کراچی لٹریچر فیسٹول صیہونی نواز نام نہاد ادیبہ کو اسٹیج نوازنے سے بال بال بچا:

ہمارا المیہ یہ ہے کہ جو بھی مغرب سے آئے اسے ہم سر آنکھوں پر رکھتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ کراچی لٹریچر فیسٹول کے ساتھ بھی ہوا۔ سفارش شاید کراچی کے گوئٹے انسٹیٹیوٹ کی تھی، اس وقت جرمن ادارے سر سے پیر تک صیہونی حمایت میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ یہ ادیبہ Ronya Othmann’s جن کو کراچی لٹریچر فیسٹول میں جرمن ثقافتی مرکز گوئٹے انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے مدعو کیا گیا تھا یزیدی فرقے کی نسل کشی کے عنوان پر ایک کتاب The Summers کی مصنفہ ہیں جو خود اس نسل کشی کی شاہد نہیں ہیں کیونکہ یہ چالیس برس سے جرمن اور مخلوط النسل ہیں۔ یہ خاتون شدید طور پر اسرائیل کی حامی اور مسلم مخالف ہیں جبکہ انہیں شاید اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں عار ہے کہ ان کی نسل کو آزادی دلانے میں ایران کی حمایتی مسلم ملیشیا نے ہی بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ اچھی بات ہے کہ کراچی لٹریچر فیسٹول نے عین وقت پر ان کا سیشن کینسل کیا ورنہ یہ اس فیسٹول پر ایک سیاہ داغ بن جاتا۔
=============

آکسفورڈ پریس گزشتہ 15 سالوں سے کراچی میں KLF کا انعقاد کر رہا ہے۔ ایک کثیر القومی گروپ جو اربوں کماتا ہے اور نصابی کتابیں اور دیگر کتابیں شائع کرتا ہے۔