غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش

کیا شہزادے سے ملاقات میں برف پگھلی؟

 سعودی دارالحکومت ریاض میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان حال ہی میں پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی حکمرانوں نے پاکستان کی ملائیشیا میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اس کانفرنس کی میزبانی ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کر رہے ہیں جبکہ ترک صدر کے علاوہ ایرانی صدر و قطری امیر بھی شرکت کر رہے ہیں۔
سرکاری طور پر بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق باہمی دلچسپی کے امور، خطے اور بین الاقوامی صورتحال پربات چیت کی گئی۔ دوطرفہ تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
واضح رہے کہ اس ملاقات سے قبل پاکستانی سفارتی حکام تین دن تک سعودی ولی عہد سے وزیراعظم عمران خان کی فون پر بات کرانے میں ناکام رہے تھے۔ سنیچر کو وزیراعظم عمران خان مدینہ پہنچے جہاں رائل ٹرمینل پر مدینہ کے ڈپٹی گورنر وحیب السہلی اور جدہ میں پاکستان کے قونصل جنرل خالد مجید  نے ان کا استقبال کیا۔
مسجد نبوی میں نوافل کی ادائیگی کے بعد وزیر اعظم عمران خان ہفتے کی شام مدینے سے ریاض پہنچے۔رائل ٹرمینل پر گورنر ریاض شہزادہ فیصل بن بندر عبدالعزیز، پاکستان کے سفیر راجہ علی اعجاز اور د یگر اعلی حکام نے استقبال کیا۔ 
اس سے قبل وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم اپنے دورے میں سعودی قیادت سے ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات اور خطے میں ہونے والی پیشرفت پر بات چیت کریں گے۔ 
دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ تعاون اور دونوں ملکوں کی قیادت کے باقاعدگی سے ہونے والے وفود کے تبادلوں کا حصہ ہے۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی چند دن پہلے استنبول میں ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسس کانفرنس میں شرکت کے بعد سعودی عرب کا ایک روزہ دورہ کر چکے ہیں -Pakistan24.tv-report


اپنا تبصرہ بھیجیں