آخرکار منتخب وزیراعلیٰ KP علی امین گنڈاپور نے پہلا پتھر پھینک دیا


پشاور( ارشدعزیز ملک ) آخر کار منتخب وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے پہلا پتھر پھینک دیا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہ کرکے محازآرائی کاباقاعدہ آغاز کر دیا ہےجس سے وفاق اورصوبے کے تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔

انھوں نےکہا کہ وزیراعظم فارم 45والا نہیں لہذا ان کی حلف برداری میں شرکت نہیں کروں گا ۔

عمران خان سے ملاقات کے بعد صوبائی کابینہ کا اعلان کروں گامیڈیا سے بات کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وزیراعظم کی حلف برداری تقریب میں شرکت نہیں کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم فارم 45 والا نہیں، انھوں نے کہا کہ یہ بتائیں کہ شہباز شریف واقعی عوامی مینڈیٹ سے منتخب ہوئے ہیں یا انھیں آر او نے بنایا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ میرے خیال سے حلف برداری کے لیے جانا درست نہیں۔ یہ کرپشن کے موجد ہیں، اللہ کرے انکی اصلاح ہوجائے۔

https://jang.com.pk/news/1327261
=================================

الیکشن کمیشن نے گذشتہ روز تحریک انصاف کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو الاٹ کرنے کے حوالے سے قرار دیا تھا کہ جماعت کو یہ نشستیں نہیں مل سکتیں اور اب یہ ایوان میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں میں بانٹ دی جائیں گی۔

اس فیصلے میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 104 اور آئین کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کے ممبر بابر حسن بھروانا کی جانب سے اس بارے میں اختلافی نوٹ لکھا گیا ہے جس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں میں بانٹنے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

آئیے پہلے جانتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلے میں کیا کہا گیا ہے؟

فیصلے میں کیا کہا گیا ہے؟

الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اس نے تمام سیاسی جماعتوں کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کے لیے 22 دسمبر کی ڈیڈلائن دی تھی جسے بعد میں 24 دسمبر تک بڑھا دیا گیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’ریکارڈز کے مطابق سنی اتحاد کونسل کی جانب سے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے فہرست جمع نہیں کروائی گئی تھی اور سنی اتحاد کونسل نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی جماعت میں شمولیت کے بعد الیکشن کمیشن کو چار خط لکھے تھے جس میں یہ نشستیں دینے کے لیے درخواست دی گئی تھی۔

الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کے امیدواروں نے قومی یا صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے آٹھ فروری کے الیکشن میں بطور جماعت حصہ نہیں لیا اور پارٹی چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق ’آئین کے آرٹیکل 51 میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جن کی قومی اسمبلی میں الیکشن جیتنے کے باعث نمائندگی موجود ہے وہ ہی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے آئین میں درج نظام کے تحت اہل ہوں گے۔‘

فیصلے میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 104 کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے جس کے مطابق ’کسی اسمبلی میں خواتین اور غیر مسلموں کے لیے مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے الیکشن لڑنے والی سیاسی جماعتیں کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت کمیشن کی طرف سے مقرر کردہ مدت کے اندر مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کی فہرستیں بھی جمع کروائیں گی اور کمیشن کو یہ فہرستیں ترجیحی آرڈر میں صوبائی الیکشن کمشنر یا کمیشن کے دوسرے مجاز افسران کو دی جائیں گی جو ایسی فہرستوں کو عوام کی معلومات کے لیے شائع کریں گے۔‘

الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ ’اس لیے کمیشن کا یہ ماننا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 51(6) کو اگر الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 104 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کے کوٹا کے لیے اہل نہیں ہے کیونکہ اس حوالے سے آئینی سقم اور فہرستیں جمع کروانے کے حوالے سے موجود ضروری قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔‘

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’نیشنل اسمبلی میں یہ سیٹیں خالی نہیں رہیں گی اور انھیں سیاسی جماعتوں کی جانب سے جیتی گئی نشستوں کے اعداد و شمار کے تناسب سے بانٹا جائے گا۔‘

اختلافی نوٹ میں کیا کہا گیا ہے؟

الیکشن کمیشن کے ممبر بابر حسن بھروانا نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ وہ بینچ کے دیگر ممبران کے ساتھ ’اس حد تک‘ تو متفق ہیں کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں اس لیے نہیں دی جا سکتیں کیونکہ جماعت ترجیحی فہرست مقررہ وقت میں جمع کروانے میں ناکام ہوئی ہے۔

’تاہم میرا اختلافی نوٹ اس بارے میں میں ہے کہ یہ نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دی جا رہی ہیں۔‘

انھوں نے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ’میری رائے میں آئین کے آرٹیکل 51 (6-ڈی) اور آرٹیکل 106(3-سی) میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں ان کے امیدواروں کی جانب سے جیتی گئی کل نشستوں کی بنیاد پر دی جائیں گی۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس لیے یہ نشستیں خالی رہنی چاہییں جب تک آئین آرٹیکل 51 یا 106 میں پارلیمان کی جانب سے ترمیم نہ کر دی جائے۔‘

کل کتنی مخصوص نشستیں الاٹ کی جا چکی ہیں؟

الیکشن کمیشن کی جانب سے اب تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی کل 78 خواتین کی مخصوص نشستیں الاٹ نہیں کی گئی تھیں اور یہ سب کی سب فارمولا کے تحت سنی اتحاد کونسل کو الاٹ ہونی تھیں۔

قومی اسمبلی میں کل 60 مخصوص نشستوں میں سے الیکشن کمیشن نے 40 نشستیں مختلف سیاسی جماعتوں میں بانٹی تھیں۔ ان میں سے پنجاب سے 32 میں سے 20، خیبرپختونخوا میں 10 میں سے دو، سندھ کی تمام 14 نشستیں اور بلوچستان کی چار نشستیں شامل ہیں۔ اسی طرح قومی اسمبلی میں اقلیتوں کے مخصوص 10 میں سات نشستیں الاٹ کر دی گئی تھیں۔

اسی طرح پنجاب اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص 66 نشستوں میں سے 42 الاٹ کر دی گئی تھیں، جبکہ آٹھ میں پانچ اقلیتی نشستیں بھی الاٹ کر دی گئی تھیں۔ سندھ اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص کل 29 نشستوں میں 27 الاٹ ہو گئی ہیں جبکہ نو میں آٹھ اقلیتی نشستیں بھی تقسیم کر دی گئی ہیں۔

اسی طرح خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص 26 میں سے پانچ اور اقلیتوں کے لیے مخصوص چار میں سے ایک نشست الاٹ کر دی گئی ہیں۔