16دسمبر ایک دن دو سانحات

.خصوصی تحریر    .   میاں طارق جاوید  . 
ر16   دسمبر دنیا کی تاریخ میں  پاکستان کیلئے بہت  ہی بھیانک اور تکلیف دہ ہے  جسکو بلانا بھلانا مشکل ہےابھی ہم 16 دسمبر 1971 کا سقوط ڈھاکہ نہیں بھول پائے تھے ابھی ہمارے بھارتی سازشوں سےایک حصہ الگ ہونے سے لگنے والے زخم نہیں  بھرے تھے  کہ ہمارے دشمنوں کی سازشیں جن کی بدولت پاکستان  دہشتگردی کا شکار ہوا ۔ویسے تو بھارت نے پاکستان کواس کے  قیام سے ہی  تسلیم نہیں کیا تھا ،را اور بھارت کی ہندوتا  کی پرچارک مافیا نے ہمیشہ  ہی اس مملکت خداداد کیخلاف سازشوں کا سلسلہ  جاری رہا ،کراچی میں  صدر بم دھماکے ہوں یا لاہور میں سربجیت سنگھ نامی بھارتی دہشتگرد کی جانب سے کئے جانے والے دھماکے بھی  ان سازشوں کا حصہ  تھے9/11کے بعد  ایک طرف  پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں  فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کرتا رہا  دوسری جانب  بھارتی سازشوں کی بدولت دہشتگردی ہمارے گھروں  تک پہنچ گئی جس سے  پاکستان کا ہر خطہ ہر علاقہ دہشتگردی کا شکار ہوا،جہاں  ایک  عوام دہشت گردی کا شکار ہوئے وہاں مسلح افواج بھی ملک و قوم کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے لگے  دہشتگردی کیخلاف اس جنگ میں  90 ہزار سے زائد فوجی اور سویلین  نے قربانیاں  دیں  ابھی  قربانیوں کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ دشمن  نے پاکستان پر ایک بار پھر16 دسمبر کا دن ہی کاری ضرب  کیلئے چنا  اور یوں  افغانستان کے راستے دہشت گرد پشاور پہنچے اور 16 دسمبر 2014 کی صبح آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر دیا  دہشتگردی کی اس خوفناک اور خونریز واردات میں 22 اساتذہ اور144بچے شہید ہو گئے پاک فوج کے جوانوں نے ایک بار پھر پھر  اپنی جانیں قربان کرتے ہوئے تمام حملہ آورں کو جہنم واصل کیا، لیکن  یہ سانحہ ایک بار پھر بکھری ہوئی قوم کو متحد کر گیا اور پاکستان میں تمام سیاسی اور مذہبی  جماعتوں نے ملکر ملک کو دہشت گردی سے پا ک کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں بہت قلیل عرصے میں میں ہم نے دہشتگردی اور دہشت گردوں کو شکست دیدی،لیکن شاید ہم آج بھی  ماضی میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات سے سبق  نہیں  سیکھ سکے ہم ملک  کو آگے لیکر جانے کی بجائے  پھر  اندھیرے میں  پہنچا نا چاہتے ہیں  آج پھر ہمارے دشمنوں نے ہماری شہ رگ پر حملہ کیا ہو آ ہے وہ آج ہمارے کشمیر  کو 134 روز سے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں  تبدیل  کر چکا ہے اب مذمت احتجاج  کا وقت  گزر چکا ہے ہے اب وقت ہے مرمت اور کنٹرول کا جو بہت  ضروری بھی  ہو گیا ہے  سانحہ آرمی پبلک اسکول پر نوجوان انقلابی شاعر عابی مکھنوی کی ایک نظم حاضر ہے سولہ دسمبر کا آسیب !!ــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہاریں چاند چلمن تتلیاں حُسن و تجلی کا ہر اِک منظر !!سبھی آسیب لگتے ہیں !!بہت سہما سا رہتا ہوںگھڑی میں سوئی دھک دھک کرنے لگتی ہےتو سینے میں رکھا بے بس کھلونا اُس کو تکتا ہےیُوں لگتا ہے کہ جیسے کھوپڑی پہ ناخنوں کی لٹ سنبھالے ہوںاور ہر اُنگلی کے سر پہ بال لٹکے ہیںزمانہ ہو گیا کہ خوف کے مارے !!بہت مشہور اپنے مرمریں پاؤں نہ دھوئے ہیں نہ دیکھے ہیںعجب اِک وہم ہے کہ اب کسی ڈائن کے پاؤں جیسے اُلٹے ہیںبتاؤں کب سے ایسا ہے ؟؟دسمبر کی وہ سولہ تھی کہ جس کے بعد سترہ پھر نہیں دیکھیمیں اِک تاریخ کی بوتل کا قیدی ہوںمِرا سالار اندھا تھا تو منصف سارے بہرے تھےسپاہی لنگڑے لُولے تھے !!خبر ہے کہ پشاور پیشہ ور لوگوں نے لُوٹا تھا !!مِرے بچوں کی لاشیں ٹُکڑا ٹُکڑا اب ریاست کچکچاتی ہےکبھی ٹُھمکا لگاتی ہےکبھی مجرا دِکھاتی ہےکبھی دُشمن سے پڑھتی ہےکبھی دُشمن کے بچوں کو پڑھاتی ہےارے ٹھہرو !! یہ سب بکواس تھی شاید کہ بکواسی سا شاعر ہوںلو دستک ہو رہی ہے میرے دروازے پہ دھیمی سییُوں لگتا ہے کہ لوٹ آئے ہیں جنت کے پرندے سب !!نہیں آسیب تھا کوئی !!مہینے سب دسمبر ہیں !! دسمبر کی وہ سولہ تھی !! دسمبر کی یہ سولہ ہے !!دسمبر سولہ دِن کا ہے !!۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں