حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیئے پارٹی کارکنان کمر کس لیں

کراچی ( 13 دسمبر 2019) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیئے پارٹی کارکنان کمر کس لیں اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لیئے تیار ہونا ہوگا۔ “میں 27 دسمبر کو جدوجہد کا نئے سرے سے آغاز کروں گا۔ خبر کردو، ایک اور بھٹو روالپنڈی آ رہا ہے”۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلاول ہاوَس کراچی میں پارٹی کے ورکرز کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پی پی پی چیئرمین نے اپنے خاطاب میں مزید کہا کہ جمہوریت پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ عوام کے سیاسی، جمہوری اور معاشی حقوق نشانے پر ہیں۔ ہم 27 دسمبر کو روالپنڈی میں جمع ہو کر یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آپ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی قتل کردیا، لیکن اس ملک کے عوام اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ سلیکٹڈ حکومت، اور موجود سلیکٹڈ وزیراعظم سمیت کوئی دوسرا سلیکٹڈ حکمران بھی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ضیاء اور مشرف جیسے آمروں کا مقابلہ کیا ہے تو اِن نااہل سلیکٹڈ حکمرانوں کی کیا مجال ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری قانونی جنگ لڑ کر قید سے رہائی حاصل کی ہے۔ سب سے پہلے ان کا علاج کروائیں گے اور پھر ان کی قیادت میں نالائق حکومت کو شکست فاش سے ہمکنار کریں گے۔ تمام صوبوں سمیت وفاق میں بھی عوامی حکومت قائم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی یتیموں کو خواب میں آرہا ہے کہ سندھ میں اب ان کی حکومت آئے گی اور دوسرے صوبوں کی طرح یہاں بھی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ ہوگا، تاکہ صوبے کے حقوق غضب کیئے جائیں۔ لیکن سندھ کی عوام ایسا ہونے نہیں دے گی اور ایسی سازشوں کا مقابلہ کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد کوئٹہ، پشاور اور لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں کا دورہ کریں گے۔ پی پی پی چیئرمین نے کارکنان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں 27 دسمبر کو راولپنڈی میں پہنچنے سے روکنے کے لیئے پوپیگنڈہ سمیت مختلف ہتھکنڈے استعمال اور رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی، لیکن آپ کو ہر صورت راولپنڈی پہنچ کر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔ دریں اثناء، بلاول ہاوَس میں منعقدہ ورکرز کنوینشن میں پی پی پی چیئرمہن کی ہمشیرہ بختاور بھٹو زرداری، نثار احمد کھڑو، قائم علی شاہ، شیری رحمان، مولا بخش چانڈیو، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، منظور وسان، سعید غنی، ضیاء لنجار، شگفتی جمانی، راشد ربانی، وقار مہدی، فیروز جمالی، جاوید نایاب لغاری، منصور شاہانی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔