غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری


غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔15 سے 19 فروری کے دوران 3ہزار396 مزید افغان شہری اپنے ملک لوٹ گئے۔واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں میں ایک ہزار245 مرد،ایک ہزار 25 خواتین اور ایک ہزار914 بچے شامل تھے۔افغانستان روانگی کے لیے 124 گاڑیوں میں 210 خاندانوں کی اپنے وطن واپسی عمل میں لائی گئی۔19 فروری تک پاکستان چھوڑنے والے غیر قانونی افغان باشندوں کی کل تعداد 4 لاکھ،93 ہزار648 تک پہنچ گئی ۔
==================

برطانیہ کا جوہری آبدوز سے میزائل لانچ کا دوسرا تجربہ بھی ناکام
برطانوی اخبار دی سن نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی جوہری آبدوز ٹرائیڈنٹ میزائل سسٹم لانچ کرنے میں ناکام ہو گئی ہے، ٹرائیڈنٹ میزائل تجربے کے دوران درست انداز سے فائر نہیں ہوا اور آبدوز سے چند گز دور جا کر سمندر میں گر گر تباہ ہوگیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2016ء میں پہلی ناکامی کے بعد یہ میزائل سسٹم کی دوسری ناکامی ہے۔ ہزیمت آمیز بات یہ ہے کہ میزائل لانچ اس وقت ناکام ہوا جب وزیر دفاع گرانٹ شیپس اس تجربے کو دیکھنے کیلئے آبدوز ’’ایچ ایم ایس وین گارڈ‘‘ پر سوار تھے۔
==================

پاکستان کے معدنی وسائل معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں، ماہرین

پاکستان کے معدنی وسائل معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں، ماہرین
اسلام آباد (رپورٹ:حنیف خالد) غیرملکی ماہرین کے مطابق پاکستان کے معدنی وسائل ملکی معیشت کو بہتر بنانے کا موجب بن سکتے ہیں،کالا باغ اور چنیوٹ میں خام لوہے اور کوئلے کے ذخائر 70برس کیلئے کافی ہونگے ۔

قدرت نے کالاباغ اور چنیوٹ کے اضلاع میں خام لوہے اور کوئلے کے اتنے ذخائر دیئے ہیں جو 3000ء تک ملکی ضروریات کیلئے کافی ہونگے۔

پاکستان میں دنیا کی سب سے بڑی کاپر اور سونے کے ذخائر‘ ریکو ڈک، کرومیم، بوکسائٹ (ایلومینیم)، کوبالٹ، یورینیم، لیڈ، گریفائٹ، ٹنگسٹن، کوئلہ، چونے کا پتھر، گرینائٹ، راکسالٹ، سنگ مرمر، فائرکلے اور آئرن آرے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ لوہے کے سوا تمام معدنیات کو غیر ملکی اداروں یا نجی شعبہ کی مدد سے نکالا جا رہا ہے۔ 15سال پہلے پنجاب حکومت کے مائنز اینڈ منرلز کے محکمہ نے پاکستان کو اسٹیل کی پیداوار میں خود کفیل بنانے کی سنجیدہ کوشش شروع کی تھی۔

پنجاب منرل کمپنی کو حکومت نے معمولی بیوروکریٹک طریقہ کار میں درپیش تاخیر کے خاتمے اور آئرن آرے کی تلاش کو تیزی سے آگے بڑھانے کیلئے تشکیل دیا تھا۔

پاکستان کے جیولوجیکل سروے نے پاکستان کے صنعتی ترقی کی کارپوریشن (پی آئی ڈی سی) کے ساتھ مل کر مختلف مقامات پر حکومت یا یو این ڈی پی کی مدد سے معدنی وسائل کی تلاش کیلئے سروے کیا۔

عموماً سطحی مطالعے کے ذریعے معدنیات دریافت کرنے، ٹیسٹ ڈرلنگ کے ذریعے مقام کا تعین کرنے، مقدار اور کوالٹی کا درست اندازہ لگانے اور فیزیبلٹی رپورٹ کی شکل دینے میں 10سے 14سال لگتے ہیں۔