چل میلے نوں چلیے ،معروف گلوکار ڈاکٹرامجد پرویز انتقال کرگئے

لاہور(جنرل رپورٹر)چل میلے نوں چلیے ،معروف گلوکار ڈاکٹرامجد پرویز انتقال کرگئے ،وہ ایک ماہ سے علیل تھے اور گزشتہ روز گردے فیل ہونے کے باعث وفات پاگئے ،نمازجنازہ آج بعد نماز ظہر جامعہ مسجد شادمان چوک میں ادا کی جائے گی ۔ڈاکٹرامجد پرویز پیشے کے اعتبار سے انجنیئر ،کئی اردو اورانگریز ی کتابوں کے مصنف اورسنگرتھے ۔1954میں ریڈیو پاکستان کے لاہورمرکز سے پروگرام ” ہونہار“ میں چائلڈ آرٹسٹ پہلی مرتبہ شرکت کی اور زندگی بھر ریڈیو کے ساتھ منسلک رہےاور آجکل ریڈیو پاکستان لاہور کے پروگرام فن اور فن کار میں ملکہ ترنم نورجہاں کے فن اور شخصیت پر اپنا تجزیہ پیش کرکے رہے تھے ۔ان کے انتقال پر شوبز سے وابستہ شخصیات نے اظہار افسوس کرتے ہوئے پاکستانی موسیقی کی پہچان قرار دیا ۔ڈاکٹر امجد پرویز نے شام چوراسی گھرانے کے استادنزاکت علی خان سے باقاعدہ کلاسیکل موسیقی کی تربیت حاصل کی ،استاد سلامت علی خان، استاد غلام شبیر خان ،استاد غلام جعفر خان ،اختر حسین اکھیاں اورمیاں شہریار سے بھی کلاسیکل میوزک کے اسرارورموز اورباریکیوں کو سمجھا۔70کی دہائی میں ریڈیو پاکستان لاہورمرکز سے ڈاکٹرامجد پرویزکی گائی سوسے زائد غزلیں اورگیت نشر ہوئے۔ڈاکٹرامجد پرویز میوزک کے علاوہ بہت سی کتابیں بھی لکھیں،طویل عرصہ ایک قومی اخبار میں مستقل طورپر کالم بھی لکھتے رہے ،ان کالموں کو 2006اور 2011میں کتابی شکل میں بھی شائع کیاگیا۔اس کے علاوہ ڈاکٹرامجد پرویز نے میلوڈی میکرز آف subcontinentنامی اپنی کتاب میں 1950سے 1980کی تین دہائیوں کے دوران کام کرنے والے 47میوزک کمپوزرز کے بارے میں تفصیل سے لکھا ،ان میوزک کمپوزرز کاتعلق پاکستان اورانڈیا سے تھا۔یہ کتاب 2012میں شائع ہوئی ۔ڈاکٹرامجد پرویز نے میلوڈی سنگرز کے نام سے دو کتابیں لکھیں جبکہ rainbow of reflectionsان کی آخری انگریز ی کتاب تھی۔ڈاکٹرامجد پرویز کو 1977میں بہترین ٹیکنیکل پیپر لکھنے پر صدرمملکت کی جانب سے گولڈ میڈ ل، 2009میں ڈاکٹراے کیوخان لائف ٹائم اچیومنٹ ایوار ڈ اور2000میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔