تین مارچ ماحولیاتی تنوع کا عالمی دن


تحریر ۔۔۔ اریبہ انصاری

پرانےدور کےمقابلےمیں آج کادور ترقی یافتہ ہے،چیزوں میں بےتحاشہ بدلاو،نت نٸ سہولتوں کی فراہمی اورایجادات نےجہاں زندگی کوآسان کیاہےوہیں انسانی زندگیاں خطرےکاشکار بھی ہوگٸ ہیں،دنیا جس قدر تیزی سےترقی کی منازل طےکررہی ہےاسی تیزی سےماحولیاتی آلودگی بھی بڑھ رہی ہے ، جدید دور سے فوائد حاصل کرنےکے ساتھ ساتھ ہمیں اسکےمنفی پہلو “Dark Side” کوبھی مدنظررکھناچاہیےاور اسکاحل تلاش کرناچاہیے، لیکن المیہ یہ ہےکہ حل تلاشنا تودور کی بات لوگ اس طرف دھیان دینےکی بھی ذحمت نہیں کرتے، مختلف فیکڑیاں،دھواں فضامیں چھوڑتےکارخانے،لکڑی کےکاروبارکی خاطر اندھادھند درختوں کی کٹاٸ،عمارتوں کی توڑپھوڑ،گندی ریلوےلاٸنز،جگہ جگہ کچرےکےڈھیر،گنداپانی، ناکارہ اشیا۶ کادھڑلےسے جلایاجانا، ٹرانسپورٹ میں نت نٸی ایجادات کےعوض دن بدن بڑھتی فضاٸ آلودگی،یہ سب آج کی دنیامیں عام ہوگیاہے،لیکن اس سب سےکس قدر نقصان ہورہاہے اس بات کااندازہ کسی کو نہیں ،بلڈپریشر،سانس کی نالیوں میں سوزش و دیگر مساٸل،سینےکےانفیکشنز، جلدکےامراض جیسی ہزاروں بیماریاں ہیں جو روزانہ لاکھوں لوگوں کو متاثر کررہی ہیں ، ترقی کی اس دوڑ میں لوگوں نے اس طرف دھیان دینا بالکل چھوڑدیاہےجو کہ انتہائی خطرناک ہے، ان عارضوں سےبچنے اور ماحولياتی آلودگی کو دور کرنےکاجو واحد ذریعہ ہے وہ “شجرکاری” ہے، درخت ماحول کو ہر طرح کی آلودگی سے پاک کرکے ہواکو “فلٹر” کرنےکے بعد ہمیں مہیاکرتےہیں، درختوں کے بےشمار فوائد ہیں، درخت ماحول کو خوبصورت اور انسانی بیناٸ کو تازگی بخشنےکےساتھ ساتھ بےشمار امراض سےبچاتےہیں،سورج کی” یو وی اے”اور “یووی بی”جیسی خطرناک ریزس بھی درختوں کی موجودگی کی وجہ سے مضر نہیں رہتی ہیں،بےزبان معصوم پرندوں کےلیے یہ “گھر” اور انسانوں کےلیے”تحفظ” کےساتھ ساتھ یہ “نیکی”کاذریعہ بھی ہیں،درختوں کے فوائد سےواقف ہونےکےباوجود انسان انہیں لگانےکے بجائے کاٹ کر ماحولیات کو خطرےمیں ڈال رہاہے، ایسی صورتحال میں کچھ لوگ ایسےبھی ہیں جو درختوں کی اہميت سمجھتےہیں اور جب جہاں موقع ملے شجر کاری کو پروان چڑھاتےہیں،ایساہی ایک نوجوان کراچی میں موجود ہے جس نےواقعی انسان دوست ہونےکاثبوت دیتےہوۓ وہ وہ کارنامے سرانجام دیے ہیں جو بلاشبہ تعریف کےقابل ہیں ، “ٹری مین آف پاکستان” اس نوجوان کا خطاب ہے،حقیقی نام “شہروز سراج” ہے، یہ باہمت نوجوان اب تک کراچی میں ان گنت جگہوں ،سکول،کالج،یونیورسٹیز،چرچ،پارک،پولیس سٹیشنز،سڑک کنارے اور دیگر جگہوں پر لاکھوں درخت لگاچکاہے، حال ہی میں شہروزسراج نے “مساجدمیں وضو کےپانی” کوضاٸع ہونےسےبچاکر شجرکاری میں استعمال کرنےکااس قدر بہترین خیال پیش کیاکہ سننے والے داد دیے بغیر نہ رہ سکے،ایسے نوجوان بلاشبہ قوم کاسرمایہ ہیں،جو بقیہ افراد کی طرح ماحولياتی آلودگی اور درختوں کی کٹاٸ پر افسوس کرکے پیچھے ہٹ جانےکےبجاۓ آگےبڑھ کر بدلاو لاتےہیں اور انسانيت کےتحفظ کےلیےکچھ کردکھانےکاجذبہ رکھتےہیں، شہروزسراج نےکراچی میں “اربن فوریسٹ” نامی مصنوعی جنگل بھی بنالیاہے،جو ماحولياتی تحفظ کےلیےایک بڑاقدم ہے،یہ نوجوان صرف خود ہی مثبت اقدام نہیں کررہابلکہ عقل مندی کاثبوت دیتےہوۓ ماحولياتی تحفظ،شجرکاری کی اہمیت،اس کےطریقہ کار سےمتعلق معلومات بھی ہماری نوجوان نسل تک پہچارہاہے،بےشمار طلبہ و طالبات کو “آوٹ ڈور پلانٹیشن” اور “ان ڈورپلانیشن” کےمتعلق معلومات فراہم کرچکاہے،مضرِصحت عناصر جیسےکاربن مونوآکساٸیڈ، ٹاٸٹروجن آکساٸیڈ،ہاٸیڈرو کاربن کس طرح ماحول اور انسانی صحت کےساتھ ساتھ دوسرے جانداروں کو بھی نقصان پہچارہےہیں،اور ان سے کس طرح بچاجاسکتاہے،اس حوالےسے شہروز سراج نے اب تک ہزاروں سیشنز کرکے نوجوانوں کو”آگاہی” فراہم کرکے ماحولياتی تنوع کم کرنےمیں نمایاں کردار اداکرتےہوۓ مزید لاکھوں انسان دوست اشخاص تیارکیۓہیں،اس باہمت نوجوان نے قوم کےلیےاتناکچھ کیاہےاور مسلسل کررہاہے،تو آپکا بھی فرض بنتاہےکہ ،مگر ماحولیاتی آلودگی ختم کرکےآب و ہوا کو بہتربنانےمیں اپنا کردار ادا کرتےہوۓ اپنےحصے کادرخت ضرور لگاٸیں،کہیں درخت کٹتےہوۓدیکھیں تو اسکےخلاف آواز اٹھاٸیں،اپنے بچوں کو”شجرکاری کی اہمیت” کےمتعلق آگاہی فراہم کرکے”Tree man of pakistan ” شہروزسراج کی طرح ماحولياتی آلودگی کےخلاف کھڑاکریں،اس بار 3 مارچ ماحولياتی تنوع کےدن اپنےحصے کی شمع ضرور جلاٸیں!
==========================

سردار ایاز صادق اسپیکر و غلام مصطفیٰ شاہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی منتخب
March 1, 2024

مسلم لیگ (ن)کے رہنما سردار ایاز صادق اسپیکر و پیپلز پارٹی کے غلام مصطفیٰ شاہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے۔

ایاز صادق نے 199 ووٹ حاصل کیے جبکہ عامر ڈوگر کو 91 ووٹ پڑے، لیگی رہنماؤں نے ایاز صادق کو اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہونے پر ان کی نشست پر آ کر مبارکباد دی۔

سردار ایاز صادق قومی اسمبلی کے بائیسویں جبکہ انفرادی طور پر تیسری بار اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے، کل 291 ووٹ پول ہوئے ایک ووٹ مسترد قرار پایا، 290 ووٹ درست قرار پائے۔

بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر کی نشست پر غلام مصطفیٰ شاہ نے 197 ووٹ حاصل کئے جب کہ سنی اتحاد کونسل کے جنید اکبر کو 92 ووٹ ملے۔

اجلاس کے آغاز پر سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا اور اس موقع پر اراکین نے بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کی۔ سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے قومی اسمبلی میں شورشرابا اور احتجاج کیا۔

علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ منتخب

اجلاس کے دوران عمر ایوب کا کہنا تھا کہ اس ہاؤس میں اجنبی موجود ہیں وہ سپیکر الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے، انہوں نے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا ہے انہیں ایوان سے باہر نکالا جائے۔

گزشتہ روز سیکرٹری قومی اسمبلی نے ایوان کے اندر ہی کاغذات نامزدگی وصول کئے،دوسری جانب سنی اتحاد کونسل کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی کے لئے ملک عامر ڈوگر کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے جبکہ ڈپٹی سپیکر کیلئے جنید اکبر خان کے کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

واضح رہے کہ نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے چناؤ کے بعد پھر وزیراعظم کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہو گا۔ وزیراعظم کا انتخاب تین مارچ کو کیا جائے گا۔گزشتہ روز336 میں سے 302 ارکان قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا تھا۔