آج کا دن بڑی خوشی کا دن ہے

ڈی جی رینجرز میجر جنرل عمر احمد بخاری نے کہا ہے کہ میرا خیال ہے کہ آج کا دن بڑی خوشی کا دن ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں ، آج میں روز مرہ کے کام چھوڑ کر ہمدرد یونی ورسٹی آیا ہوں جہاں پر پاکستان کے آئی کون شہید حکیم محمد سعید کا ادارہ دیکھنے کا موقع ملا جو میرے لیے سعادت ہے۔ انہوں نے نونہالوں سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس وقت میں آپ کے ساتھ گراﺅنڈ میں موجود ہوں ، مجھے یہاں آنے سے قبل اس چیمپیئن شپ کا قطعی علم نہیں تھا اور نہ ہی مجھے اس کا کوئی اندازہ تھا۔ آپ یقین کریں مجھے یہاں آکر بڑی خوشی ہوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میرا آج کا دن سب سے اچھا گزرا ہے۔ یہ باتیں انہوں نے ہمدرد پبلک اسکول کے زیر اہتمام بلاول اسٹیڈیم مدینتہ الحکمہ میں 21 ویں شہید حکیم محمد سعید یادگاری انٹر اسکول فٹبال چیمپیئن شپ 2019 کے فائنل کی منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر آپ لوگوں کا میچ دیکھ کر ، آپ کا جوش و خروش دیکھ کر مجھے اپنا بچپن یاد آگیا، شاید اس عمر میں آپ کو اندازہ نہیں ہوتا کہ پڑھائی کے علاوہ غیرنصابی سرگرمیاں آپ کی زندگی میں کتنا اہم کردار ادا کرتی ہیں اور اچھا انسان اور کامیاب بنانے میں اس کا بڑا کلیدی کردار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ غیرنصابی سرگرمیوں میں مزید جذبے سے حصہ لیں گے اور اس سے سیکھیں گے۔ میرے بچپن میں زندگی میں اگر کوئی تبدیلی ہوئی تو وہ غیرنصابی سرگرمیوںکے باعث ہوئی، اس نے مجھے یہ سکھایا تھا کہ زندگی میں جدوجہد کیسے کی جاتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ہارنے والی ٹیم ہمدرد ولیج اسکول سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کی آواز Down ہوگئی ہے۔ آپ کی آواز اونچی ہونی چاہیے تھی۔ ہارنے والے کو خاموش نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے دونوں ٹیموں کی زبردست کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگ رہا تھا کہ میں انگلش پریمر لیگ کا میچ دیکھ رہا ہوں۔ اس موقع پر انہوں نے رینجرز کی جانب سے دونوں ٹیموں اور کوچ کے لیے زبردست قسم کی کٹ دینے کا بھی اعلان کیا۔ قبل ازاں ہمدرد پبلک اسکول اور ہمدرد ولیج اسکول کا فائنل میں آمنا سامنا ہوا جوکہ سیمی فائنل میں ہمدرد پبلک اسکول نے ایس ایم ایس آغا خان اسکول کو چارصفر سے اور ہمدرد ولیج اسکول نے الخیر پبلک اسکول کو ایک صفر سے شکست دے کر فائنل میں پہنچی تھیں۔ یاد رہے کہ اس تین روزہ چیمپیئن شپ میں کراچی کے مختلف اسکولوں کی آٹھ ٹیموں نے حصہ لیا تھا جسے ہمدرد پبلک اسکول اور ہمدرد ولیج اسکول نے کوالیفائڈ کر کے فائنل میں پہنچی تھی۔ دونوں ٹیموں نے زبردست کھیل کا مظاہر ہ کیا اور پہلے ہاف تک کسی بھی ٹیم نے کوئی گول نہیں کیا۔ اس طرح دوسرے ہاف کے اختتام پر بھی کوئی گول نہ ہوا۔ آخر میں چار،چار پینلٹی ککس کا آپشن دیا گیا جسے ہمدرد ولیج اسکول نے دوسرے پینلٹی ککس پر ایک گول کر دیا جبکہ ہمدرد پبلک اسکول نے چاروں پینلٹی ککس کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور اس طرح سے مسلسل چار سال تک چیمپیئن شپ کا اعزاز رکھنے والی ٹیم ہمدرد ولیج اسکول کو 4-1 سے شکست دے کر ہمدرد پبلک اسکول نے کامیابی حاصل کی۔ اس موقع پر ہمدرد فاﺅنڈیشن کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے کامیاب ٹیم کے لیے 30 ہزار روپے اور ہارنے والی ٹیم کے لیے 20 ہزار روپے جبکہ ہمدرد یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شبیب الحسن نے 10-10 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا جبکہ وہاں ایک آئے ہوئے مہمان شاہنواز نے دونوں ٹیموں کے کپتانوں کو 5-5 ہزار روپے نقد دیئے۔ آخر میں ڈی جی رینجرز عمر احمد بخاری اور محترمہ سعدیہ راشد نے ہمدرد پبلک اسکول کو ونرٹرافی جبکہ ہمدرد ولیج اسکول کو رنر ٹرافی دی۔ جبکہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو ٹی شرٹ ، ریفری و کوچز کو شیلڈ و اسناد دی گئیں۔ محترمہ سعدیہ راشد نے مہمان خصوصی میجر جنرل عمر احمد بخاری کو عکس مہر نبوی بھی دی۔ آخر میں اسکول کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر خالد نسیم نے مہمان حضرات ، والدین، اساتذہ اور انتظامیہ کو کامیاب چیمپیئن شپ کے انعقاد پر تعریفی کلمات و تشکرات بھی ادا کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں