کسی بھی شخص پر الزام ثابت ہونے سے قبل جیل میں رکھنا قانونی نہیں ہے

و زیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ کو تقسیم کرنے کی ایک بار پھر سازش قومی اسمبلی میں بل جمع کر شروع کردی گئی ہے اس لئے میں حکمران جماعت تحریک انصاف اور ان کی حمایتی جماعتوں سے سوال کرتا ہوں کہ وہ اپنا موقف عوام کے سامنے واضح کریں۔ آصف علی زرداری کی ضمانت کے عدلیہ کے فیصلے میں واضح طور پر ججز نے لکھا ہے کہ کسی بھی شخص پر الزام ثابت ہونے سے قبل جیل میں رکھنا قانونی نہیں ہے، اس لئے اس پر کسی ڈیل کا تاثر دینا حماقت سے کم نہیں ہے۔ آئی جی سندھ کی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی آج تک اس سلسلے میں سندھ حکومت کی جانب سے کوئی فیصلہ ہوا ہے البتہ ان کی جانب سے چیف سیکرٹری کو دو افسران کے حوالے سے لکھے گئے خط پر ہمیں شدید تحفظات ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو اپنی کیمپ آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے نائب صدرراشد ربانی،جنرل سیکرٹری وقار مہدی، نائب صدر کراچی سردار خان، ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری کراچی آصف خان، اقبال ساندھ، لالہ رحیم اور دیگر پارٹی کے رہنمائ بھی موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی جانب سے صوبوں کی تقسیم کا بل ہمیں یقین ہے کہ کسی صورت نہ قومی اسمبلی سے منظور ہوگا اور نہ ہی سینیٹ یا صوبائی اسمبلیوں سے منظور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بل ایم کیو ایم ماضی میں بھی سندھ کے عوام کو تقسیم کرنے کی غرض سے لاتی رہے ہے لیکن سندھ سمیت ملک بھر کے عوام سندھ میں صوبوں کی تقسیم کے خلاف ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ آج میں حکمران جماعت تحریک انصاف اور ان کی حامی جماعتوں سے سوال کرتا ہوں کہ وہ اس حوالے سے اپنا واضح موقف عوام کے سامنے پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سندھ دشمنی کی سیاست ہمیشہ سے کرتی آئی ہے اور وہ نفرتوں کی سیاست کو پروان چڑھانے کے لئے اس طرح کی سازشیں کرتی رہتی ہے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ اس وقت آئی جی سندھ کی جانب سے چیف سیکرٹری کو دو افسران کی جانب سے خط کا چرچا عوام میں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس پر کسی قسم کے پریس کانفرنس اور بیان کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن افسوس کہ اس خط کو ہم سے پہلے میڈیا کے ذریعے تشہیر کیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ سندھ حکومت اور پولیس کے مابین کسی قسم کی کوئی کشیدگی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ جن دو افسران کی خدمات سندھ حکومت وفاق کو واپس کررہی ہے، اس کی درخواست وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کو موصول ہوئی ہے اور سندھ حکومت نے اس کے تحت ان دونوں افسران کی خدمات کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں سے ایک افسر خادم رند کے حوالے سے آئی جی سندھ نے ایک سال قبل نومبر 2018 میں سندھ حکومت کو خود لکھا تھا کہ اس کی خدمات کی ہمیں ضرورت نہیں ہے اس لئے اس کو واپس کیا جائے اور آج وہ چیف سیکرٹری کو لکھے گئے خط میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک اہم کام پر متعین ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمیں اب یہ محسوس ہورہا ہے کہ آئی جی سندھ کسی کے ایمائ اور اشاروں پر اس طرح کے خطوط لکھ کر سندھ حکومت اور پولیس کا تماشہ بنا رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ دونوں افسران وفاقی حکومت کی جانب سے خدمات واپس مانگے جانے پر واپس کئے جارہے ہیں جبکہ آئی جی سندھ کے تبادلے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آج جب میں یہ پریس کانفرنس کررہا ہوں اس وقت تک ان کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ ہم عمران نیازی کی نالائق اور نااہل حرکتوں سے خوف زدہ نہیں ہیں تو ہمارے اپنے ماتحت ایک افسر سے کیوں خوف زدہ ہوں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کی باتوں کو نہ ہم سنتے ہیں اور ان کی بات کو کسی قسم کی کوئی اہمیت دیتے ہیں۔ آصف علی زرداری کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ وہ گذشتہ روز کراچی پہنچیں ہیں اور ان کا کراچی کے اسپتال میں ہی علاج ہوگا اور انشائ اللہ وہ جلد صحتیاب ہوکر دوبارہ سیاست میں آئیں گے اور ان کا بیرون ملک علاج کے لئے جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہینڈآوٹ نمبر ۔۔۔(1137 )

       

 
 

            

اپنا تبصرہ بھیجیں