انجمن محصورین جدہ کی بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کی حمائت میں تقریب

سیدات لیڈیز کلب ریاض کی جانب سے رنگا رنگ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستانی   کے علاوہ دیگر ممالک کی خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی جبکہ بچوں کی بڑی تعداد بھی شریک تھی، پاک ہاوس میں منعقد ہونے والی تقریب میں خواتین نے پاکستانی کلچر کو خوب نمایاں کیا اور پاکستانی ملبوسات پہن کر تقریب میں شرکت کی اس کے علاوہ بچوں کی جانب سے مختلف مقابلے ہوئے جن میں بچوں نے مختلف موضوعات پر تقاریر کیں جبکہ بچوں اور بچیوں نے پاکستان کے ملی نغمے بھی گائے اور حاضرین میں جذبہ حب الوطنی بیدارکیا اس کے علاوہ خواتین نے بھی گائیکی کی محفل سجائی اور خوب من پسند گیت گا کر خواتین کو محظوظ کیا، کوئز پروگرام کے ذریعے سوالوں کے جوابات دینے والوں کو انعامات سے بھی نوازا گیا اسٹیج کو خواتین نے اپنی بھرپور صلاحیتوں اور مہارت کے ساتھ سجایا ہوا تھا جس میں دورے حاضر اور قدیم دور کے مطابق ماڈلز بنائے گئے تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیدات لیڈیزکلب کی سربراہ ام ابراہیم کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ خواتین کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جاے جس میں خواتین اور بچے بہتر انداز میں تفریح حاصل کر سکیں سیدات لیڈیز کلب والدین کو اپنے بچوں کیلئے بہترین رشتوں کی تلاش میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔تقریب میں موسیقی کا مقابلہ جیتنے والی خواتین کو انعامات دئیے گئے،لیڈی اف دا ایوننگ جیتنے والی خواتین کو انعامات دے گے جس میں  نے عروسی ملبوسات کے علاوہ میک اپ اور ہئیر سٹائل کی کٹیگری کو بہتر انداز میں نبھایا تھا،مہمانا ن خصوصی میں شاہزین ارم،بلقیس صفدر اور یاسمین اسلم نے شرکت کر کے تقریب کو رونق بخشی اس کے علاوہ اس-ٹی-سی-پے کے کنٹری مینیجر حامد مختار کا تعاون بھی بہرپور رہا.آخر میں شرکاء میں R.Q پروڈکشن کی جانب سے دیگر انعامات کے ساتھ عمرہ اور ترکی کے دو طرفہ ٹکٹ بھی تقسیم کئے گئے۔آئی ٹی ماہرین کا سمینار۔ سعودی عرب میں پاکستانی آئی ٹی ماہرین کے اعزاز میں تقریب منعقد کی گئی جس میں پاکستان سے آئے مہمانوں اور سعودی عرب میں مقیم آئی ٹی کے شعبے سے منسلک افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔سعودی دارالحکومت ریاض میں پاکستانی ایگزیکٹو فورم کی جانب سے منعقدہ تقریب میں آئی ٹی ماہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب آئی ٹی انڈسٹری میں بڑی مارکیٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے جس میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں اور جس تیزی کے ساتھ یہاں آئی ٹی کے شعبے کو فروغ مل رہا ہے اس سے حوصلہ افزا نتائج مل سکتے ہیں جبکہ پاکستانی آئی ٹی ماہرین بھی دیگر ممالک کے مقابلے میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں پاکستانی ایگزیکٹو فورم کے صدر منیر احمد شاد کا کہنا تھا کہ پی ای ایف جہاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کوشاں ہے وہیں پر سعودی عرب میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی اور ان کو مواقعے فراہم کرنے میں کام کر رہا ہے تقریب سے تصدق گیلانی،  عمران داودی،  شہزاد احمد،  حافظ عمران اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔  انجمن محصورین جدہ کی  بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کی حمائت میں تقریب  معروف اسکالراور سابق سعودی سفارت کار ڈاکٹر علی الغامدی نے کہا کہ  1971 میں سقوط ڈھاکہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کے لئے ایک افسوسناک تاریخی واقعہ ہے۔ یہ بات انھوں نے مجلس محصورین پاکستان کے زیر اہتمام  شہدائے مشرقی پاکستان اورسقوط ڈھاکہ کی 48 ویں برسی کے موقع پر ”محصورپاکستانیوں کی وطن واپسی ہماری قومی ذمہ داری” کے عنوان سے منعقدہ سمپوزیم کے صدارتی خطاب میں کہی۔انہوں نے کہا کہ وہ سقوط ڈھاکہ کے محرکات کے بارے میں بات نہیں کریں گے لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ جب پاک فوج نے جنگی قیدیوں کی واپسی کے معاہدے پر دستخط کیے تو انہوں نے محصورمحب وطن پاکستانیوں کی واپسی اور ان کے کوئی تحفظ کے کئے کچھ نہیں کیا جنہوں نے جنگ میں ان کا ساتھ دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس موقع پر میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان، چیف آف آرمی قمرجاوید باجوہ، چیف جسٹس جناب گلزار سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ انھیں پاکستان میں آباد کرنے کے لئے فوری اقدامات کریں اور انہیں حب الوطنی کا صلہ دیں۔مہمان خصوصی چیئرمین پاکستان رائٹرز فورم (پی ڈبلیو ایف) انجینئرسید نیازاحمد نے ڈاکٹرالغامدی تقریر کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان محصور پاکستانیوں کو پاسپورٹ جاری کرے جو انہیں کیمپوں سے باہر جانے کی اجازت دے سکے۔امیر محمد خان چیئرمین پاکستان جرنلسٹس فورم (پی جے ایف) نے کہا کہ بہت کم تنظیمیں ہیں جو محصورین کی مدد کررہی ہیں لیکن ان میں مرحوم مجید نظامی کا تشکیل کردہ ”نوائے وقت فنڈ” ہے جو گذشتہ دو دہائیوں سے مسلسل محصورین کو فلاحی، تعلیمی اور طبی ضرویات کو پورا کررہا ہے۔۔نیوز10کے بیوروچیف محمد امانت اللہ نے 1971 کی جنگ کے شہداکوزبردست خراج تحسین پیش کیا۔ کنوینرسید احسان الحق نے تمام مقررین، شعرا ء اورمہمانوں کا خاص طور سے ڈاکٹرعلی الغامدی، صحافیوں کشمیر اکپریس کیمصطفی خان اورعرب نیوزکے جاوید ناصر کا تقریب میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اپنے خطاب کے آخر میں مندرجہ ذیل قراردادیں پیش کیں جن کو سامعین نے منظور کرلیا۔انہوں نے قرارد پیش کرتے ہوئے کہا کہ  :::   ہم صدرڈاکٹرعارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ محصورپاکستانیوں کی وطن واپسی اور بحالی کا کام فوری طور پر شروع کریں۔ فنڈ کی قلت پر قابو پانے کے لئے پی آر سی کی تجویز”سیلف فنانس کی بنیاد” پر محصورپاکستانیوں کی آباد کاری” پر عمل درآمد کریں۔ہم نوائے وقت فنڈ، مسلم ویلفیئراینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایم ڈبلیو اینڈ ڈی او)، فرینڈزآف ہیومینٹی (ایف او ایچ)، او باٹ ہیلپرز، آئی ڈی بی اور دیگر تنظیمیں کی مدد کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔قبل ازیں سمپوزیم کا آغاز انور چودھری نے تلاوت قران پاک سیہوا۔ معروف شاعرآفتاب ترابی نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ شاعر زمرد خان سیفی اور آفتاب ترابی نے شہدا مشرقی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کیا اورمحصورین کی حالت زار پر نظمیں پیش کیئں۔آخیر میں انور چودھری نے کشمیر، برما، محصورین، عالم اسلام کی سربلندی اور  پی آر سی کے سینئر ممبر فہیم الدین کے بھائی نسیم الدین کے انتقال پر ان کے لئے دعائے مغفرت کی۔سمپوزیم کی نظامت کے فرائض معروف سینئر  صحافی  سید مسرت خلیل نے سرانجام دیئے۔
   



اپنا تبصرہ بھیجیں