انٹرنیٹ و کیبل کی بندش کے باوجود کشمیر میں ’دیریلیش ارطغرل‘ دیکھا جانے لگا

ترکی کے شہرہ آفاق تاریخی ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ نے اگرچہ دنیا کے 60 سے زائد ممالک میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں اور جلد ہی پاکستان میں اس ڈرامے کو سرکاری ٹی وی ’پاکستانی ٹیلی وژن‘ (پی ٹی وی) پر اردو میں نشر کیا جائے گا۔

تاہم اس ڈرامے کے حوالے سے تازہ خبر یہ ہے کہ ترکی کے ’گیم آف تھرونز‘ کہلائے جانے والے اس ڈرامے کو مقبوضہ کشمیر میں حد سے زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔

جی ہاں، خبریں ہیں کہ ’دیریلیش ارطغرل‘ کو مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ و کیبل کی پابندی کے باوجود پہلے کے مقابلے زیادہ دیکھا جا رہا ہے جب کہ اس ڈرامے کو اب لوگ اہل خانہ کے ساتھ دیکھنے میں مصروف ہیں۔

بھارتی ویب سائٹ ’دی پرنٹ‘ کے مطابق اگرچہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور وادی میں کیبل پر پاکستان، ترکی اور ایران میں بنائے جانے والے ڈرامے اور فلموں سمیت دوسرے مواد کو دکھانے پر پابندی عائد ہے لیکن اس باوجود ترکی کا ڈراما ’دیریلیش ارطغرل‘ وہاں سب سے زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وادی کشمیر کے افراد اس ڈرامے کی ڈاؤن لوڈ کاپی کو ایک دوسرے کے ساتھ یو ایس بی سمیت دیگر ڈیٹا ڈرائیوز کے ذریعے منتقل کر رہے ہیں اور اس ڈرامے کی اقساط حاصل کرنے والے افراد اسے اپنے اہل خانہ کے ساتھ دیکھ رہے ہیں
واضح رہے کہ اس ڈرامے میں دکھائے گئے ارطغرل نامی سپہ سالار کی وفات کے چند سال بعد ہی ان کے چھوٹے بیٹے ’عثمان‘ نے 13 ویں صدی کے آغاز میں ہی ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا اور مسلمانوں کی یہ عظیم سلطنت تقریبا 600 سال تک 1920 تک قائم رہی۔

سلطنت عثمانیہ کو پہلی جنگ عظیم کے بعد انگریزوں سے سازش کے تحت ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور اسی سلطنت میں موجود کئی علاقے آج دنیا کے نقشے میں آزاد ملک کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں