ڈاکٹر مصدق ملک کو خزانہ , احد چیمہ کو مشیر ‘عطا تارڑ اطلاعات ‘ خوآجہ اصف دفاع ‘ اسحق ڈار خارجہ ‘ احسن اقبال منصو بہ بندی و ترقیات رانا تنویر حسین اور شزہ فاطمہ خواجہ کابینہ کا حصہ ۔ جہانزیب خان معاون خصوصی۔مسلم لیگ ( شجاعت حسین ) کے چوہدری طارق بشیر چیمہ اور چوہدری سالک حسین بھی کابینہ میں ایم کیو ایم کے بھی دو وزیر

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ) وفاقی کا بینہ کی تشکیل کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف نے مشاورت شروع کردی ہے۔وزیر اعظم آج بروز منگل گوادر کا دورہ کریں گے اور وہاں بارشوں سے ہو نے والے نقصانات کا جا ئزہ لیں گے۔وزیر اعظم کل بروز بدھ کراچی کا دورہ کریں گے ۔وہ مزار قائد پر حاضری دیں گے۔ جمعرات کو کابینہ کی تشکیل کو حتمی شکل دی جا ئے گی۔ آج گوادر سے واپس آکر وزیر اعظم ایف بی آر سے متعلق اجلاس کی صدارت کریں گے۔ وزیر اعظم نے طے کیا ہے کہ معیشت کے ہر پہلو پر الگ الگ اجلاس بلایا جا ئے گا۔ وزیر اعظم نے پیر کے روز ملکی معیشت پر مجموعی جائزہ کیلئے اجلاس بلایا تھا۔اہم بات یہ ہے کہ اس اجلاس میں سا بق وزیر خزانہ اسحق ڈار موجود نہیں تھے بلکہ سا بق وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل سنیٹر مصدق ملک کو مشاورت کیلئے بلایا گیا۔ وزیر اعظم نے انہیں پہلی نشست دی ۔ قوی امکان ہے کہ ڈاکٹر مصدق ملک کو وزارت خزانہ کا قلم دان سونپا جا ئے۔ ا س اجلا س میں احد چیمہ کو بھی بلایاگیا۔ احد چیمہ کو وزیر اعظم نے اپنا مشیر بنا نے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ وزیر اعظم آفس میں ہی بیٹھیں گے۔ عطا تارڑ کو وزیر اطلاعات و نشریات ‘ خوآجہ اصف کو وزیر دفاع ‘ اسحق ڈار کو وزیر خارجہ ‘ احسن اقبال کو وزیر منصو بہ بندی و ترقیات بنائے جا نے کا امکان ہے۔ رانا تنویر حسین اور شزہ فاطمہ خواجہ بھی کابینہ کا حصہ ہوں گے۔ جہانزیب خان وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہوں گے۔مسلم لیگ ( شجاعت حسین ) کے چوہدری طارق بشیر چیمہ اور چوہدری سالک حسین بھی کابینہ میں شامل ہوں گے۔ ایم کیو ایم کے بھی دو وزیر لئے جائیں گے۔ استحکام پا کستان پارٹی کے عبد العلیم خان بھی کابینہ میں شامل ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں پیپلز پارٹی کابینہ میں شامل نہیں ہوگی ۔ دوسرے مرحلے میں پیپلز پارٹی وزارتیں لے گی۔

=================

آئی ایم ایف کو دعوت کی منظوری، وزارت خزانہ کی دوڑ میں آگے بینکر محمد اورنگزیب بھی شریک، مصدق ملک کو وزیر خزانہ، عطا تارڑ کو اطلاعات، خواجہ آصف کو دفاع، اسحاق ڈار کو وزیر خارجہ بنائے جانے کا امکان
05 مارچ ، 2024FacebookTwitterWhatsapp
اسلام آباد ( مہتاب حیدر) تازہ حلف اٹھانے والے وزیراعظم شہبازشریف نے آئی ایم ایف کی ٹیم کو دعوت دینے کا عمل شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے تاکہ موجودہ اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ کی تکمیل کے لیے مذاکرات شروع کیے جاسکیں اور فنڈ سے تین سالہ نئی ڈیل کی درخواست کی جاسکے۔ وفاقی کابینہ کی تشکیل کےفوری بعد آئی ایم ایف کی ٹیم کو ان اہم مذاکرات کےلیے اسلام آباد بلایاجائےگا۔ وزیراعظم کو ابھی اپنی کابینہ کے ارکان کا چناؤ کرنا ہے اورمعروف بینکر محمد اورنگزیب کا نام اس سلسلے میں لیاجارہا ہے جو اس دوڑ میں آگے آگئے ہیں۔ اگرچہ نوازلیگ کے جہاندیدہ رہنما اسحق ڈار بھی ابھی تک اس دوڑ میں موجود ہیں تاہم وزیراعظم شہبازشریف کے دفتر میں ہونےوالے پہلے اجلاس میں محمد اورنگزیب موجود تھے۔ ن لیگ کے رہنما عرفان صدیقی نے چند روز قبل جنگ /دی نیوز سے بات کر تے ہوئے بتایا تھا کہ اسحق ڈار ہی ن لیگ کے وزیرخزانہ ہوں گے۔رکن قومی اسمبلی پرویز ملک جن کا تعلق لاہور سے ہے وہ بھی اقتصادی معاملات کے حوالے سےہونے والے اس اجلاس میں شریک تھے۔ نگران وزیرخزانہ شمشاد اختر بھی وزیرخزانہ بننے کی دوڑ میں شامل ہیں۔وہ وزیراعظم شہبازشریف کی حلف برداری کی تقریب میں وہ بھی شریک تھیں۔ اس امرکا بھرپور امکان ہے کہ نئی حکومت کی معاشی ٹیم میں معروف بینکار محمد اورنگزیب موجود ہوں گے۔ آنے والے وزیر خزانہ کےلیے سب سے بڑا چیلنج آئی ایم ایف کی ای ایف ایف والی ڈیل پر کاربند رہنا ہوگا۔ وزیراعظم نے بھی اپنے زیر صدارت ہونے والے پہلے اجلاس میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ نئی ڈیل حاصل کی جاسکے۔ فی الوقت آئی ایم ایف کے ساتھ 3 ارب ڈالر کا جو ایس بی اے پروگرام چل رہا ہے وہ 12 اپریل کو مکمل ہوجائے گاچنانچہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا اسلام آباد موجودہ ایس بی اے پروگرام کو مکمل کرنے کو ترجیح دیتا ہے اور اس کی باقی ماندہ 1.1 ارب ڈالر کی قسط لینے کے راستے پر ہے یاپھر نئے تین سالہ ای ایف ایف پروگرام کےلیے مذاکرات کریگا۔
===

وزیراعظم محمد شہباز شریف نےحلف اٹھانے کے چند گھنٹوں بعد ہی ملکی معیشت کی بحالی کے حوالے سے ایک طویل اجلاس کی صدارت کی ۔ وزیراعظم کو سیکرٹری خزانہ کی طرف سے ملکی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے معاشی صورتحال کی بحالی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے کہ ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ملک کی معیشت کو بہتر کرنے کا مینڈیٹ ملا ہے اور یہی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بھرپور طریقے سے کام کرے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 65 ارب روپوں کے ٹیکس ریفنڈز کلئیر کر دیئے ہیں۔ وزیراعظم نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی کے حوالے سے آئی ایم ایف سے بات چیت کو فوری طور پر آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسے ٹیکس پئیرز جو کہ ملکی برآمدات میں اضافے اور ملکی معیشت میں ویلیو ایڈیشن کے لئے کام کر رہے ہیں وہ ہمارے سروں کا تاج ہیں ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ؛ ایسے ٹیکس پئیرز کی حکومتی سطح پر پذیرائی کی جائے گی.۔ وزیراعظم نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں شفافیت لانے کے لئے آٹومیشن نا گزیر ہے۔ انہوں نے ایف بی آر اور دیگر اداروں کی آٹومیشن پر فی الفور کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نقصان میں جانے والے حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری کی جائیگی تاکہ یہ ادارے ملکی معیشت پر مزید بوجھ نہ بنیں۔ وزیراعظم نے حکومتی بورڈز کے ممبران کی مراعات میں کمی کے لئے واضح حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے پاور اور گیس سیکٹرز کی اسمارٹ میٹرنگ پر منتقلی کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی جس کی بدولت اسمارٹ میٹرنگ سے لائین لاسز کم کرنے مدد ملے گی۔
==================

نو منتخب وزیراعظم محمد شہبازشریف نے وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ صدر عارف علوی نے ان سے حلف لیا ‘ حلف برداری کی تقریب پیر کو ایوان صدر میں ہوئی ۔ حلف برداری کے بعد شہباز شریف وزیراعظم ہاؤس آئے تو افواج پاکستان کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا ۔ بعدازاں شہباز شریف اور سبکدوش نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی الوداعی ملاقات ہوئی۔شہباز شریف نے نگراں حکومت کے ملکی ترقی کے تسلسل کیلئے اقدامات کی تعریف کی۔ادھرسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نےشہباز شریف کواپنے عہدے کا حلف اٹھانے پر مبارکباد کاپیغام بھیجا ہے۔ولی عہد نے شہباز شریف کی کامیابی اور پاکستانی عوام کی مستقل ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔