سعودی میڈیکل کی طالبہ نے شاہراہ پر چائے کا ڈھابہ لگا لیا

سعودی میڈیکل کی طالبہ  نے شاہراہ پر  چائے کا ڈھابہ لگا  لیا،عملی  زندگی کو قریب سے دیکھنے کا  خواہش    ریاض میں میڈیکل کی ایک طالبہ نے فارغ وقت کو مفید بنانے کی غرض سے شاہراہ کے کنارے چائے کا ڈھابہ لگا لیا ہے۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ عملی زندگی کو قریب سے دیکھنا چاہتی ہوں۔مذکورہ طالبہ کی وڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر سبق نیوز نے اس سے ملاقات کی تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ  طالبہ کی جانب سے سڑک کے کنارے چائے فروخت کرنے کی اصل کہانی کیا ہے؟طالبہ کا کہنا تھا کہ ‘میں زندگی کو قریب سے دیکھ کر مستقبل کے لیے راہ متعین کرنا چاہتی ہوں، پڑھائی کے ساتھ ساتھ میری یہ خواہش ہے کہ اپنے فارغ وقت کو کارآمد بناتے ہوئے تجارت کے اصولوں کو سمجھوں۔‘’سٹال پرآنے والوں کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں میڈیکل تھرڈ ایئر کی طالبہ ہوں تو وہ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں، اکثر کا سوال یہی ہوتا ہے ’کیا معاشی مسئلہ ہے؟‘طالبہ نے مزید کہا ’میں اپنی خوشی سے چائے فروخت کرنے کا کام کر رہی ہوں، میرے گھروالوں کی جانب سے مجھ پر کوئی دباؤ نہیں اور نہ ہی ان کی جانب سے کبھی مجھے مالی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، بس میرا شوق ہے جس کے لیے میں نے یہ اقدام کیا۔‘ ایک خاتون نے جب طالبہ سے دریافت کیا کہ ‘جب لوگوں کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ میڈیکل کی طالبہ ہیں تو ان کا ردعمل کیسا ہوتا ہے‘ اس سوال پر طالبہ کا کہنا تھا کہ ہر کوئی میرے جذبے کو سراہتے ہوئے میری کامیابی کے لیے دعا کرتا ہے۔ ’مجھے وہ لمحہ بہت اچھا لگتا ہے جب لوگ میرے لیے مخلصانہ دعائیں کرتے ہیں۔‘ میں اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا چاہتی ہوں سعودی خواتین  کسی ملک کی خواتین سے کم تر نہیں، وہ اگر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو کرکے ہی دم لیتی ہیں، ہم میں صلاحیت ہے اور قابلیت کی کمی بھی نہیں ہم اپنی راہیں خود متعین کرنا جانتی ہیں۔ واضح رہے قبل ازیں سعودی عرب میں یہ تصور نہیں تھا کہ کوئی خاتون اس طرح سڑک کے کنارے ڈھابہ لگا کر چائے فروخت کرے گی۔ حالیہ سالوں میں آنے والی تبدیلی کے اثرات معاشرے پر واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ مارکیٹوں کے علاوہ مختلف پیشوں میں سعودی خواتین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔سعودی عرب میں چائے کے ڈھابے قدرے مختلف ہوتے ہیں جنہیں ’کوئلے والی چائے‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اکثر لوگ  سڑک کے کنارے کوئلوں پر چائے بنا کر فروخت کرتے ہیں جسے کافی پسند کیاجاتا ہے۔ سعودی نوجوان ہر کام میں مہارت حاصل کررہے ہیں۔  ماضی قریب تک سعودی نوجوان مخصوص پیشوں میں جانا اپنے لیے بے عزتی کا باعث سمجھتے تھے تاہم اب یہ منظر نامہ بدلنے لگا ہے۔مقامی اخبار 24 کے مطابق ایک سعودی نوجوان نے اس حوالے سے ایک مثال قائم کی ہے فیصل نامی سعودی نوجوان سرکاری ملازم تھا۔ انہوں نے سرکاری ملازمت کو خیر باد کہا اور باربر شاپ کھول لی۔ایم بی سی ٹی وی چینل نے سعودی نوجوان کے جرات مندانہ اقدام کو سراہتے ہوئے ان پر ایک باقاعدہ پروگرام بھی پیش کیا ہے۔سعودی نوجوان فیصل نے ایم بی سی کو بتایا ’باربر شاپ کی لاگت زیادہ نہیں ہوتی، کم سرمائے سے دکان کھل جاتی ہے۔ اس فیلڈ میں سعودی شہری برائے نام ہیں۔‘’باربر شاپ کھول کرہم وطنوں میں امتیازی حیثیت حاصل ہوگئی کہ ایک سعودی ہوتے ہوئے باربرکا کام کر رہا ہوں۔ یہاں سعودی بھی آتے ہیں اورغیر ملکی بھی پہنچنے لگے ہیں۔‘فیصل کے مطابق باربر شاپ کھولنے سے قبل تین ماہ ٹریننگ لی۔ کام تھوڑا مشکل تھا لیکن اللہ کا شکر ہے کام ٹھیک ٹھاک طریقے سے سیکھ لیا ہے۔ شروع میں حوصلہ شکنی والے جملے بھی سننے کو ملے مگر اب رفتہ رفتہ منظر نامہ تبدیل ہورہا ہے۔‘فیصل کا کہنا تھا ’کئی سعودی نوجوانوں کو ٹریننگ دے چکا ہوں 

اپنا تبصرہ بھیجیں