پیپلزپارٹی کے سرفراز بگٹی 41 ووٹ لے کر وزیرِ اعلٰی بلوچستان منتخب ہو گئے

پیپلزپارٹی کے سرفراز بگٹی 41 ووٹ لے کر وزیرِ اعلٰی بلوچستان منتخب ہو گئے ہیں۔ سرفراز بگٹی کے مقابلے میں کسی بھی اُمیدوار نے کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کرائے تھے۔

👈 نئے وزیراعلیٰ بلوچستان کی تقریب حلف برداری 2 مارچ بروز ہفتہ سہ پہر تین بجے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ہوگی

👈 گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نومنتخب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی سے حلف لیں گے

👈 تقریب حلف برداری میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سمیت اعلیٰ سول و ملٹری حکام کی شرکت متوقع ہے
==============
سردار ایاز صادق اسپیکر و غلام مصطفیٰ شاہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی منتخب

مسلم لیگ (ن)کے رہنما سردار ایاز صادق اسپیکر و پیپلز پارٹی کے غلام مصطفیٰ شاہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے۔

ایاز صادق نے 199 ووٹ حاصل کیے جبکہ عامر ڈوگر کو 91 ووٹ پڑے، لیگی رہنماؤں نے ایاز صادق کو اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہونے پر ان کی نشست پر آ کر مبارکباد دی۔

سردار ایاز صادق قومی اسمبلی کے بائیسویں جبکہ انفرادی طور پر تیسری بار اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے، کل 291 ووٹ پول ہوئے ایک ووٹ مسترد قرار پایا، 290 ووٹ درست قرار پائے۔

بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر کی نشست پر غلام مصطفیٰ شاہ نے 197 ووٹ حاصل کئے جب کہ سنی اتحاد کونسل کے جنید اکبر کو 92 ووٹ ملے۔

اجلاس کے آغاز پر سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا اور اس موقع پر اراکین نے بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کی۔ سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے قومی اسمبلی میں شورشرابا اور احتجاج کیا۔

علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ منتخب

اجلاس کے دوران عمر ایوب کا کہنا تھا کہ اس ہاؤس میں اجنبی موجود ہیں وہ سپیکر الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے، انہوں نے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا ہے انہیں ایوان سے باہر نکالا جائے۔

گزشتہ روز سیکرٹری قومی اسمبلی نے ایوان کے اندر ہی کاغذات نامزدگی وصول کئے،دوسری جانب سنی اتحاد کونسل کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی کے لئے ملک عامر ڈوگر کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے جبکہ ڈپٹی سپیکر کیلئے جنید اکبر خان کے کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

واضح رہے کہ نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے چناؤ کے بعد پھر وزیراعظم کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہو گا۔ وزیراعظم کا انتخاب تین مارچ کو کیا جائے گا۔گزشتہ روز336 میں سے 302 ارکان قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا تھا۔