104

سوچ کا خاتمہ

تحریر ۔۔۔ نغمہ اقتدار

یہ معاملہ صرف ایک شخص فیاض چوہان کو وزارت سے الگ کرنے کا نہیں بلکہ یہ ایک سوچ کے خاتمے کا اعلان ہے جو پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف چل رہا تھا یہ ایک کھلا پیغام ہے کہ اقلیتوں کو نفرت کا نشانہ بنانے والوں کی اب اس ملک میں کوئی جگہ نہیں ہو گی وہ اب محفوظ ہیں ان کو بھی وہی عزت اور احترام قانونی تحفظ حاصل ہو گا جو پاکستان کے مسلمانوں کو ہوگا کیونکہ وہ بھی سچے اور محب وطن پاکستانی ہیں

اعلان ہے جو پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف چل رہا تھا یہ ایک کھلا پیغام ہے کہ اقلیتوں کو نفرت کا نشانہ بنانے والوں کی اب اس ملک میں کوئی جگہ نہیں ہو گی وہ اب محفوظ ہیں ان کو بھی وہی عزت اور احترام قانونی تحفظ حاصل ہو گا جو پاکستان کے مسلمانوں کو ہوگا کیونکہ وہ بھی سچے اور محب وطن پاکستانی ہیں

ان سے زیادہ محب وطن جو برتری کی بنیاد پر اقلیتوں کو نفرت کا نشانہ بناتے رہے اور ملک میں ایک منفی سوچ کو فروغ دیتے رہے ۔فوج میں شامل اشوک کمار جس نے وزیرستان میں انتہا پسندوں کے خلاف لڑتے ہوئے جان دی ۔

دوسری طرف فیاض چوہان نے جس نفرت اور حقارت سے اقلیتوں کے خلاف اپنی تقریر میں زہر اگلا تھا اس کی مذمت ہر اس شخص نے کی جو پاکستان سے محبت کرتا ہے اور محب وطن ہے اور اس ملک کا خیر خواہ ہے البتہ صرف وہ لوگ ہی اس کے اقدام کو ضرور سراہیں گے جن کو اس نفرت سے فائدے ہو رہے ہیں جو گزشتہ چالیس برسوں سے نفرت کا یہ سودا فروخت کر کے اپنے لئے روزگار اور برتری کے مواقع تلاش کر رہے ہیں جن کے لئے زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اقلیتوں کا خاتمہ رہا ہے ۔مگر اب اس سوچ کے حامل عناصر کو یہ پیغام مل گیا ہے کہ بس اب نہیں ۔۔۔ہوش کے ناخن لو اب جنرل ضیا کی پیدا کردہ نفرت کے خاتمے کا آغاز کردیا گیا ہے۔ خود عزت سے رہو اور دوسروں کو بھی عزت سے رہنے دو اور یہ ملک اب سب کا ہے سب مل کر رہیں گے کوئی کسی کو نفرت کا نشانہ نہ بنائے ۔
مذہب کے نام پر اقلیتوں کو ظلم کا نشانہ بنانے ان کی املاک پر قبضہ کرنے ان کی بچیوں کو جبری مذہب تبدیل کرانے اور اپنی ہوس کا نشانہ بنانے جیسے اقدامات کے خاتمے کا آغاز ہوچکا ہے ۔


پاکستان زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں