ریاض پُل جہاں منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے

ریاض : سعودی عرب میں تعمیر 90 میٹر طویل ’ریاض پُل‘ پر منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہونے لگا، اس پل ٹریفک کا حجم توقع سے زیادہ ہونے سے یہاں ٹریفک کا غیرمعمولی رش لگ جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں وادی لبن میں قائم الریاض بریج تعمیر کرنے والوں کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس پل پر اتنی زیادہ ٹریفک آئے گی کہ یہاں پرچند منٹ کی ٹریفک کئی گھنٹوں پرمحیط ہوجائے گی۔

یہ پل بین الاقوامی ماہر تعمیرات سیشادری سرینفویسن نے ڈیزائن کیا تھا اور 6 سال کی دن رات کوشش سے اس کی تعمیر سنہ 2000ء میں مکمل کی گئی تھی، اس پل پر ٹریفک کا حجم توقع سے زیادہ ہونے سے یہاں ٹریفک کا غیرمعمولی رش لگ جاتا ہے۔

عرب خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ گوگل میپ پر دی گئی تفصیلات سے پتا چلتا ہے الریاض بریج پر دونوں طرف آمد ورفت 25 منٹ میں مکمل ہوسکتی ہے تاہم اگر کوئی حادثہ پیش آئے یا کسی گاڑی میں کوئی خرابی پیدا ہو تو آمد روفت کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہاں پر ٹریفک کسی حادثے کی وجہ سے تاخیر کا شکار نہیں ہوتی بلکہ غیرمعمولی رش کی وجہ سے یہاں گاڑیاں پھنس جاتی ہیں۔

الریاض بریج کو دنیا کے بڑے پلوں میں سے ایک ہے، گذشتہ اپریل میں الریاض بلدیہ کی انتظامیہ نے الریاض بریج پر ٹریفک کے اژدھام کے حل پر غور کیا اور اس حوالے سے متعدد سفارشات بھی جاری کی گئیں۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ان سفارشات میں وزارت ٹرانسپورٹ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ شمالی سمت کے بیرونی ٹریک نمبر 28 اور جنوب میں 33 اور 34 ٹریک پر ٹریفک کے رش کو کم کرنے کے لیے رہنمائی پر مبنی بورڈ آویزاں کرے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ وزارت ٹرانسپورٹ نے ٹریک 33 اور 34 کے جد کی طرف نکلنے والے راستے کے ساتھ سروس ٹریک کھولنے پر بھی غور کیا گیا، جدہ کی طرف جانے والی کاروں کا راستہ تبدیل کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی۔

الریاض سیکرٹریٹ نے نجم الدین روڈ پرکام کرنے کی تجویز پیش کی اور الریاض بریک کے متبادل راستوں پر ٹریفک چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

خیال رہے کہ مذکورہ بریج شہر کے جنوب مغربی حصے میں وادی لبن میں واقع ہے، اس کا شمار دنیا کے بڑے اونچے پلوں میں ہوتا ہے۔ یہ شہر کو ٹریفک کے ذریعے مختلف شہروں سے ملانے کی سہولت کے ساتھ شہر میں جدید فن تعمیر کا ایک شاہ کار بھی ہے۔

اس پل کی لمبائی 763 میٹر اور چوڑائی 35 میٹر ہے۔ اس کے دو بلند ٹرین ستون ہیں۔ شمالی ستون کی اونچائی 72 اعشاریہ پانچ میٹر اور جنوبی ٹاور کی 80 اعشاریہ 5 میٹر ہے، پل کے درمیان میں مرکزی ستونوں کی لمبائی 90 میٹر ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق یہ پل ریکارڈ کم وقت میں یعنی صرف سال اور چھ ماہ میں مکمل کیا گیا۔ اس کی تعمیر میں 300 ماہر تعمیرات نے حصہ لیا