عوام نے عمران خان پر اعتماد کیا ہے، محمود خان اچکزئی نواز شریف سے معذورت کرتا ہوں، میں ایسے پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بن سکتا۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ کی پریس کانفرنس

) پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ عوام نے عمران خان پر اعتماد کیا ہے۔ کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے معذورت کرتا ہوں میں ایسے پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بن سکتا کیوں کہ عوام نے عمران خان پر اعتماد کیا ہے۔ سینئر سیاستدان کا کہنا ہے کہ میں نے پی ڈی ایم کے سٹیج پر ہر تقریر میں کہا تھا کہ اس تحریک کو عمران دشمنی کی طرف نہ لے جایا جائے، ہمارا مسئلہ عمران خان نہیں بلکہ پاکستان کی تعمیر نو ہے، میں نام نہیں لینا چاہتا کسی کا لیکن میں نے سب سے یہی بات کی تھی۔

اسی طرح اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 47اور 48سے آزاد امیدوار مصطفی نواز کھوکھر نے بھی پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کے لیے آواز اٹھادی، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے عوام کے مینڈیٹ پر دن دیہاڑے ڈاکہ ناقابل قبول ہے، علی بخاری اور شعیب شاہین (جیتنے والے امیدواروں) کی درخواستیں عدالت میں فکس ہونی چاہئیے اور انہیں فوری طور پر سنا جانا چاہیئے، ان کی درخواستوں میں تاخیر اسلام آباد کی آواز کو مسترد کر رہی ہے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں اپنی شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں لیکن یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ پی ٹی آئی کے امیدوار علی بخاری کو حلقہ ۴۸ اسلام آباد کی سیٹ ہرا دی گئی ہے جب کہ وہ واضح جیتے ہوئے تھے اور جن موصوف کو نتیجہ بدل کر جتایا گیا ہے وہ دوڑ میں کہیں بھی نہ تھے، اسی طرح شعیب شاہین بھی حلقہ ۴۷ سے واضح برتری کے ساتھ جیت چکے ہیں لیکن نتائج ان کے بھی حوالے نہیں کئیے جا رہے، یہ بدترین دھاندلی اور آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
===============================

پیپلز پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں کی بلاول بھٹو کو اپوزیشن لیڈر بننے کی تجویز

رہنماؤں کا کہنا ہے کمزور اتحادی حکومت کا حصہ بننے کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھنا بہتر ہے — فائل فوٹو: وزارت خارجہ ایکس

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے بعض سینئر رہنماؤں نے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اپوزیشن لیڈر بننے کی تجویز دے دی۔

پیپلزپارٹی کے چند سینئر رہنماؤں نے بلاول بھٹو زرداری کو کمزور اتحادی حکومت کا حصہ بننے کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز دی ہے۔

ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کمزور اتحادی حکومت کا حصہ بننے کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھنا بہتر ہے۔

پارٹی رہنما فیصل کریم کنڈی نے تجویز دی کہ بلاول بھٹو ایک مستحکم اتحاد میں وزیر اعظم کا عہدہ حاصل نہیں کرتے تو ہمیں اپوزیشن کا انتخاب کرنا چاہیے، ہمیں اپنی پارٹی کو ترجیح دیتے ہوئے اپوزیشن کے عہدے سے عوام کی خدمت جاری رکھنی چاہیے۔

ایک اور رہنما نے ’ایکس‘ پر پوسٹ میں کہا کہ بلاول بھٹو اگر وزیراعظم نہیں بن سکتے تو مضبوط اپوزیشن لیڈر بنیں۔

پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں کو تجاویز کل پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) اجلاس میں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔