بلوچستان کے ضلع گوادر سے تعلق رکھنے والی وی بلاگر انیتا جلیل کا اقدام خود کشی

بلوچستان کے ضلع گوادر سے تعلق رکھنے والی وی بلاگر انیتا جلیل کا اقدام خود کشی، ابتدائی تعلیم سے فراغت کے بعد کچھ کرنے کا عزم لیئے 21 سالہ انیتا جلیل نے گوادر کے پہاڑ، سمندر سمیت خوبصورت و دلکش مقامات اور بلوچ روایات کو وی بلاگز  کے زریعے دکھانا شروع کی جو دنیا میں پہلے کسی نے نہیں دیکھی ہونگی، فن و ادب، صحافت و تحقیق اور تھٹیر ڈارمہ سمیت مختلف شعبوں میں قابل قدر کام دکھانے کے بعد  رواں برس انہوں نے بلوچی ٹیلی فلم آباد میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ان کے فن کو خوب داد ملی ،  قدامت پسند معاشرے میں لڑکیوں کی تصویر کشی تک کو برا سمجھا جاتا ہے لیکن انیتا جلیل نے اس کو چیلنج کے طور پر قبول کیا اور یوں وہ بلوچستان کا خوبصورت چہرہ بن کر ابھری، انہیں طالبات کے اسکول و کالجز میں بھی مدعو کیا جاتا تھا جہاں پر وہ ایک موٹیویشنل اسپیکر کی حیثیت سے سننے والوں میں  ہمت و ولولہ اور جذبہ  پیدا کرتی انہیں لڑکیوں کے لئے ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا لیکن آج وہ خود ہی ہمت ہار گئی۔انیتا جلیل نے اپنے انسٹاگرام پر اپنی ویڈیو اپ لوڈ کی جو  ماضی کے وی بلاگ سے  مختلف ہے، اس ویڈیو میں کم روشنی میں کمرے کا چھت لوہے کا بیڈ  اور انتیا جلیل کے ہاتھ میں لگا ڈرپ  کھبی کھبار نظر آرہا ہے وہ بلوچی زبان میں مقامی فلم انڈسٹری کو گندگی اور غلاظت قرار دیتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ اس شعبے سے وابستہ مرد  شراب نوشی کی حالت میں  اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ خواتین بھی ہیں۔ انیتا جلیل کہتی ہے کہ دو یا تین روز قبل ان کے گھر ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کی وجہ سے وہ دلبرداشتہ ہوگئی اور بے تحاشا خواب آور گولیاں کھالی تھی انہوں نے ویڈیو ریکارڈ کرنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتی کہ کوئی لڑکی بلوچی فلم انڈسٹری میں آئے انہوں نے خود کشی کرنے جیسے انتہائی اقدام کو منظر عام پر لانے سے گریز کیا مگر وہ کہیں سوالات چھوڑ گئی جس کے جواب قدامت پسند سماج کے پاس نہ ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں