سانحوں پر آنسوں بہانے والی ’بے حس“قوم

امیر محمد خان۔
                                 سانحوں پر  آنسوں بہانے والی  ’بے حس“قوم   ہم  سانحون کی عظیم تاریخ رکھنے والے ملک کے فرزند ہیں ۔ یہ ہمارا  المیہ ہے کہ ستر سالوں سے ہم سانحون پر  کچھ دیر  افسوس کرتے ہیں ، زیادہ سنگین سانحہ ہوتو   جو محب وطن ہیں وہ آنسو بھی بہا لیتے ہیں ۔ مگر اجتماعی طور  ہم سانحہ پر افسوس کے باجود  ایک”بے حس “ قوم ہیں۔ بے حس ہونے کے قصور وار ہم نہیں  بلکہ ہم بے حسی کا شکار ہیں اپنی گزشتہ ستر سالہ قیادت کی بے حسی  اور موٹی چمڑی کی وجہ سے، جو سانحوں سے سبق سیکھنے سے قاصر ہے  اور  قائد اعظم کے اس خوبصورت ترین تحفے کو اپنی اناء   اور مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھایا ہوا ہے،  ”میوزیکل چیئر“ کے اس مجرمانہ کھیل میں  ملکی مفاد کو ایک کونے میں رکھ دیا گیا ہے۔ جب دسمبر آتا ہے تو  محب وطن افرادکی  سانحہ بنگلہ دیش کو یاد کرکے روح کام جاتی ہے ۔ اسکو بے حسی کے علاوہ  کے علاوہ کیانام دیا جائے کہ 1971 ء سے آج تک  ان معاملات پر  ہم  کسی ایک سوچ کے حامل نہیں ہوسکے کہ  3دسمبر کو  بھارتی جارحیت کے بعد 16 دسمبر کے نہائت ہی قلیل عرصے  کیا  آفت ٹوٹی کہ  ان تیرہ دنوں میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا ۔ بنگلہ دیش کے اعلان کا دن  ایک  ”شام غریباں“ سے کم نہیں  تھا جب  سڑکوں پر  نوجوانو ں ، خواتین اور  بزرگوں کر  آہ گزاری کرتے دیکھا، کئی دن محب وطنوں کے گھروں  کے چولہے بجھے رہے۔ مگر یقین ہے کہ  اسکی پشت پر ہماری اسوقت کی ہماری فوجی قیادت ،اور سیاسی قیادت  اپنا مشن  پورا ہونے پر  داد عیش  دے رہے ہونگے۔ جنرل  رانی کے شیدائی  چین کی بنسریاں بجارہے ہونگے۔ آج ہمارے قریبی ترین دوست پر جب جب ہم نے  اعتبارکیا ، چاہے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ  میں ثالثی  کیلئے آنے والا بحری بیڑہ ہو یا  آج ہمیں کشمیر  سے دور کرنے والا امریکہ کی پالیسی کا حصہ تھا ۔جنرل ایوب کا دور اقتدار اور اسوقت کی جو بھی قیادت تھی انکی مشرقی پاکستانکی  علحیدگی کی خواہش اور  عامیانہ سوچ  کبھی  مشرقی پاکستان کو اپنے ساتھ رکھنے پر راضی نہ تھے ۔آزادی صحافت کی ایک تحریک کے نتیجے میں  جیل جانے پر  1978ء  میں  میری  کچھ سیاسی قیدیوں سے ملاقات  میں حیدرآباد کی جیل میں مجھ پر انکشاف ہوا۔دروغ بہ  گردن راوی، کہ جب  نیشنل عوامی پارٹی ،ولی خان والی جن پر ہمیشہ  علیحدگی پسند کا الزام تھا ،جب وہ سازش کیس میں  جیل میں تھے انہیں جنرل  ایوب  نے جیل سے ایوان صدر بلا کر  آؤ  بھگت کی ۔ باچا خان، ولی خان کی تحریکوں  اور قربانیوں کی تعریف کرکے ان سے کہا گیا کہ  آپ اپنے مطالبات میں  مشرقی پاکستان کی علیحدگی  کا مطالبہ رکھیں اور اس پر  تحریک چلائیں، اس کے متعلق  انہیں وجوہات بھی بتائیں کہ وہ مغربی پاکستان کی معیشت پر بوجھ ہے ، راوی نے بتایاکہ ایوب خان کی بات سنکر  ولی خان کھڑے ہوگئے  کہ  ہم پر پہلے ہی الزام  ہے کہ ہم علیحدگی پسند ہیں  آپ ہمیں کیا سونپ رہے ہیں ؟؟  مذاکرات کے نتیجے میں انہیں واپس  ایوان صدر سے ”عزت کے ساتھ“حیدرآباد “جیل بھیج دیا گیا۔ وہ کاروائیاں   جو بنگلالیوں پر اسوق کی قیادت  نے کیں  وہ اسی سوچ کی غمازی تھیں۔سانحہ مشرقی پاکستان درحقیقت مغربی پاکستان یا موجودہ پاکستان کی جانب سے مشرقی بازو کے ساتھ روا رکھی جانے والی بے انصافی کا ایک فطری نتیجہ تھا۔ بنگالیوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ فوجی اور سول ملازمتوں میں اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اداروں میں ان کی موجودگی کو برداشت نہیں کیا جاتا تھا۔ پھر وہاں پر فوجی آپریشن کے ذریعے اتنا ظلم روا رکھا گیا کہ بنگالیوں کے پاس سوائے اس طرح جدا ہونے کے اور کوئی راہ موجود ہی نہ تھی  حقائق روشن ہوتے ہیں لیکن وہ نہیں دیکھ سکتے جو جان بوجھ اور پالیسی کی مطابق کررہے  ہون۔ آخری بات جب یہ کچھ ایسا ہی تھا تو اتنا بڑا سانحہ کیونکر رونما ہو گیا۔ اسکا  جواب  آمریت کا مسلط ہونا ہے۔ چاہے وہ کھلی ہو۔ یا پردے میں قیمت قوم اور فوج دونوں کو چکانا پڑتی ہے۔ ورنہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے سیاستدان 1965کے آئین پر متفق ہو کر اس کو بنا چکے تھے۔ مگر آمریت آ گئی  اور تمام بساط الٹ گئی۔کیا ایسا ممکن  ہوسکتا ہے وہ بنگال جس نے قیام پاکستان کے سلسلے میں  قائد اعظم محمد علی جنا ح ہر قدم پر ساتھ دیا  وہ پاکستان کے قیام کے صرف  مختصر 24  سالوں میں  پاکستان سے علیحدگی اختیا ر کرکے  اپنے علیحدہ شناخت بنا لے، بھارتی  توسیع پسندہ  عزائم اپنی جگہ  مگر  جب تک  اندرونی مدد حاصل نہ ہو  ایس ممکن نہ تھا ، اندرونی مدد حاصل ہونے کی وجہ  مغربی پاکستان کی قیادت کی وہ  ناانصافیاں تھیں جو مشرقی پاکستان کے  عوام پر  توڑی جارہی تھیں ایسی اندرونی صورتحال کو  دشمن استعمال کرنا  اپنا حق سمجھتا ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان دنیا کی تاریخ کا وہ واقعہ ہے  کہ آئیندہ سو  سال تک بھی آنے والی  پاکستانی نسل جب اپنے ملک کی تاریخ پڑھے گی  اور انکے سر  ندامت  سے جھک جائیں گے اور  وہ فیاض چوہان کی زبان میں ”اچھی زبان میں اپنی قیادت کو یاد کرینگے۔ مارکس کی تھیوری  کے مطابق   کبھی حالات  ایک جیسے نہیں رہتے  تبدیلی لازمی  ہے   (پاکستان کی حالیہ تبدیلی  نہیں ) ، جس بنگلہ دیش  کے قیام پر  اندرا گاندھی نے کہا تھا  کہ  ”ہم نے آج  دو نظریہ کو  دفن کردیا ہے “ آج ہندوستانی قیادت  ہندوستان کے قوانین میں وہ  تبدیلیاں لا رہی ہیں جس  بھارت  کا ”خاتمہ  بلخیر“انشاللہ زیادہ دور نہیں   مودی  RSS   پالیسیاں چاہے کشمیر ہو  یا   ہندوستان  بھارتی  تباہی  کو مورخ نے لکھنا  شروع کردیا ہے۔ہم سانحہ بنگلہ دیش ، اور پشاور اسکول میں ننھے بچوں کی یاد  سالوں سے منا رہے ہیں  مگر سبق  حاصل نہیں کررہے  اور آپس میں  دست و گریبان ہیں سیاسی  نفرتوں میں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں، عوام کو بے وقوف بنا رکھا ہے سب نے ملکر  عوام  سانحہ بنگلہ دیش،  پشاور اسکول سانحہ کالہو کس کے ہاتھوں پر تلاش کریں۔ ہمیں رونا آتا ہے  مگر بے حس بھی  اتنے ہی ہیں۔ آج تک  مشرقی پاکستانکی علحیدگی کے مجرموں کا تعین نہیں کرسکے جو ہمارے اندرونی تھے۔  چاہے مر کھپ گئے ہوں مگر  تاریخ میں تو لکھنا ضروری ہے  کہ  کس کا کتنا جرم تھا ، کہیں تاریخ میں لکھا ہے  کہ 90,000 مسلح فوجیوں نے ہتھیار ڈالے ہوں؟؟؟ ُٓ  

اپنا تبصرہ بھیجیں