وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میرا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے اور میری اسی جماعت نے ملک کو ایک متفقہ آئین دیا

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میرا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے اور میری اسی جماعت نے ملک کو ایک متفقہ آئین دیا اور اس آئین کے تمہید میں لکھا ہے کہ یہ آئین انسانی حقوق کی بات کرتا ہے اور اسی آئین کے تحت میں نے حلف اٹھایا ہے اور میرا یہ فرض ہے کہ میں انسانی حقوق کا جھنڈا بلند رکھوں۔انہوں نے یہ بات آج مقامی ہوٹل میں پلرز کی جانب سے ہیومن رائٹس کمنٹمنٹس کے حوالے سے چیلنجز اور ان کے حل کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئےکہی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سب سے زیادہ قانون سازی سندھ اسمبلی نے کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت نہ چاہے کوئی قانون پاس نہیں ہوسکتا ہمارا مسئلہ قانون پر عملدرآمد ہے اور ہماری بیوروکریسی اس عملدرآمد کے حوالے سے تربیت یافتہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ منتخب لوگ عوامی نمائندے ہیں جبکہ افسران سرکاری ملازم ہیں۔ہمیں اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انسانی حقوق، ایک انسان دوسرے انسان کو دیتے ہیں اور ہمیں اپنے گریبان میں دیکھنا چاہیے کہ ہم اپنے حقوق صحیح طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج لاہور میں وکلاء مظاہرے میں انہوں نے کس قدر انسانی حقوق کی پاسداری کی، اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم سیاسی تنقید برداشت کرتے ہیں کیونکہ تنقید کرنے والوں کی تو بھڑاس کہیں تو نکلنی ہے، میں تنقید کو دل پر نہیں لیتا ہوں لیکن تنقید کرنے سے پہلے یہ ضرورسوچیں کہ سیاستدان کے بھی انسانی حقوق ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماجدہ رضوی پہلی خاتون جج ہیں اور یہ بھی پیپلز پارٹی کی حکومت میں ہوا۔شہید بی بی نے ہمیشہ انسانی حقوق کی بات کی اور چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی اسی کام کا بیڑہ اٹھایا ہواہے اور انھوں نے اسمبلی میں انسانی حقوق کمیٹی کا چیئرمین بنانا پسند کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی لیڈرشپ طلباء یونین کی بحالی کے لیے پریس کانفرنس کرتی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں 3 ہفتہ پہلے زرداری صاحب سے ملنے گیا تو انھوں نے طلباء یونین بحال کرنے کے قانون کی تیاری میں تاخیر پر خفگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کمیٹی میں بھی نئے آنے والے قانون میں طلباء کو نمائندی دی ہے۔یہ طلباء یونین کا مسودہ لاء اسٹینڈنگ کمیٹی کو جائے گا، جو سب سے مشاورت کرے گی۔میں نے طلباء یونین دیکھیں ہیں جوکہ میرے زمانہ طالب علمی کے دور میں ختم ہوگئیں۔انہوں نے کہا کہ جو نوجوان پڑھ رہے ہیں وہ صرف اسٹیک ہولڈرز نہیں، منفی رائے بھی یونین کے لیے موجود ہے۔تقریر کی آزادی تو ہے لیکن تقریر کے بعد کیا ہوگا اسکی گارنٹی نہیں۔ٹیننسی ایکٹ میں اکاؤنٹنٹ سسٹم کی بات ہے۔1977 میں مارشل لا لگا تومیرے والد جیل چلے گئے تو میں نے زمینیں سنبھالیں۔میں جتنا ہاریوں کے ساتھ بیٹھا ہوں آپ نہیں بیٹھے۔میں انکے ساتھ پورا حساب کتاب کرتا تھا۔اکاؤنٹنگ کے قانون میں باقاعدہ کانٹریکٹ ہوتا ہےجہاں فرق رکھا جاتا ہے ہم اسکو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صحافیوں کے لیے ہم نے یہ بھی شرط لگائی تھی کہ اُن کے اداروں کو ہم جو اشتہارات کی مد میں رقم ادا کررہے ہیں وہ اس میں سے اپنےکارکنوں کو تنخواہیں دیں مگر اخباری مالکان ہمارے ماتحت تو نہیں ہیں لیکن ہمیں تو لگتا ہے کہ ہم انکے ماتحت آگئے ہیں۔نوجوانوں کی اے پی سی کے بارے میں یہ کہوں گا کہ میں اس حوالے سے کوشش کروں گا کہ اس قسم کی کوئی اے پی سی بلائی جائے اور اس پر بحث ہونی چاہیے۔
ٹرانسجینڈر: ہم نے ٹرانسجینڈر کے لیے جو کوٹا رکھا ہے اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ میرٹ پر اپلائی نہ کریں۔
مذہب کی تبدیلی: اس حوالے سے میں یہ دیکھوں گا کہ یہ اختیار حکومت کے پاس ہے یا نہیں۔ہم نے مذہب کی جبراً تبدیلی کا قانون بنایا اس میں 18 سال والی عمر رکھنا غلطی تھی۔
کے سی آر: ہم نے کوشش کی ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے منصوبے میں کسی کو بے گھر نہ کریں اور میں اس حوالے سے صوبائی وزیر بلدیات سے بات کروں گا کہ وہ کے سی آر منصوبے کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کے ساتھ بات کریں اور ان کے مسائل کو سنیں ۔
میڈیا ٹاک:
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تقریب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج زرداری صاحب کو طبی بنیادوں پر ضمانت ملی ہے،یہ کوئی ڈیل نہیں اگر زرداری صاحب سندھ میں ہوتے تو جیل قوانین کے تحت سہولیات لیتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت سب کو چور کہہ کر وقت برباد کررہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سی سی آئی اجلاس کی میٹنگ کا نوٹس آتا ہے دعوت نہیں آتی۔بطور وزیراعلیٰ سندھ میرا فرض ہے کہ اجلاس میں شرکت کروں۔13 ماہ سے سی سی آئی کا اجلاس نہیں بلایا گیا۔پانی کا مسئلہ ہے، کمیٹی کی رپورٹ آگئی ہے اسکی اصلاح سی سی آئی سے کروانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے فنڈز کی کٹوتی ہوئی ہے اور ہمیں اپنے فنڈز سی سی آئی کے ذریعے واپس لینے ہیں۔آئی جی سندھ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ سندھ حکومت کو رپورٹ کرتے ہیں اور سندھ حکومت کی پولیس سے کوئی رسہ کشی نہیں۔مجھے بتائیں کون رسے کو کھینچ رہا ہے۔میں اسکے خلاف کاروائی کروں گا۔دعا منگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پولیس تفتیش کررہی ہے اور پولیس جلد ملوث گینگ کو گرفتار کر لے گی ۔انہوں نے کہا کہ جس دن دعا منگی اغوا ہوئی میں اُس رات سو نہیں سکا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کتے کے کاٹنے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے بچے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ جب بچے کو کتے نے کاٹا تو ہم نے اسے علاج کے لیے فوری طورپر کراچی منتقل کرایا اگر 1 فیصد بھی بچے کا بہتر علاج کہیں بھی ممکن ہو سکتا تو میں اُ س بچے کو وہاں لے جاتا۔ وزئراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں نے لاہور کا واقعہ ٹی وی پر دیکھا ہے جسے دیکھ کر مجھے شدید دیکھ پہنچا ہے ۔مجھے تفصیل کا پتہ نہیں لہٰذا میں اس پر کمنٹ نہیں کروں گا۔پرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہے۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ ، وزیراعلیٰ سندھ