سندھ حکومت نے سی پیک منصوبوں کے تحت تھر کول بلاک کان کنی

سندھ حکومت نے سی پیک منصوبوں کے تحت تھر کول بلاک کان کنی ،1320 میگاواٹ کوئلے سے چلنے والا پاور پروجیکٹ اور گیس کی پیداوار ، یوریا اور ڈیزل شامل ہیں۔ یہ بات آج صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ اور یو کے کی اوراکل کمپنی کے سی ای او محترمہ ناہید میمن کے مابین ہونے والے اجلاس میں بتائی گئی۔صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی کاوشوں سے تھر بلاک VI کو کوئلے تا گیس تا یوریا /کھاد کی پیداوار میں بطور ایک پوٹینشن بلاک کے سی پیک سے متعلقہ جے سی سی کے9ویں اجلاس جو کہ 5 نومبر 2019 کو ہوا تھا میں شامل کیاگیا۔ اجلاس نے تھر بلاک VI کی کول گیسیفیکیشن تا سی پیک کے تحت فرٹیلائزر کے منصوبوں کے لیے شامل کرنے کے عمل کو سراہا اور کہا گیا کہ اس کے لیے ایک فزیبیلیٹی اسٹڈی بھی کرائی جائے ۔بلاک VI تھر کول فیلڈ کا واحد بلاک ہے جہاں پر سی پیک فریم ورک کے تحت 2 ورکنگ گروپس میں کام ہورہاہے؛انرجی ورکنگ گروپ اور آئل اینڈ گیس ورکنگ گروپ نے اسے کوئلے تا گیس کی بنیاد پر زرعی اور فوڈ سیکورٹی پروگرام کے حوالے سے ملک کا ایک فلیگ شپ بلاک بنادیاہے۔اوراکل کی سی ای او محترمہ ناہید میمن نے کہا کہ اوراکل پاور سی ایل سی برطانیہ میں کام کرنے والی ایک کمپنی ہے اور جسے لنڈن اسٹاک ایکسچینج میں ’’اوراکل‘‘ کا نام دیاگیاہے۔سندھ کاربن انرجی لمیٹڈ اوراکل کی سبسڈری کمپنی ہے جوکہ پاکستان میں رجسٹر ہے اور تھر بلاک VI کی 30 سالہ لیز ہولڈر ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پی پی آئی بی کے ساتھ بلاک VI میں 1320 میگاواٹ تھر کے کوئلے سے چلنے والے پروجیکٹ کے طور پر رجسٹر ہے۔ بلاک VI کا رقبہ 66.1 اسکوائر کلومیٹر اور مجموعی طور پر کوئلے کے ذخائر کا تخمینہ 1.4 بلین ٹن ہے۔ جے سی سی فیصلے کی روشنی میں جیسا کہ اوپر بتایاگیاہے کہ سی پیک کے تحت تھر کول سے کوئلے تا گیس منصوبوں میں دلچسپی لی گئی ہے۔اوراکل پی ایل سی چائنا کول انرجی کمپنی جو کہ حکومتی چائنا نیشنل کول گروپ کمپنی لمیٹڈ کی ایک سبسڈری کمپنی ہے جس کے پرائیویٹ آفس کے متحدہ عرب امارات کے ہزہائینیس شیخ احمد دلموک المکتوم کے بالترتیب12 فیصد ، 13 فیصد اور75 فیصد کے شراکتی حصہ داری ہے جس کے ساتھ جوائنٹ ڈیولپمنٹ ایگریمنٹ (جے ڈی اے) کرنے کی خواہاں ہے ۔
سی این سی جی سی ایل چائنا میں کوئلے کی ایک بہت بڑی کمپنی ہے جس کے پاس چائنا میں 70 سے زائد کوئلے کی کانیں ہیں جس کی مجموعی پیداواری گنجائش 300 ملین ٹن سالانہ ہے اور اس کے محفوظ ذخائر 60 بلین ٹن تک ہیں ۔
ناہید میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کے بھر پور تعاون کے نتیجے میں جی ڈی اے کے تحت تھر بلاک VI کو پاکستان کے لیے پاور جنریشن کے حوالے سے بطور نیشنل اسٹرٹیجک اثاثہ تصور کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پُر امید ہیں کہ کوئلے کی کان کنی سے ہم سستی گیس اور ڈیزل کی پیداوار حاصل کرپائیں گے اور اس کے نتیجے میں حکومتی خزانے کو 7.8ایم ٹی پی اے ڈیزل کی سالانہ درآمد پر بچت ہوگی۔ سی ای او نے صوبائی وزیر امتیازشیخ اور محکمہ انرجی کی ٹیم کو 15 دسمبر 2019 کو دبئی میں جی ڈی اے کی دستخطی تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔ اس تقریب میں ہز ایکسیلینسی شیخ المکتوم اور چائنا نیشنل کول گروپ کمپنی لمیٹڈ کی سینئر مینجمنٹ بھی تقریب میں شریک ہوں گے۔
عبدالرشید چنا
میڈیاکنسلٹنٹ ،وزیراعلیٰ سندھ