پاکستان کا مستقبل تابناک ہے ہمارے نوجوان انتہائی ذہین اور باصلاحیت ہیں

داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی کی جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی کی پیدائش حیدرآباد میں ہوئی اور انہوں نے ابتدائی تعلیم حیدر آباد سے ہی حاصل کی ،مہران انجینئرنگ
یونیورسٹی سے 1975ء میں مکینیکل انجینئرنگ میں گریجویشن کرنے کے بعد وہی سے بطور لیکچرا ر اپنے کیئریئر کا آغاز کیا تاہم اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے برطانیہ چلے گئے جہاں انہوں نے 1980ء میں اسٹریٹھ کلائیڈ یونیورسٹی سے پروڈکشن مینجمنٹ اینڈ مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی میں ماسٹر مکمل کیا جبکہ 1983ء میں شیف فیلڈ سٹی یونیورسٹی میں میٹلرجی میں پی ایچ ڈی مکمل کی ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ مہران یونیورسٹی میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر واپس آئے اور 1985ءمیں انہیں پروفیسر کی پوزیشن تفویض کی گئی ۔ مضبوط تعلیمی پس منظر اور انڈسٹری میں بہترین تجربے کی بنیاد پر انہوں نے 1993ء میں بطور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر العباس شوگر مل کے قیام میں بھرپور کام کیا ۔ ڈاکٹر فیض اللہ عباسی 1995ء سے 1999ء تک سوئی سدرن گیس کمپنی میں ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر تعینات رہے ۔ بعد ازاں وہ امریکا چلے گئے جہاں نے 2001ء سے 2009ء تک میٹل مینوفیکچرنگ کمپنی ٹکسون امریکا میں بطور وائس پریزیڈنٹ خدمات سرانجام دیں ۔ 2010ء میں انہیں پاکستان بلا کر منیجنگ ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس کمپنی بنا دیا گیا جہاں انہوں نے 2سال اس اہم عہدے پر کام کیا ۔ 2011ء کے اواخر میں ڈاکٹر فیض اللہ عباسی دبئی چلے گئے جہاں انہوں نے یو ڈبلیو گروپ آف کمپنیز کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کیا تاہم بعد ازاں انہیں پاکستان واپس بلاکر کراچی کے مرکز میں واقع داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا پہلا وائس چانسلر بنا دیا گیا ۔ ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے 21؍ مارچ 2013ء کو اپنا عہدہ سنبھالا جس کے بعد سے وہ داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کی ترقی کیلئے انتھک جدوجہد کررہےہیں۔


1964ء میں اس وقت کے صدر مملکت فیلڈ مارشل ایوب خان اور کراچی سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیت سیٹھ احمد داؤد نے ’داؤد انجینئرنگ کالج‘ کی بنیاد رکھی ۔ اپنے قیام کے بعد سے ہی داؤد انجینئرنگ کالج پاکستان میں انجینئرنگ کی تعلیم دینے والے بہترین اداروں میں شامل ہوگیا ۔ 1968ء میں داؤد انجینئرنگ کالج سے کیمیکل ، الیکٹرونک اور میٹلرجی انجینئرنگ کا پہلا بیج پڑھ کر گیا جس نے اس وقت پاکستان میںہونے والی صنعتی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ داؤد انجینئرنگ کالج کے المنائی دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں ۔ داؤد انجینئرنگ کالج 2010ء تک وفاقی حکومت کے زیر انتظام چلتا رہا تاہم آئین پاکستان میں 18ویں ترمیم کے بعد 2011ء میں اسے سندھ حکومت کے سپرد کردیا گیا اور 2013ء میں داؤد انجینئرنگ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دے کر اس کانام ’’داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی‘‘ رکھا گیا اور اس کے پہلے وائس چانسلر کے طور پر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی کا انتخاب کیا گیا جو اس وقت سے اس ادارے کی ترقی اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے کام کرر ہے ہیں۔


گزشتہ دنوں داؤد یونیورسٹی میں جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے چیف ایڈیٹر اور کراچی پریس کلب کے سابق صدر سینئر صحافی طاہر حسن خان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے داؤد یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے لے کر اب تک کیے گئے اقدامات اور ان کے اثرات اور نتائج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں یہ درسگاہ اپنے خراب امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے بہت بد نام ہو چکی تھی یہاں مختلف طلبہ گروپوں کے درمیان جھگڑے اور مارپیٹ کے واقعات عام تھے درسگاہ کے دو سربراہان کی موت کے واقعات بھی عجیب سے تھے اس لئے یہاں آنے سے پہلے کوئی بھی شخص کی مرتبہ یہاں آنے کے بارے میں ہے سوچتا تھا جب مجھے یہاں ذمہ داریاں سونپی گئی تو میرے گھر والے بھی ڈرے ہوئے تھے میرے دوستوں نے بھی مجھے مشورہ دیا کہ سوچ سمجھ کر یہاں جانے کا فیصلہ کریں لیکن میں اللہ کا نام لے کر یہاں آیا پہلے دن ہی یہاں پر دو گروپوں کے درمیان جھگڑا دیکھا نوبت مارپیٹ اور پتھراؤ تک پہنچی اور ایک پتھر مجھے بھی آکر لگا ۔

 

اگر اسی روز میں ہی مدھاریاں تھا تو آگے کچھ بھی نہ ہوتا لیکن میں نے اس چیلنج کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا اور یہاں کے حالات بہتر بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیت بروئے کار لانے کا عزم کیا اللہ نے ہمت دی درسگاہ کو ڈسپلن میں لانے کے لیے ضروری اقدامات کئے کچھ جرات مندانہ فیصلے ضروری تھے جن کے نتیجے میں ڈسپلن پیدا ہوا اور اس درسگاہ کے بطور یونیورسٹی نئے سفر کا آغاز نہایت کامیابی اور عمدگی سے کیا وسائل کم تھے مسائل زیادہ تھے لیکن ہم نے کمر بستہ ہو کر حالات کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے فنڈز کی کٹوتی ہوئی فنڈز نہ ہونے کے برابر ہیں ہم نے اپنی مدد آپ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا دستیاب وسائل سے بہتر نتائج حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی ہمارے اساتذہ اور ہمارے ملازمین نے بڑے جذبے کا مظاہرہ کیا ہم نے یونیورسٹی میں نہ صرف عمدہ ڈسپلن قائم کیا بلکہ یہاں پر طلبہ کے لئے بہترین تدریسی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جن کے مثبت اور حوصلہ افزا نتائج مرتب ہوئے ریگولر کلاسز شروع ہوئی اور طلبہ کی دلچسپی اور صحت مندانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہوا آج داود یونیورسٹی میں مورننگ کے ساتھ ساتھ ایوننگ کلاسز کا بھی آغاز ہو چکا ہے اور یہ بات آپ کے لیے حیران کن ہو گی کہ ایوننگ کلاسز میں داخلہ لینے والے طلبہ زیادہ فیس دے رہے ہیں ہم نے تجرباتی طور پر 50 سیٹوں کے لیے ایوننگ پروگرام کے ایڈمیشن کو اوپن کیا تو 500 درخواستیں آئیں یہ بات ہمارے لیے بھی حیران کن اور خوش آئند تھی ۔اب ہم نے ایوننگ پروگرام پر زیادہ توجہ دینی شروع کی ہے تاکہ ایوننگ میں آنے والے طلبہ کو بھی مارننگ کلاسز کے طلبہ کی طرح سہولتیں اور توجہ دی جاسکے ۔

 

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات پر بے حد خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے نوجوان انتہائی باصلاحیت اور ذہین ہیں واقعی ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ان نوجوانوں کو تھوڑے سے وسائل فراہم کردیے جائیں اور مناسب رہنمائی کی جائے تو یہ پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں ۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ میں نے آکسفورڈ میں میٹنگ کے بعد ملنے والے اس مشورے پر عمل کیا کہ ہمیں فوری طور پر کسی توسیع کہ منصوبے پر عمل کرنے کی بجائے موجودہ یونیورسٹی کو بہتر سے بہتر اور مستحکم کرنے پر ہی اپنی تمام توانائیاں خرچ کرنی چاہیے اور یہ فیصلہ ہمارے لیے مفید ثابت ہوا ۔انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ہو یا ڈین ۔سب نے یونیورسٹی کی بہترین اور طلبہ کی رہنمائی کے حوالے سے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کی خدمات انجام دی ہیں اور ہم سب ایک ٹیم بن کر کام کر رہے ہیں میں نے آتے ہی یہ بات سمجھ لی تھی کہ ہمارے طلبا میں بہت پوٹینشل ہے بہت انرجی ہے اس انرجی کو صحیح سمت دینے کی ضرورت محسوس کی تھی اللہ کا شکر ہے کہ اس میں ہم کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں ہماری یونیورسٹی کی لڑکیاں اور لڑکے انتہائی باہمت ذہین اور قابل ہیں اور ہم ان کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کر رہے ہیں میرا رویہ ان کے ساتھ دوستانہ ہیں اور میں انہیں سمجھاتا ہوں کہ آج کے دور میں استاد بچوں کو نہیں پڑھا تھا بچے استاد کو پڑھاتے ہیں آج کی جنریشن ہماری جنریشن سے کافی ایڈوانس ہے ان کے پاس ہاتھوں میں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ایسے آلات ہیں جن کے ذریعے ان کی معلومات کافی بہتر اور تیز رفتار ہے اور وہ نئے نئے آئیڈیاز تخلیق کر سکتے ہیں بطور استاد ہماری یہی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے اسٹوڈنٹ نئے آئیڈیاز لے کر سامنے آئیں ۔اگرچہ طلباء میں جھجھک ہوتی ہے یا وہ اپنے آئیڈیاز کو پیش کرنے میں بعض اوقات ہچکچاتے جاتے ہیں ہم نے ان کی گھبراہٹ ہچکچاہٹ اور جھجک کو دور کرنا ہوتا ہے ان کو اعتماد دینا ہوتا ہے اور ان کے اعتماد میں اضافہ کرنا ہوتا ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ ہماری یونیورسٹی میں ایسی لڑکیاں بھی پڑھ رہی ہیں جو انٹر کے زمانے سے ہی آن لائن بزنس آئیڈیاز پر بھرپور کام کر رہی ہیں اور ان کے اندر خدا داد صلاحیتیں ہیں ۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے لیکن یونیورسٹیوں کے لیے بہت سی مشکلات ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ہی کھڑی کی گئی ہیں اور ایسے بہت سے مسائل ہیں جنہوں نے اعلی تعلیمی صورتحال کا بیڑہ غرق کر رکھا ہے یونیورسٹیوں پر بہت دباؤ ہے ان کے فنڈز کی زبردست کٹوتی کی جاچکی ہے ان پر قواعد و ضوابط کے نام پر کڑی شرائط عائد ہیں اس لیے سرکاری اور نجی شعبے میں یونیورسٹیوں کی کارکردگی اس معیار کی نہیں جس کی ضرورت ہے خود ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ادارہ بہت سی خرابیوں کا ذمہ دار ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ یونیورسٹی آف ریلیونس کی بات سب سے پہلے میں نے ہی کی تھی اور 2013 میں جب میں نے یہ بات اٹھائی تو اس وقت لوگوں کے لیے یہ بالکل ایک نئی بات تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو میری بات کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا اور اب اس پر سب لوگ متفق ہیں اور کام کر رہے ہیں ۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ہم نے پاکستان اسٹیل مل کی بحالی سے لیکر الطور کی اسٹیل مل کو گیس کی فراہمی کی مشکلات کے مسائل کا جائزہ لیا اور ان معاملات میں آگے بڑھنے کی پوری کوشش کی ہے جبکہ داؤد گروپ کے ساتھ ملکر اپنی یونیورسٹی کے طلباء کیلئے نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں داؤد گروپ نے ہی اس اہم درسگاہ کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا تھا اس لئے ہم نے داؤد گروپ کو اپنی مختلف کمپنیوں کے ذریعے یونیورسٹی کے طلباء کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے اور ان کے مستقبل کو تابناک بنانے کیلئے کردار ادا کرنے پر راضی کیا ہے اور مل جل کر آگے بڑھے ہیں انہوں نے بتایا ہے کہ فوری 2020 میں یونیورسٹی کے پلیٹ فارم سے ایک بہت بڑا بریک تھر و سامنے آئے گا بڑے پیمانے پر پروگرام کی تیاری کر رہے ہیں یہ پروگرام اپنی نوعیت کا منفرد اور بے مثال پروگرام ثابت ہوگا اس کی بھرپور کامیابی کیلئے تیاریاں کر رہے ہیں ۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ وائس چانسلر کے دفتر میں پروفیسر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی واحد شخصیت ہیں جنہوں نے کاؤنٹ ڈاؤن یا الٹی گنتی کا منفی دو جرتمندانہ مظاہرہ کر رکھا ہے ان کے دفتر میں ایک گھڑی انہی کے طلبہ نے تیار کرکے لگائی ہے جس میں انہوں نے اپنی مدت ملازمت کے باقی بچ جانے والے دنوں کو گھڑی کے حساب سے آویزاں کر رکھا ہے کہ آپ کتنے دن باقی رہ گئے ہیں ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پروفیسر ڈاکٹر فیض عباسی ایک انتہائی ولولہ انگیز شخصیت کے مالک ہیں ان کی ذہانت قابلیت اور خداداد صلاحیتیں کسی سے پوشیدہ نہیں انہوں نے پاکستان میں ہی نہیں امریکہ میں بھی اپنی ذہانت کابلیت اور کامیابیوں کا جھنڈا گاڑا ہے وہ ایک محنتی اور مخلص پاکستانی ہیں اپنی دھرتی ماں سے پیار کرتے ہیں اپنے ملک کی ترقی اور اپنے نوجوانوں کی بہتری چاہتے ہیں اس سلسلے میں اپنی تمام صلاحیتوں اور توانائیوں کو استعمال میں لا رہے ہیں پاکستان کے بہترین مستقبل اور خوشحال پاکستان کے حوالے سے ان کے خیالات مثبت اور قابل ستائش ہیں وہ پر اعتماد بھی ہیں اور پر عزم بھی۔