اعزازی پاکستانی پاسپورٹ واپس کرتے ہوئے بانیُ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نواسے نسلی واڈیا کا ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس ڈاکٹر شہزاد خان بنگش کے نام خط

اعزازی پاکستانی پاسپورٹ واپس کرتے ہوئے بانیُ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نواسے نسلی واڈیا کا ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس ڈاکٹر شہزاد خان بنگش کے نام خط

گیارہ دسمبر 2019
واڈیا مینشن
14-ٹوٹنہم کورٹ روڈ
لندن W1T3JY
یونائیٹڈ کنگڈم آف گریٹ بریٹن
اینڈ ناردرن آئرلینڈ

محترم بنگش صاحب،

آج صبح ہائیڈ پارک میں معمول کی واک کر کے واپس گھر لوٹا تو میڈ نے ایک پیکٹ تھمایا جس میں آپ کی جانب سے میرے لئے پاکستان کی اعزازی شہریت کا خط اور سبز پاسپورٹ ملا۔سب سے پہلے تو میں آپ کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے اپنے پرس میں بہار دیتے کرنسی نوٹوں پہ جگمگاتے شخص کے نواسے کو اتنے عرصے بعد ہی سہی مگر یاد تو کیا جو ذاتی طور پر آپ کے تاریخی شعور اور اعلیٰ ظرفی کا مظہر ہے مگر میں باوجود کوشش کے خود کو رغبت اور میلان کی اس سطح پر نہیں پاتا کہ یہ شہریت اور پاسپورٹ قبول کر سکوں۔ایسا نہیں ہے کہ میرے ساگوان سے بنے سٹڈی ٹیبل کے دوسرے دراز میں دھرے برٹش اور انڈین پاسپورٹس کیساتھ جگہ نہیں ہے بلکہ پاکستانی پاسپورٹ پہ درج اسرائیل سے نفرت کی عبارت میری حقارت کی وجہُ تسمیہ ہے۔ایسا نہیں ہے کہ میرا پارسی خون مجھے ایران کی نسبت سے یروشلم سے زیادہ قریب کرتا ہے مگر میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہر نماز کے بعد آل ابراہیم پر درود بھیجنے والے پاکستانی مسلمان سلام پھیرنے کے بعد کیا اس عربی منتر کے معنی بھول جاتے ہیں کہ ابھی جن پر درود بھیج کر فارغ ہوئے ہیں اب ان پر آئی ایس آئی_حزب اللہ چینل سے بارود بھیج رہے ہیں۔میری،بلاول اور حسین کی اپنے اپنے نانا سے جو نسبت ہے وہ مجھے اکساتی ہے کہ میں کم از کم اپنے نانا کی زندگی کا مطالعہ نہ نہ کرتے بھی ضرور کروں جو مجھے بتاتا ہے کہ انھوں نے ایک احمدی مسلمان سر ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ تعینات کیا اور آپ نے سات ستمبر 1974 کو احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا حالانکہ مسلمان خود عیسائیوں اور عیسائی یہودیوں کے قادیانی ہیں۔میرے نانا نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج سول حکومت کی ماتحت ہے اور اس کا کام صرف سویلین حکومت کے احکامات کی بجاآوری کرنا ہے مگر آج آپ نے باجوہ ڈاکٹرائن کے نام پر چوکیداروں کو حاکم بنا رکھا ہے اور خود اس برقعے والی کو خاتون اول مانتے ہیں جو بنی گالہ کے محل کی چھت پہ جنوں کو چیل کی بوٹیاں ڈالتی ہے۔کیسی بلندی کیسی پستی کی اس سے بہتر مثال کم از کم مجھے دکھائی نہیں دیتی۔میرے نانا کے دیس میں ڈھاکہ اور سلہٹ تھے۔ہیں آپ کے پاس؟ میرے نانا کے دیس میں شراب خانے دلوں کو گرماتے تھے،آج گرماتے ہیں؟ میرے نانا کے دیس میں لاہور ریلوے سٹیشن پر ہالی وڈ کی بھوانی جنکشن شوٹ ہوتی تھی ،آج ہوتیں ہیں فارن فلمز شوٹ؟ میرے نانا کے دیس میں غیر ملکی سیاح بیچز اور دریاوُں کے کنارے بکنی میں نظر آتے تھے ،کیا آج آتے ہیں؟ میرے نانا کے دیس میں لڑکیاں سلیو لیس شرٹس پہن کر سائیکل پر کالج یونیورسٹی جاتی تھیں ۔آج جاتی ہیں؟ میرے نانا کے دیس میں لاہور کے کرکٹ میچ میں امرتسر سے لوگ بغیر ویزے کے آ سکتے تھے ۔آج آ سکتے ہیں؟ میرے نانا کے دیس میں مدرسے خال خال نظر آتے تھے،آج بال بال نظر آتے ہیں۔میرے نانا کے دیس میں لاپتہ افراد کا تصور بھی محال تھا۔میرے نانا نے جس ڈان اخبار کی بنیاد رکھی آج اسی کو ڈی ایچ اے اور کینٹ کے علاقوں میں سلمان رشدی کی سیٹینک ورسز قرار دے دیا گیا ہے۔میرے نانا سکاچ وہسکی پیتے تھے۔کیوبن سگار سے شغل کرتے تھے۔ہیم برگر کھاتے تھے۔کتوں کو انسان سمجھتے تھے حالانکہ آپ کی اسٹیبلشمنٹ انسانوں کو کتا سمجھتی ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ مال روڈ لاہور پہ واقع نظریہُ پاکستان فاوُنڈیشن والے میرے نانا کو رحمة اللہ علیہ ثابت کرنے پر ہمہ وقت آمادہ رہتے ہیں جس کی وجہ سے آج بھی میرے سامنے کارنس پہ دھری میری ماں دینا واڈیا کی تصویر میں آنکھوں سے آنسو ٹپکتے ہیں۔میرے نانا کے دیس میں کوئی 295-سی نہیں تھی اور جسٹس کارنیلس سے فیصلوں سے قبل ان کا مذہب نہیں پوچھا جاتا تھا ۔آج آپ بائیس کروڑ پاکستانیوں کے پاس سولہ ارب ڈالرز کے ذخائر ہیں اور میں اکیلا سات ارب ڈالر کا مالک ہوں کیونکہ آپ کی فوج عوام کے لئے غداری کے سرٹیفیکیٹس کے علاوہ کچھ چھوڑتی نہیں حالانکہ ان کی اپنی پتلونیں دہلی کے میوزیم میں عبرت کو شرماتی ہیں۔میرے نانا کے دیس میں پولیس والے دن دیہاڑے منٹگمری(ساہیوال) میں خلیل کو نہیں بھون سکتے تھے۔تھانوں میں صلاح الدین کو نہیں مار سکتے تھے اور نہ فوجی جوانوں کو حکومتی ایوانوں کی دیواریں پھلانگنا سکھایا جاتا تھا۔جوان ہندو لڑکیاں بڑھاپے میں بھی ہندو ہی رہتی تھیں اور نہ بینک اکاوُنٹس سے زبردستی زکوٰة کاٹی جاتی تھی۔پاکستانی فلمیں بھارتی فلموں کا مقابلہ کرتی تھیں۔آج بھی کرتی ہیں بشرطیکہ وہ واٹس ایپ پہ شئیر ہوں۔ان تمام عوامل نے مل کر مجھے مجبور کیا کہ یہ اعزازی پاسپورٹ آپ کو لوٹا دوں۔ڈی ایچ ایل کے ذریعے بھیج رہا ہوں اور اس پارسل کا ٹریکنگ نمبر SZX786420 ہے۔کبھی لندن آئیں تو چکر لگائیے گا۔ذاتی طور پر آپ سے مل کر خوشی ہو گی۔

بندہ
نسلی واڈیا

this-was-shared-on-social-media-