عظمیٰ کراچی کی پیشگی اجازت کے بغیر نہ کھودا جائے بصورت دیگر نقصان کے ذمہ دار وہ ادارے خود ہوں گے۔ ایساکوئی بھی کام جو بلدیاتی حدود میں سڑک یافٹ پاتھ کھودنے سے متعلق ہے اس کیلئے پیشگی اجازت بلدیہ عظمیٰ کراچی سے لینا لازمی ہے۔اگربلدیہ عظمیٰ کراچی کی اجازت حاصل نہیں کی گئی توایسے اقدام کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ گویا اصل مسئلہ یہاں بھی اختیارات کا ہے کہ اجازت سندھ حکومت دے گی یا شہری حکومت۔قومی احتساب بیورو کی منی لانڈرنگ کے خلاف تحقیقات میں لاڑکانہ کے دو ٹاؤنز پر مشتمل چھوٹے سے علاقے کو کراچی سے بھی زیادہ بجٹ دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔۔نیب ذرائع کے مطابق تعلقہ ڈوکری کو کراچی سے بھی زیادہ ترقیاتی کاموں کا بجٹ دیا گیا، تعلقہ ڈوکری کو 10سالوں میں 20 ارب سے زائد کے فنڈز دیئے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام فنڈز ترقیاتی کاموں کے نام پر خرچ کیے گئے مگر علاقے میں کوئی کام نہیں ہوا، جاری کیے گئے اربوں روپے ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے بیرون ملک منتقل کیے گئے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ ترقیاتی کاموں کے ٹھیکے جن کمپنیوں کو دیئے گئے وہ صرف کاغذات میں تھیں، کمپنیوں کے نام پر جاری رقم اہم شخصیات کے اکاؤنٹس اور بعدازاں بیرون ملک منتقل کی گئیں۔نیب ذرائع کے مطابق افسران سمیت 100 سے زائد ٹھیکیداروں کے بیانات بھی ریکارڈ کر لیے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تعلقہ ڈوکری کے جعلی کھاتوں کا ریکارڈ اکاؤنٹ کیس کی تفتیش میں سامنے آیا تھا، کیس میں گرفتار ندیم بھٹو کے اکاؤنٹ میں بھی ترقیاتی کاموں کے لئے جاری رقم منتقل کی گئی۔جے آئی ٹی نے تعلقہ ڈوکری کی تحقیقات بے نامی اکاوؤنٹ سے الگ کرنے کی سفارش کی تھی- (یاسمین طہٰ )

 



اپنا تبصرہ بھیجیں