ایل این جی کیس: شیخ رشید،شاہد خاقان کے خلاف نیب کےگواہ بن گئے

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد احتساب عدالت میں شاہد خاقان عباسی کے خلاف گواہی دیں گے، شیخ رشید احمد بطور شکایت کنندہ نیب کے پہلے گواہ ہوں گے۔ نیب 59 گواہوں کو عدالت میں پیش کرے گا ۔ ان گواہان میں وزارت توانائی کے 4 افسر محمد حسن بھٹی، نواز احمد ورک، عبدالرشید جوکھیو ،عمر سعیدبھی گواہان میں شامل ہیں ۔قائمقام جنرل منیجر سوئی سدرن گیس فصیح الدین بھی گواہ بن گئے ہیں جبکہ جمیل اجمل ڈائریکٹر پوسٹ قاسم اتھارٹی بھی استغاثہ کے گواہ ہوں گے۔
یاد رہے کہ12 دسمبر کو قومی احتساب بیورونےرجسٹرار احتساب عدالت کے اعتراضات دور کرنے کے بعد ایل این جی ریفرنس دوبارہ دائر کیا تھا جسے احتساب عدالت نے باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کیا ۔ریفرنس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت 10 ملزمان کو نامزد کیا گیاہے ۔نیب نے 8 ہزار صفحات پر مشتمل ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا ہے جبکہ ایل این جی ریفرنس احتساب عدالت نمبر ایک سے احتساب عدالت نمبر دو میں منتقل بھی کر دیا گیا۔ قبل ازیں بھی نیب کی جانب سے ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ غیر قانونی تھا اور اس غیرقانونی ٹھیکے سے قومی خزانے کو 21 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا،ملزمان کرپشن اور کرپٹ پریکٹس میں ملوث ہیں ۔ ریفرنس میں شاہد خاقان عباسی کیخلاف 2 وعدہ معاف گواہ بھی سامنے آگئے تھے۔جن میں سابق سیکریٹری پٹرولیم عابد سعید اور ایل این جی کمپنی کے سابق سربراہ مبین صولت شامل ہیں۔تاہم رجسٹرار احتساب عدالت نے ریفرنس نیب کو واپس کر دیا تھا ۔احتساب عدالت نے ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے جوڈیشل ریمانڈ میں 6 جنوری تک توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی تھی ۔
واضح رہے کہ نیب نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 18 جولائی کو لاہور سے گرفتار کیا تھا ،ان پر اربوں روپے مالیت کے ایل این جی کےغیر قانونی ٹھیکے دینے کا الزام ہے ۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2015 میں کم قیمت پر ایل این جی کے ٹھیکے دئیے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب نے انکشاف کیا کہ انہوں نے 220 ارب روپے کے ٹھیکے اس کمپنی کو دئیے جس میں وہ خود شیئر ہولڈر ہیں۔نیب نے 2016 میں کیس بند کر دیا تھا جبکہ 2018 میں کیس کو دوبارہ کھول دیا گیا۔