مریم نواز نے عامر کی شکایت پر فوری نوٹس لے لیا، کرکٹر کی چیف منسٹر کیلئے ٹوئٹ


پنجاب کی نو منتخب وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 9 میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنے والے فاسٹ بولر محمد عامر کی شکایت پر واقعہ کا نوٹس لے لیا۔

محمد عامر نے 26 فروری کو ٹوئٹ کی تھی جس میں انہوں نے ملتان کے ڈپٹی کمشنر پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے میچ کے دوران مبینہ طور پر کھلاڑیوں کے اہلخانہ سے بدسلوکی کی ہے۔

کرکٹر نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کو ٹیگ کرتے ہوئے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اب عامر نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ مریم نواز نے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے، وزیر اعلیٰ نے کھلاڑی کو فون کرکے واقعے کی معلومات حاصل کیں اور ملتان کے ڈپٹی کمشنر اور کھلاڑی کے مابین معاملات سلجھا دیے۔

ایکس پر محمد عامر نے فوری کارروائی کرنے پر پوسٹ شیئر کرکے مریم نواز کا شکریہ ادا بھی کیا۔

فاسٹ بولر نے لکھا میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے میرے اہلخانہ کے ساتھ اسٹیڈیم میں پیش آنے والے واقعہ کا نوٹس لیا اور اپنا قیمتی وقت نکال کر مجھے فون کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر ملتان نے بھی خود ذاتی طور پر میری تمام غلط فہمی دور کردی ہے۔

کھلاڑی نے نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا اور لکھا کہ میں تہہ دل سے ان کی کاوش کو سراہتا ہوں اور اس نئے سفر میں میری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔
================

سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں چاہئیں، چیف الیکشن کمشنر

فروری 28, 2024
سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے لیے درخواست پر الیکشن کمیشن میں سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل خط بیرسٹر علی ظفر کو دے دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے درخواست پر الیکشن کمیشن میں سماعت جاری ہے اور فل بینچ اس کی سماعت کر رہا ہے۔

سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کو سنی اتحاد کونسل کا خط دے دیا۔

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق سربراہ سنی اتحاد کونسل نے 26 فروری کو الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نہ انہوں نے عام انتخابات میں حصہ لیا اور نہ ہی انہیں مخصوص نشستیں چاہئیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ جب سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں چاہئیں تو آپ کیوں مجبور کر رہے ہیں۔

اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر نے سنی اتحاد کونسل کے خط سے لاعلمی کا اظہار کردیا اور کہا کہ کونسل نے پاکستان تحریک انساف کو ایسے کسی خط کے حوالے سے نہیں بتایا۔

واضح رہے کہ عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے ان سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا اور پی ٹی آئی کے امیدواروں نے آزاد حیثیت اور مختلف انتخابی نشانات پر الیکشن میں حصہ لیا تھا اور انتخابی نتائج میں ان ہی آزاد امیدواروں پر مشتمل گروپ سب سے بڑا کامیاب گروپ بن کر سامنے آیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق آزاد امیدواروں کو کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے تین روز کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی نے گزشتہ دنوں سنی اتحاد کونسل سے اتحاد کیا تھا اور اس کے حمایت یافتہ امیدواروں نے معاہدے کے تحت اس میں شمولیت اختیار کی تھی تاکہ وہ مخصوص نشستیں حاصل کر سکیں۔

الیکشن کمیشن کئی سماعتوں کے باوجود سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کو دینے یا نہ دینے سے متعلق کوئی فیصلہ تاحال نہیں کر سکا ہے۔