نجف مرزا کے ڈی جی نیب کراچی بننے سے سندھ میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔

نجف مرزا کے ڈی جی نیب کراچی بننے سے سندھ میں  خوف و ہراس پھیل گیا ۔ڈاکٹر نجف  قلی مرزا کے قریب بھی دوست نہیں ایک بااصول بہادر اور سخت افسر قرار دیتے ہیں جس کی وجہ سے کرپٹ عناصر میں خوف ہراس پھیل گیا ہے اور انہیں اپنی شامت نظر آرہی ہے ۔گریڈ 21 کے پی ایس پی افسر ہیں  وہ ماضی میں حکومت سندھ اور وفاقی حکومت میں مختلف اہم عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں  وفاقی حکومت کی جانب سے اپنی تعیناتی کے بعد انہوں نے 16دسمبر کو نیب کراچی میں ڈائریکٹر جنرل کے فرائض سنبھال لیے ہیں نئے ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کی حیثیت سے انہوں نے انویسٹی گیٹنگ افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پوری توجہ  شفافیت پر مرکوز ہوگئی اور وہ پوری کوشش کریں گے کہ نئے کے معاملات میں ٹرانسپرنسی اور فئیرنیس کو یقینی بنائیں ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ نجف  مرزا ماضی میں  سپریم کورٹ کی جانب سے یٰسین میں منی لانڈرنگ اسکینڈل کی انویسٹیگیشن کے لیے بنائی گئی ٹیم کے سربراہ بھی تھے سات رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے وہ سربراہ تھے اور ایف آئی اے میں ڈائریکٹر تھے ایف آئی اے نے اس کو تعزیت علی زرداری اور فریال تالپور سمیت پیپلزپارٹی کے دیگر رہنما اور سرکاری افسران اور دیگر شخصیات کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے معاملات کی تحقیقات شروع کی تھی ۔1999 میں جب آصف علی زرداری پر تفتیش کے دوران تشدد ہوا تھا تو اس وقت نجف مرزا اس جیل کے سپرٹینڈنٹ تھے اس واقعے کو مدنظر رکھتے ہوئے بعد میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو نجف مرزا کو کوئی اہم پوسٹنگ  نہیں دی ۔لیکن جیسے ہی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت ختم ہوئی اور 2013 میں مسلم لیگ نون کی حکومت آئی تو نجف مرزا کو ایف آئی اے میں ڈاکٹر تعینات کیا گیا اسے پہلے پورٹ قاسم میں تین سال تک جب مرزا نے خدمات انجام دیں ۔ڈائپر ہائیہ کی حیثیت سے بھی نہیں جب مرزا اور حکومت سندھ  کے درمیان تناؤ کی کیفیت برقرار رہی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ نجف مرزا سابق وزیر داخلہ اور پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے رشتہ دار ہیں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے سابق صدر آصف علی زرداری کی مخالفت شروع کی اور پیپلزپارٹی  کی حال ہے قیادت سے باغی ہوگئے تو سیاسی حلقوں میں یہ خیال کیا جاتا رہا کہ نجف مرزا کو اسی رشتہ داری کی وجہ سے پیپلز پارٹی پسند نہیں کرے گی ۔جب 2018 میں پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو پیپلز پارٹی کے ساتھ  تعلقات کشیدہ رہے  وزیراعظم اور وزیراعلی سندھ کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ کے باوجود بہت سے معاملات پر تناو اور فاصلہ ہے ۔پیپلز پارٹی کے حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ وزیراعظم عمران خان سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو ختم کر کے پی ٹی آئی کی حکومت لانے کے خواہشمند ہیں ایسا کرنے کے لئے پیپلزپارٹی کو کمزور کرنا ضروری ہے  ۔اس تناظر میں ڈی جی نیب کی حیثیت سے نجف مرزا کی تعیناتی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں نجف مرزا کی ان حالات میں ڈی جی نیب کراچی بننے کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی قیادت اور اس کی قربت رکھنے والے سرکاری افسران میں کھلبلی مچی ہوئی ہے خوف وہراس واضح ہیں کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے افسران اور سیاسی شخصیات کو آنے والے دنوں میں اپنی شامت نظر آرہی ہے لیکن دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور آغا سراج درانی اور سید خوشیاں کی ضمانت ہونے پر  پیپلزپارٹی کی قیادت کافی حد تک ریلیف محسوس کر رہی ہیں سیاسی حلقوں میں یہ تبصرے جاری ہیں کہ اسلام آباد میں بعض عدالتی فیصلوں کے بعد پیدا شدہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی اہمیت بڑھ گئی ہے ممکنہ قانون سازی میں پیپلزپارٹی کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے اس لئے پیپلزپارٹی کی قیادت کو جو ریلیف ملا ہے اس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں بھی بس پارٹی کے مزید لوگوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے امکانات کم ہیں البتہ بعض سرکاری افسران اور غیر سیاسی شخصیات کو فرنٹ مین ہونے کے الزامات کے تحت پوچھ کے عمل سے گزارا جاسکتا ہے اور ان کی گرفتاری بھی عمل میں آ سکتی ہیں اگر پیپلزپارٹی کی قیادت کو مطلوبہ قانون سازی کے موقف کنٹرول میں رکھنا مقصود ہوا ہے تو ان کے قریبی لوگوں کو مختلف مقدمات میں الجھایا یا گرفتار کیا جا سکتا ہے ۔سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ دونوں صورتوں میں پیپلز پارٹی سندھ کی قیادت اور ان کے قریبی سرکاری افسران اور دیگر شخصیات کو نیب کی پوچھ مقدمات اور گرفتاریوں کا خطرہ رہے گا ان حالات میں نجف مرزا کا کردار یقینی طور پر اہمیت کا حامل لوگ ہے آنے والے دنوں میں ان کے اقدامات واضح کریں گے کہ ان کے اصل اہداف کیا ہیں ؟




اپنا تبصرہ بھیجیں