عورتوں کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کا خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کئے جائیں

 
 گھر مزدوروں کی رجسٹریشن کا عمل فی الفور شروع کیا جائے۔ ”ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن“ کے زیر اہتمام سیمینار میں مطالبہ)کراچی (پ۔ ر) پوری دنیا میں عورتوں پر تشدد اور ہراساں کرنے کے خلاف 16 روزہ بین لاقوامی تحریک کے سلسلے میں ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن نے ایک سیمینار بعنوان ” ملکی معیشت میں عورتوں کا کردار” 14 دسمبر بروز ہفتہ، گڈاپ ٹاؤن میں منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار کو ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی شہید ہونے والے رہنماؤں کامریڈ نجمہ خانم، ریحانہ کوثر،کامریڈ عبد السلام اور کامریڈ واحد بلوچ شہید کے نام موسوم کیا گیا۔ سیمینار کی صدرات محترمہ زہرا خان جنرل سیکرٹری ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن نے کی۔ سیمینار میں گھر مزدور عورتوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔  اس مو قع پر ہوم بیسڈ وومن ورکرز کی جنرل سیکرٹری زہرا خان نے سولہ روزہ بین الاقوامی ایکٹویزم کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ 25نومبر سے لے کر 10 دسمبر تک ہر سال انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے عورتوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے دن کے طور پر منانے کا آغاز 1981 سے شروع کیا۔ یہ دن ان تین عظیم انقلابی بہنوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے ڈومینکن جمہوریہ کے آمر رافیل ٹروجیلو کے خلاف جمہوری اور انسانی حقوق کے لیے نعرہ بلند کرتے ہوئے جدوجہد کا آغاز کیا جس کی پاداش میں انہیں اور ان کے شوہروں کو کئی بار قید کیا گیا اور مظالم ڈھائے گئے۔ڈومینکین جمہوریہ کے آمر رافیل ٹروجیلو نے خود  1960 میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس کی آمریت کے لیے دو بڑے خطروں میں سے ایک یہ تین بہنیں ہیں جنہیں فوجی آمر کی ایماء پر 25 نومبر 1960 کو سفاکانہ طور پر قتل کر دیا گیا۔ یہ تینوں بہنیں جمہوری اور انسانی حقوق کی تاریخ میں “ناقابل فراموش تتلی بہنیں   ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس دن کو پوری دنیامیں عورتوں کے خلاف تمام قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا کی عورتیں صنفی، طبقاتی اور سماجی جبر کے خلاف مصروف جدوجہد ہے اور اس جدوجہد میں محنت کش عورتوں نے تاریخی کردار اداکیا ہے۔ پاکستان میں بھی محنت کش عورتیں خصوصاً گھر مزدور عورتیں ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں انہوں نے پاکستان کی پہلی ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن بنا کرسند ھ میں موجود 50 لاکھ سے زائد گھر مزدوروں کو ان کی شناخت دلوانے میں اہم کرادا اد اکیا جس کے نتیجے میں 9 مئی 2018 میں گھر مزدوروں عورتوں کے لیے قانونی سازی کی گئی جس کے زریعے سندھ میں موجود گھر مزدوروں کی رجسٹریشن کا عمل ممکن ہو پائے گا اور قوانین کے تحت انہیں حقوق میسر ہو سکیں گے۔ یونائٹیڈ ہوم بیسڈ گارمنٹ ورکرز یونین کی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ عورتیں ملک کی معیشت کی ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کررہی ہیں اس کے باوجود وہ اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں۔ کام کی جگہوں میں انہیں مناسب اجرت ادا نہیں کی جاتی اور نہ ہی یکساں کام کے مرد کے برابر اجرت دی جاتی ہے۔ دن رات محنت کرنے کے باوجود وہ 2 ڈالر سے بھی کم کما پاتی ہیں جو کہ آج کے بڑھتی ہوئی مہنگائی میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایشیاء خورد نوش کی چیزوں میں آئے دن اضافہ موجودہ حکومت کا چلن بن چکا ہے۔اس ملک کی 60 فیصد آبادی خطہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ٹرانسپورٹ کے کرایہ، گھر کا کرایہ، بجلی گیس کا بل یہاں تک کہ اب مرنا بھی مہنگا ہو چکا ہے۔       نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری نا صر منصور نے کہا کہ آج بھی صورت حال یہ ہے کہ عورتیں دوہرے استحصال کا شکار ہے جاگیر دارانہ سماج نے عورتوں کو غلام بناکر اور سرمایہ دارانہ سماج نے انہیں سستا مزدور بنا کر استحصال کا آغاز کر رکھا ہے۔آئے دن بڑھتے ہوئے جنسی زیادتی کے واقعات اس بات کا ثبوت ہے کہ سماج میں نام نہاد فرسودہ قوانین انسانی حقوق اور آئین سے بلاتر ہیں جو عورت پر تشدد کو جائز قرار دیتا ہے۔ ہیومن ڈوہلپمنٹ انڈس کے مطابق پاکستان کا نمبر 153 ہے جو کہ پورے جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے نیچے ہیں۔ آج بھی بچیوں کی خواندگی مردوں کے مقابلے میں کم ہے،  عورتوں کو آج بھی یکساں کام کے مردورں کے برابر اجرت نہیں دی جاتی جبکہ ان اجرتیں مردوں کے مقابلے میں 40% کم ہے اور دیگر بنیادی حقوق سے بھی محروم ہے۔ سماجی اداروں میں ان کی رجسٹریشن نہ ہونے کے برابرہے اور نام نہاد رویات کی وجہ  سے یونین سازی کے حق سے بھی محروم ہے۔ کام کی جگہوں میں آئے دن ہراسگی کا شکار ہوتی ہے مگر قوانین ہونے کے باوجود ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ سرمایہ دارانہ سماج میں گھر مزدور عورتیں بدترین استحصال کا شکار ہیں جبکہ سماجی رویے بھی انہیں تیسرے درجے کا شہری بنا رہے ہیں۔اس صورت حال کے باوجود خواتین خود کو اپنے جائز حقوق کے لیے منظم کر رہیں ہیں اور ملک میں جاری جمہوری تحریکوں میں اپنا نمایاں کردار ادا کر رہیں ہیں۔   سیمینارمیں مطالبہ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ فی الفور ہوم بیسڈ ورکرزایکٹ پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے سندھ میں گھر مزدورں کا دیٹا جمع کرے اور ان کی رجسٹریشن کا عمل شروع کرتے ہوئے انہیں کارڈ ایشو کرے۔ ٭ ہوم بیسڈ ورکرز کو سماجی تحفظ کے ادارے سے رجسٹرڈ کرنے کے عمل کو قانونی شکل دینے کے لیے اسمبلی میں بل پاس کیا جائے۔ ٭عورتوں کے خلاف ہر قسم کے امتیاز قوانین کا خاتمہ کیا جائے اورعورتوں کی ترقی کی راہ میں حائل تمام تر روکاٹ کا خاتمہ کیا جائے۔٭گھر مزدوروں کو سماجی تحفظ کے ادارے سے رجسٹرڈ کیا جائے۔٭تعلیمی اور کام کے جگہوں میں بڑھتے ہوئے جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات کا الفور نوٹس لیا جائے اور اس کے سدِ باب کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ ٭،فیکٹریوں میں قانون کے مطابق خواتین کو اجرت دی جائے اور جنس کی بنیاد پر تنخواہوں میں تفاوت کو ختم کیا جائے۔ ٭فیکٹریوں اور کام کی جگہوں پر ہراساں کرنے کے خلاف ویجیلس کمیٹیاں بنائی جائے تاکہ کام کی جگہوں پر ہراسگی کے واقعات کو ختم کیا جا سکے۔سیمینار سے دیگر خطاب کرنے والوں میں ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن مرکزی رہنما سائرہ فیروز،نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے صدر رفیق بلوچ، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی رہنما شبنم اعظم، گھر مزدور رہنما زاہدہ مختیار، پروین  اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔  رابطہ    03003770755


اپنا تبصرہ بھیجیں