پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت تمام شعبہ جات بہترین کام کررہے ہیں۔ مرتضیٰ وہاب

پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت تمام شعبہ جات بہترین کام کررہے ہیں۔ مرتضیٰ وہاب

کراچی ( 17 دسمبر) وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر قانون و ماحولیات اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے زیر اہتمام پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا کارکردگی تمام شعبوں میں بہترین جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ لیگل ایڈوائزری کال سینٹر SLAC کے رپورٹ اینڈ ریسرچ کی افتتاحی تقریب میں بحیثیت مہمانٍ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے معروف غیر ملکی جریدے ” اکنامسٹ” نے سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پروگرام کو ایشیاء کا چھٹا بہترین پروگرام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کال سینٹر تمام شہریوں کو بلا معاوضہ قانونی مشاورت فراہم کررہا ہے جس سے صوبہ کا ہر باشندہ بلواسطہ یا بلا واسطہ استفادہ کررہا ہے اس کی وجہ لیگل ایڈوائزری کال سینٹر کی شاندار کارگزاری یے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ایسے تمام شعبوں میں نجی اداروں کے تعاون کی حوصلہ افزائی کررہی ہے جس کا فائدہ ہر شخص کو ملے یہ کال سینٹر بھی اس مثبت رجحان کی زندہ مثال یے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت جیلوں کی اصطلاحات کیلئے بھی مزید کام کررہی ہے تقریباً ڈیڑھ صدی پرانے جیل مینوئل کو ازسرنو مرتب کیا ہے جس میں انسانی حقوق کے نظریہ کے تحت جیل کے قوانین میں اصلاحات کی گئی ہیں اور یہ افتخار صرف صوبہ سندھ کے حصہ میں آیا ہے کہ جیل قوانین کی اصطلاحات کا بیڑا اٹھایا گیا یہ سب پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت کا خاصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر کول پر بھی سندھ حکومت نے انقلابی کام کیا ہے جس کی مٹال تھر کے کوئلے سے ملنے والی تمام رائلٹی مکمل طور پر تھر کے فلاحی پروگراموں میں استعمال کی جائے گی اب تھر کے بچے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ماہرین نباتیات کی تحقیقی کاوشوں کی بدولت تھر کا زیر زمین کھارا پانی زراعت کے لئے استعمال ہو رہا ہے اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت صحت کے شعبہ میں حکومت سندھ بھرپور تعاون کررہی ہے پرائیویٹ ایمبولینس سروس، ایس آئی یو ٹی، انڈس ہسپتال اور این آئی سی وی ڈی میں صحت کی اعلیٰ میعار کی سہولیات بلامعاوضہ فراہم کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں تو معاشرہ میں مثبت تبدیلی آئے گی اگر عدالتی نظام کے سست روی کی بات کی جائے تو ہم اسے مقدمات کا دباؤ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ محتسب اور کمیشن کے ادارے درست کارکردگی دکھائیں تو عدالت پر دباؤ کم ہو گا اس کے علاوہ یہ امر بھی ذہن نشین ہونا چاہیے کہ جو شخص بلا وجہ عدالت میں مقدمہ دائر کرے اس کو بھی سزا کا مستوجب گردانا جائے ۔ عدلیہ کی معاونت اور بروقت انصاف کا حصول قانون کے مطابق اور اس کے ساتھ کام کرنے سے پیوستہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں نفی کو قبول کرنے کا رجحان اس تیزی سے سرایت کرچکا ہے کہ ہر معاملہ کو غلط معنوں میں سوچا جاتا ہے اس لیئے ہمیں سازشوں سے دور رہنا ہو گا اور قانون پر عمل کرنا ہمارے اخلاقی کردار سے جڑا ہوا ہے۔ اس تقریب میں جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد، جسٹس ریٹائرڈ عارف خلجی ، سیکرٹری قانون شارق احمد،سیکریٹری داخلہ عثمان چاچڑ ، ڈی آئی جی عبد الخالق شیخ ، ڈی آئی جی جیل خانہ جات قاضی نذیر اور دیگر بھی شریک تھے بعد ازاں ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی حکومت میں شامل لوگ عوامی مفاد میں کام کرتے ہیں جبکہ سلیکٹیڈ لوگوں کی اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان میں وہ صلاحیت اور سیاسی شعور نہیں ہے کہ وہ عوام کے مفاد میں کوئی کام کرسکیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ فواد چوہدری پارلیمنٹ کا حصہ ہیں ان کو قانون سازی کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیئے ہم نے قانون کو اصل شکل میں بحال کیا ہے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے لیے میڈیکل بورڈ پمز میں بنا اور انہی شواہد کی بناء پر عدالت نے ان کی ضمانت منظور کی ہے اور اسی وجہ سے زرداری صاحب کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ان کے پرانے معالجین کی نگرانی میں ان کا علاج ہورہا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پرویز مشرف کیس میں عدالت نے انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا ہے ۔