وزیرِاعظم شہباز شریف نے حلف اٹھا لیا، گارڈ آف آنر پیش

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دوسری مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا۔

ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریبِ حلف برداری میں صدرِ مملکت عارف علوی نے نو منتخب وزیرِ اعظم شہباز شریف سے حلف لیا۔

تقریبِ حلف برداری سے قبل قومی ترانے کی دھن بجائی گئی۔

تقریبِ حلف برداری میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، آصف زرداری، نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوئے۔

تقریبِ حلف برداری میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھی شرکت کی۔

وزیرِ اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم، استحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما بھی شریک ہوئے۔

مختلف ممالک کے سفیروں نے بھی وزیرِ اعظم کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی۔

حلف اٹھانے کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف وزیرِ اعظم ہاؤس میں تشریف لے آئے جہاں ان کے اعزاز میں گارڈ آف آنر کی تقریب منعقد ہوئی۔

شہباز شریف گزشتہ روز وزیرِ اعظم منتخب ہوئے
واضح ہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے امیدوار محمد شہباز شریف 201 ووٹ لے کر قائدِ ایوان منتخب ہو گئے، سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب نے 92 ووٹ حاصل کیے، بی این پی کے سربراہ اختر مینگل نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ جے یو آئی ف کے ارکان نے بائیکاٹ کرتے ہوئے رائے شماری میں شرکت نہیں کی۔

شہباز شریف ملک کے 24 ویں وزیرِ اعظم اور 16 ویں قائدِ ایوان منتخب ہوئے ہیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم لی چیانگ، پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری نے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔

ترک صدر رجب طیب اردوان پہلے غیر ملکی سربراہ ہیں جنہوں نے پاکستان کے نو منتخب وزیرِ اعظم شہباز شریف کو مبارکباد کا ٹیلی فون کیا

=====================

جو لوگ خود بحران ہیں وہ ملک کو بحران سے نہیں نکال سکتے، بیرسٹر گوہر
یہ کون لوگ ہیں جو نفرتیں پیدا کرتے ہیں؟ ہمیں جو درس دیتے ہیں اپنے گریبانوں میں جھانکیں، پی ڈی ایم حکومت میں نیب قانون تبدیل کرکے 50 ارب کے کیسز معاف کرائے گئے۔ پی ٹی آئی رہنماء کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد 04 مارچ2024ء) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ جو لوگ خود بحران ہیں وہ ملک کو بحران سے نہیں نکال سکتے، ہم مسائل کے باوجود آگے بڑھنا چاہتے ہیں، ہمیں کوئی مشہوری نہیں چاہیے بلکہ عوام کو اپوزیشن کے ردعمل کا علم ہونا چاہیئے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمان کے فلور پر بات ہوئی لیکن باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا، عمران خان ہی مفاہمت اور بات چیت کا حتمی فیصلہ کریں گے، ہم نے اپنے منشور میں بھی ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کا کہا ہے کیوں کہ نفرتیں بہت ہوئیں اس سے مسائل بڑھتے ہیں، یورپ میں مسائل تھے جنگیں لڑیں اور پھر اتفاق پیدا ہوا۔
پی ٹی آئی رہنماء نے کہا کہ یہ کون لوگ ہیں جو نفرتیں پیدا کرتے ہیں؟ ہمیں جو درس دیتے ہیں اپنے گریبانوں میں جھانکیں، پی ڈی ایم حکومت میں نیب قانون تبدیل کرکے 50 ارب کے کیسز معاف کرائے گئے، انہیں جمہوریت اور حقوق پر اتنا غرور ہے تو جیلوں میں قید خواتین کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا، ہمارے امیدواروں کو الیکشن لڑنے سے روکا گیا تب انہوں نے مذمت نہیں کی، ان کو جمہوریت راس نہیں آتی، یہ مفادات کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔

قبل ازیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماء اسد قیصر نے کہا کہ ہماری پارٹی کا سائفر کے معاملے پر واضح مؤقف ہے کہ ایک امریکی ڈپلومیٹ نے حکومت پاکستان کو ڈکٹیٹ کیا، سپریم کورٹ سائفر کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنائے، سائفر پر جوڈیشل کمیشن بنائیں اور تحقیقات کریں، کیا شہبازشریف اور ن لیگ نہیں کہتی تھی سائفر جھوٹ کا پلندہ ہے، شہباز شریف کہتے تھے کوئی سائفر نہیں، پہلے سائفر کو جھوٹ کہا پھر اسے بنیاد بناکر سزا دلوادی، سائفر کو بنیاد بنا کر عمران خان پر مقدمات بنائے گئے اور انہیں سزائیں دی گئیں، میاں صاحب سے پوچھتا ہوں ضمیر جاگ رہا ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو گن پوائنٹ پر سزائیں دلائی جاتی ہیں، میری توہین و تضحیک کی گئی، گھروں پر چھاپے مارے گئے گرفتار کیا، الیکشن میں ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، الیکشن میں ہوئی دھنادلی پر اعلیٰ سطح کا کمیشن بنائیں، آپ میری نہیں پاکستان اور پاکستان کے اعلیٰ عہدوں کی توہین کر رہے ہیں، آزاد عدلیہ کے لیے ہم تحریک چلائیں گے، پیغام دیتا ہوں ڈر اور خوف کا وقت گزر چکا ہے، عمران خان بھاگا نہیں ڈر کر مقابلہ کیا ہے، نہ ہمارا لیڈر جھکا ہے اور نہ ہم جھکیں گے، عمران خان کے ساتھ 29 سال گزارے، انہوں نے کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی۔
====================

صدارتی انتخاب: زرداری اور اچکزئی کے کاغذات نامزدگی منظور، باقی 5 امیدواروں کے مسترد
صدارتی انتخاب کے ریٹرننگ آفیسر اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کیلئے 2 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔

ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے کاغذات نامزدگی منظور ہونے والے امیدوروں کی فہرست آویزاں کر دی گئی۔

حکومتی اتحاد کے آصف علی زرداری اور اپوزیشن کے محمود خان اچکزئی کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔

ریٹرنگ افسر نے باقی 5 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے۔

خیال رہے کہ ملک میں قومی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ارکان 9 مارچ کو صدارتی انتخاب میں ووٹ کاسٹ کریں گے۔