پیپلز پارٹی کے بعض سینئر رہنماؤں کی بلاول بھٹو کو اپوزیشن لیڈر بننے کی تجویز


پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے بعض سینئر رہنماؤں نے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اپوزیشن لیڈر بننے کی تجویز دے دی۔

پیپلزپارٹی کے چند سینئر رہنماؤں نے بلاول بھٹو زرداری کو کمزور اتحادی حکومت کا حصہ بننے کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز دی ہے۔

ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کمزور اتحادی حکومت کا حصہ بننے کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھنا بہتر ہے۔

پارٹی رہنما فیصل کریم کنڈی نے تجویز دی کہ بلاول بھٹو ایک مستحکم اتحاد میں وزیر اعظم کا عہدہ حاصل نہیں کرتے تو ہمیں اپوزیشن کا انتخاب کرنا چاہیے، ہمیں اپنی پارٹی کو ترجیح دیتے ہوئے اپوزیشن کے عہدے سے عوام کی خدمت جاری رکھنی چاہیے۔

ایک اور رہنما نے ’ایکس‘ پر پوسٹ میں کہا کہ بلاول بھٹو اگر وزیراعظم نہیں بن سکتے تو مضبوط اپوزیشن لیڈر بنیں۔

پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں کو تجاویز کل پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) اجلاس میں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
============================

مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان حکومت سازی کے حوالے سے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، دونوں جماعتیں اپنی سی ای سی سے مشاورت کے بعد حتمی بات چیت کا آغاز کریں گی۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق مسلم لیگ ن نے حکومت سازی کے لیے رابطوں کے دوران پیپلز پارٹی کو 3 آئینی عہدوں کی پیشکش کی، ن لیگ حکومت بنانے کیلئے پیپلز پارٹی کو صدر، سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ کا عہدہ دینے پر رضامند ہے، اس کے علاوہ ن لیگ نے بلوچستان کی وزارت اعلیٰ کیلئے بھی پیپلز پارٹی کی خواہش پر آمادگی ظاہر کردی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے پنجاب میں بڑے عہدے کی خواہش کا اظہار کیا گیا، جس کے جواب میں ن لیگ نے پنجاب میں پیپلزپارٹی کو ڈپٹی وزیراعلیٰ یا سینئر وزیر کا عہدہ دینے کی پیشکش کی تاہم پیپلز پارٹی نے اب تک پنجاب میں ن لیگ کی دی جانے والی پیشکش پر رضا مندی ظاہر نہیں کی۔

ادھر لاہور میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد کی ن لیگی قیادت سے ملاقات میں حکومت سازی سے متعلق بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوگیا، چند روز میں صورتِ حال واضح ہونے پر باضابطہ بات چیت کا آغاز کیا جائے گا، اس سلسلے میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد نے رائے ونڈ میں مسلم لیگ ن کی قیادت سے ملاقات کی، ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی قیادت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی، اس وفد میں سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار اور سندھ کے سابق گورنر کامران خان ٹیسوری بھی شامل تھے۔

بتایا گیا ہے کہ رائے ونڈ پہنچنے پر سابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کا خیرمقدم کیا، وفد نے مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت سے ملاقات کی، اس موقع پر مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے ایم کیو ایم کے وفد کا مؤقف سنا اور حکومت سازی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا، ملاقات میں حکومت سازی سے متعلق فریقین میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق پایا گیا، دونوں جماعتوں کی قیادت نے رابطے میں رہنے کی اہمیت پر زور دیا۔