عوامی تھیٹر دختر کشمیر کی رہل سہل آرٹس کونسل کراچی میں جاری ہے۔

کنن پوش پورہ کی متاثرہ خاتون پگلی کے کردار کو دیکھنے والوں کے آنسوؤں نکل آئے۔

تھیٹر 23 فروری کو کنن پوش پورہ کی متاثرہ خواتین کی یاد میں پیش کیا جا رہا ہے۔

کراچی( ) مقبوضہ جموں و کشمیر کی زمینی صورت حال پر مبنی بشیر سدوزئی کا لکھا ہوا عوامی تھیٹر ” دختر کشمیر” کی رہل سہل آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری ہے۔ فن کاروں کو کشمیری معاشرے اور زبان سے جڑے تلفظ محاوروں سے متعلق بھی بتایا جا رہا ہے۔ تھیٹر “دختر کشمیر ” 23 فروری 2024 کو ” یوم حقوق نسواں جموں و کشمیر” کے موقع پر رات 8 بجے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے اوپن ائرتھیٹر میں پیش کیا جائے گا۔ اس رات 1991ء کو بھارتی فوج کی دو یونٹ سے زیادہ فوجیوں نے سری نگر سے 90 کلومیٹر دور دو گاوں کنن پوش پورہ میں 8 سے 80 سال کی عمر کی 100 سے زیادہ خواتین کا اجتماعی ریپ اور مردوں پر تشدد کر کے کئی کو ہلاک کر دیا تھا۔ جموں و کشمیر میں اس روز کو یوم حقوق نسواں منایا جاتا ہے۔ تھیٹر دختر کشمیر میں کنن پوش پورہ کی متاثرہ خاتون” پگلی” کا کردار بہت اہم ہے جو نفسیاتی مریض بن چکی۔ ڈرامہ کے ہر سین میں انٹری دی گئی ہے۔ تھیٹر میں بتایا گیا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کو کس طرح سازش کے ذریعے وادی سے نکال کر بین الاقوامی ایشو بنایا اور بھارتی حکومت نے کس طرح ہاری ہوئی جنگ جیتی، سفارت کاری کے ذریعے مجاہدین سے ہتھیار ڈلوا کر ان پر قابو پایا۔ رہل سہل دیکھنے والے خواتین و حضرات کا کہنا ہے کہ کہانی نویس بشیر سدوزئی نے تھیٹر میں ایسی درد ناک کہانی پیش کی کہ دیکھنے والے کو یوں لگتا ہے کہ وہ سری نگر میں خود موجود ہے تمام مظالم اس کے سامنے ہو رہے ہیں۔ بشیر سدوزئی چوں کہ کشمیری ہے اور مقدمہ کشمیر کے ہر پہلو سے واقف بھی اس لیے تمام جملے اور الفاظ پر بعض اوقات تو سامعین کے آنسوؤں نکل جاتے ہیں۔ شہر میں اس کی بہت پذیرائی ہو رہی ہے۔ توقع ہے کہ اس تھیٹر کو ہزاروں افراد دیکھتے آئیں گے۔