وزیر خزانہ کون ہوگا، دوڑ میں بالکل نیا نام بھی شامل


محمد اورنگزیب (دائیں) اور سلطان علی الانہ (بائیں) دونوں کا تعلق حبیب بینک سے ہے۔
===============

قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا انتخاب اتوار کو ہو رہا ہے جس کے فوراً بعد وفاقی کابینہ تشکیل پائے گی۔ اگرچہ وزارت عظمیٰ کے لیے شہباز شریف کی شکل میں واضح امیدوار موجود ہیں تاہم ان کی کابینہ میں کون سے وزرا شامل ہوں گے اور بالخصوص وزیر خزانہ کون ہو گا اس حوالے سے تجسس برقرار ہے۔

پاکستان کی خرابی معاشی صورت حال کے باعث وزیرخزانہ کا منصب اس وقت سب سے اہم ہوگیا ہے۔ یہاں تک کے غیرملکی ذرائع ابلاغ بھی اس معاملے پر بات کر رہے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رویٹرز نے وزیرخزانہ کے لیے ایک بالکل نئے نام کا ذکر کیا ہے جو پہلے عام طور پر نہیں سنا گیا۔

وزیرخزانہ کے منصب کے لیے سب سے پہلے امیدوار تو اسحاق ڈار ہی ہیں۔ روئیٹرز کے مطابق قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ڈار نے کہاکہ وزیر خزانہ کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا لیکن مسلم لیگ ن کے عرفان صدیقی بتا چکے ہیں کہ ’زیادہ امکان‘ یہی ہے کہ اسحاق ڈار وزیر خزانہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر کا نام لیا جا رہا ہے۔

تاہم خبر رساں ادارے نے ایک بالکل نئے نام کا بھی ذکر کیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایک اور نام جو زیر غور ہے وہ محمد اورنگزیب کا ہے جو مکل کے سب سے بڑے بینک حبیب بینک لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور صدر ہیں۔

محمد اورنگزیب جے پی مورگن کے گلوبل کارپوریٹ بینک کے چیف ایگزیکٹو افسر بھی رہ چکے ہیں۔

تاہم حبیب بینک لمیٹڈ کا کہنا تھا کہ وہ ’افواہوں اور قیاس آرائیوں‘ پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک ترجمان اور شمشاد اختر نے روئیٹرز کے رابطہ کرنے پر جواب نہیں دیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان میں جو بھی وزیر خزانہ بنے گا اسے آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنا ہوں گے کیونکہ موجودہ پروگرام اپریل میں ختم ہو رہا ہے اور پاکستان کو سرمایہ کاری کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ایک اور قرض لینا ہے۔

اس سے قبل روزنامہ بزنس ریکارڈ نے بتایا تھا کہ نیا وزیر خزانہ مسلم لیگ (ن) سے ہی ہوگا کیونکہ سیاسی جماعتیں کسی ٹیکنوکریٹ کو قبول کرنے کے لیے تیار بھی نہیں۔ لیکن یہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نہیں ہوں گے۔

محمد اورنگزیب کا نام اس اعتبار سے دلچسپ ہے کہ حبیب بینک لمیٹڈ سے سامنے آنے والا یہ دوسرا نام ہے۔

اس سے قبل سلطان علی الانہ کا نام وزارت خزانہ کے لیے لیا جا رہا تھا۔ سلطان علی الانہ حبیب بینک لمیٹڈ کے چیئرمین ہیں۔

وزارت خزانہ کے لیے ایک اور نام بلال اظہر کیانی کا ہے جنہیں 2022 میں معیشت اور توانائی پر وزیراعظم کا کورآرڈینیٹر مقرر کیا گیا تھا تاہم یہ فیصلہ بعد میں واپس لے لیا گیا۔

بلال اظہر کیانی کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور اگر وزیر خزانہ کا انتخاب پارٹی کے اندر سے کیا گیا تو ان کے امکانات روشن ہیں۔

دیگر وزرا کون ہوں گے
دریں اثنا آج نیوز کی مینزے جہانگیر نے قومی اسمبلی کے اندر سے خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ عطا تارڑ وزیراطلاعات اور اسحاق ڈار ممکنہ طور پر وزیر خارجہ ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ شمشاد اختر ممکنہ طور پر وزیرخزانہ کے عہدے پر کام جاری رکھیں گے، احسن اقبال کو منصوبہ بندی کی وزارت مل سکتی ہے جب کہ خواجہ آصف وزیر خزانہ بننے کے خواہش مند ہیں۔

مینزے کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ سینیٹ الیکشن کے لیے بعد وزیر داخلہ بن سکتے ہیں۔

FINANCE MINISTRY

IMF PAKISTAN

NEXT FINANCE MINISTER

https://www.aaj.tv/news/30373596/
=========================================

اسلام آباد: صدر مملکت کے انتخاب کے لیے حکومتی اتحاد کی طرف سے آصف زرداری اور اپوزیشن کی طرف سے محمود اچکزئی کے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے گئے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے پارٹی رہنما فاروق ایچ نائیک نے سابق صدر آصف زرداری کے کاغذات اسلام آباد ہائیکورٹ میں پریزائیڈنگ افسر کے پاس جمع کرائے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی وصول کیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدارتی امیدوار ہوں گے جب کہ بلاول بھٹو اپنے والد آصف زرداری کے تجویز کنندہ اور فاروق ایچ نائیک تائید کنندہ ہیں۔

سنی اتحاد کونسل نے محمود خان اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا

دوسری جانب سنی اتحاد کونسل نے صدارتی انتخاب کےلیے محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرادیے جو پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے۔

اس موقع پر لطیف کھوسہ نے جسٹس عامر فاروق سے مکالمہ کیا کہ ہم سمجھ رہے تھے آپ چیمبر میں بلا کر چائے وغیرہ پلائیں گے، اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چائے تو اس کے بعد بھی آپ کو پلا دیں گے، عمر ایوب اور علی محمد خان صاحب بھی اس عدالت میں پہلی بار آئے ہیں۔

اس پر علی محمد نے کہا کہ میں اس عدالت میں انصاف مانگنے آتا رہا ہوں۔

جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ کھوسہ صاحب آپ اپنا پورا نام کیا لکھتے ہیں؟ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ میری پارٹی اب زور دیتی ہے کہ نام کے ساتھ سردار لکھوں، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کو نام کے ساتھ سردار ضرور لکھنا چاہیے۔

صدارتی انتخاب کے لیے اسلام آباد سے 5 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جس میں آصف زرداری اور محمود اچکزئی کے علاوہ آزاد امیدوار ایڈووکیٹ اصغرعلی مبارک، وحید کمال اور شہری عبدالقدوس نے بھی صدرِپاکستان کیلئےکاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں